بلال بشیربٹ
سری نگر جنگ
سیب کے باغات، زعفران کی کاشت اور قدیم دستکاری کی روایت کے لیے مشہور وادی کشمیر جلد اپنی زرعی شناخت میں ایک اور فصل شامل کر سکتی ہے۔ بھارت کے نامور سائنس دان مختلف موسمی حالات میں قدرتی ربڑ کی کاشت کے تجربات کر رہے ہیں اور اس عمل میں کشمیر ایک ممکنہ نئے خطے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
کیرالہ کے ضلع کوٹایم میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ربڑ ٹریننگ میں کشمیر ویلی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے ایک گروپ سے غیر رسمی گفتگو کے دوران جراثیمی وسائل کے شعبے کے انچارج اور معروف سائنس دان ڈاکٹر سی نارائنن نے روزنامہ سری جنگ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرم اور سرد دونوں موسمی خطوں میں ربڑ کی بیج کاری کے امکانات پر وسیع پیمانے پر تحقیق جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس تحقیق کا مقصد ربڑ کی کاشت کو اس کے روایتی علاقوں کیرالہ، تمل ناڈو اور کرناٹک سے آگے دیگر خطوں تک وسعت دینا ہے۔ کشمیر میں ربڑ کی ممکنہ کاشت نہ صرف درآمدات پر انحصار کم کر سکتی ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔

کشمیر میں ربڑ کی کاشت کی عملی حیثیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر نارائنن نے کہا کہ وادی میں تمام موسموں میں بیج کاری کے امکان کا سائنسی طور پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماہر سائنس دانوں پر مشتمل ٹیمیں ملک بھر میں سروے کر رہی ہیں، جن میں شمالی ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے جیسے ہماچل پردیش، شملہ، لداخ سمیت دیگر خطے شامل ہیں، تاکہ موسمی مطابقت کا اندازہ لگایا جا سکے۔
ڈاکٹر نارائنن کے مطابق جدید تحقیقی کوششوں میں سالماتی مارکرز، جینیاتی تبدیلی کے طریقے اور جنگلی جراثیمی وسائل کا استعمال شامل ہے، جن کا مقصد لیٹیکس اور لکڑی دونوں کی پیداوار کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ربڑ کی افزائش کا عمل طویل المدتی ہوتا ہے، جس میں ہائبرڈائزیشن کے ذریعے جینیاتی تنوع پیدا کیا جاتا ہے، پھر چھوٹے پیمانے پر کلون تجربات، بڑے پیمانے پر کلون تجربات اور مختلف مقامات پر آزمائش کے بعد ایسے اقسام کا انتخاب کیا جاتا ہے جو مختلف ماحولیاتی حالات کے لیے موزوں ہوں۔
اس سے قبل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ربڑ ٹریننگ کوٹایم میں منعقدہ ایک اجلاس میں، جس کی صدارت ربڑ بورڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایم واسنتھاگیسن آئی آر ایس نے کی اور جس میں نرٹ کی ڈائریکٹر ٹریننگ پریا ورما بھی موجود تھیں، ایک پریزنٹیشن کے ذریعے بتایا گیا کہ قدرتی ربڑ ایک اسٹریٹجک صنعتی خام مال ہے۔
لیٹیکس پر مبنی مصنوعات میں دستانے، طبی آلات، فوم، غبارے، کیتھیٹر اور کنڈوم شامل ہیں، جبکہ خشک ربڑ سے تیار ہونے والی مصنوعات میں سائیکل، کار اور ٹرک کے ٹائر، اندرونی ٹیوبیں، بیلٹس، ہوز پائپس، چپلیں اور مختلف آٹو موبائل پرزہ جات شامل ہیں۔ ربڑ تجارتی طور پر مختلف شکلوں میں دستیاب ہے، جن میں شیٹ ربڑ، کریپ ربڑ، مرتکز لیٹیکس اور انڈین اسٹینڈرڈ نیچرل ربڑ شامل ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ بھارتی قدرتی ربڑ کے شعبے سے متعلق اعداد و شمار میں پیداوار اور کھپت کے درمیان مسلسل فرق سامنے آیا ہے۔ سال 2022 اور 23 میں بھارت نے تقریباً آٹھ اعشاریہ انتالیس لاکھ ٹن قدرتی ربڑ پیدا کیا، جبکہ کھپت تیرہ اعشاریہ پانچ لاکھ ٹن سے تجاوز کر گئی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر درآمدات کرنا پڑیں۔
اس موقع پر بھارتھ سسٹین ایبل نیچرل ربڑ پلیٹ فارم کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ ربڑ بورڈ آف انڈیا کے تیار کردہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے یورپی یونین کے ڈیفورسٹیشن ریگولیشن کی تعمیل کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس کے تحت ٹریس ایبلٹی سرٹیفکیٹس، ڈیو ڈیلیجنس ڈیکلریشنز اور جیو لوکیشن ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے، جس سے عالمی منڈیوں کے لیے بھارت کی ربڑ سپلائی چین مضبوط ہوتی ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر سی نارائنن کے علاوہ ڈاکٹر کلا آر جی، انچارج بایوٹیکنالوجی ڈویژن آر آر آئی آئی، ڈاکٹر بندو رائے سینئر سائنس دان پیتھالوجی ڈویژن آر آر آئی آئی، مدھوسودھنن انچارج ربڑ ٹیکنالوجی ڈویژن آر آر آئی آئی سمیت دیگر ماہرین نے بھی صحافیوں سے گفتگو کی۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پریس انفارمیشن بیورو نے رواں ہفتے کے آغاز میں وادیٔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے ایک وفد کو کیرالہ کے دورے کی سہولت فراہم کی، جہاں وہ ربڑ تحقیق اور ترقی سے وابستہ مختلف مرکزی اداروں اور محکموں کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورے کا مقصد صحافیوں کو مختلف شعبوں میں ہونے والی جدید پیش رفت اور ربڑ کے ممکنہ پھیلاؤ سے آگاہ کرنا ہے۔


