عارف شجر
اس حقیقت سے قطعی انکار ممکن نہیں کہ اکیسویں صدی میں انسان کے ہاتھ میں قلم نہیں بلکہ اسکرین ہے، آنکھوں کے سامنے کاغذ نہیں بلکہ روشن پکسلز ہیں، اور خبر، خیال و تخلیق اب کتاب کے ورق سے نکل کر ڈیجیٹل فضا میں گردش کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا نے اظہارِ رائے کو نہ صرف سہل اور تیز بنایا ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر ہمہ گیر بھی کر دیا ہے۔ اب ایک فرد کی آواز لمحوں میں سرحدوں کو عبور کر لیتی ہے، اور خیالات کی ترسیل کسی ادارے یا اشاعتی نظام کی محتاج نہیں رہی۔
مگر اس بظاہر سہل اور روشن منظرنامے کے ساتھ کئی سنجیدہ اور فکر انگیز سوالات بھی جنم لے چکے ہیں۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اظہار کی یہ بے پناہ آزادی معیار کی قربانی تو نہیں؟ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد کی بھرمار نے سنجیدہ تحریر، تحقیق اور فکری تہذیب کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ رفتار اس قدر تیز ہو چکی ہے کہ ٹھہراؤ، غور و فکر اور زبان کی نزاکت کے لیے وقت کم پڑتا جا رہا ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ زبان کا ہے، خصوصاً اردو زبان کا، جو اپنے حسن، شائستگی اور تہذیبی وقار کے لیے جانی جاتی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں اردو اکثر رومن رسم الخط، سطحی جملوں اور لسانی بے احتیاطی کا شکار ہو رہی ہے، جس سے نہ صرف اس کی اصل شناخت مجروح ہوتی ہے بلکہ نئی نسل کا زبان سے رشتہ بھی کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اردو اس برق رفتار ڈیجیٹل دور میں اپنی شناخت اور وقار کو کیسے برقرار رکھے؟ اس کا جواب صرف ٹیکنالوجی کے انکار میں نہیں بلکہ اس کے باشعور اور ذمہ دار استعمال میں پوشیدہ ہے۔ معیاری تحریر، درست رسم الخط، فکری دیانت اور لسانی شعور ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے اردو ڈیجیٹل دنیا میں بھی اپنی آبرو، تاثیر اور تہذیبی عظمت کو برقرار رکھ سکتی ہے۔
یہی وہ فکری اور سماجی پس منظر ہے جس میں “ڈیجیٹل میڈیا: چیلنجز اور مواقع” محض ایک موضوع یا عنوان نہیں رہتا بلکہ موجودہ عہد کی مکمل ذہنی تصویر بن کر سامنے آتا ہے۔ یہ ایک ایسا زمانہ ہے جہاں امکانات اور خطرات ایک ہی اسکرین پر بیک وقت جلوہ گر ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کو وسعت دی ہے، وہیں سنجیدہ فکر، معیاری صحافت اور زبان کی صحت کے لیے نئے سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔
میں ایک ایسے ہی سلگتے ہوئے موضوع کی بات کر رہا ہوں جو آج کے دور میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اسی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لینگویج (NCPUL) نے اس مسئلے پر سنجیدہ غور و فکر کو ضروری سمجھا۔ ادارے کا مقصد صرف بحث برائے بحث نہیں تھا بلکہ ڈیجیٹل میڈیا کی حقیقتوں، اس کے اثرات اور مستقبل کے امکانات کو سامنے لانا تھا، تاکہ اردو زبان و ادب اس بدلتے منظرنامے میں اپنا مقام بہتر طور پر متعین کر سکے۔
اسی سوچ کے تحت این سی پی یو ایل نے بک فیئر کے موقع پر “ڈیجیٹل میڈیا: چیلنجز اور مواقع” کے عنوان سے ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا۔ اس نشست میں ملک کے نامور صحافیوں، ممتاز مفکرین اور سنجیدہ دانشوروں کو مدعو کیا گیا، جنہوں نے ڈیجیٹل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی۔ کہیں اظہار کی آزادی پر بات ہوئی، کہیں ذمہ داری اور اخلاقیات کا سوال اٹھا، اور کہیں اردو زبان کے مستقبل پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
یہ نشست دراصل ایک فکری مکالمہ تھی جس کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا نہ سراسر خطرہ ہے اور نہ ہی مکمل نجات دہندہ، بلکہ یہ ایک طاقتور ذریعہ ہے، جس کا درست اور باشعور استعمال ہی اسے مواقع میں بدل سکتا ہے۔ اردو کے لیے یہی راستہ امید، بقا اور ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔
مجھے یہ بات کہنے دیجئے کہ ورلڈ بک فیئر 2026 میں کتابوں کے درمیان ہونے والا ایک ڈیجیٹل مکالمہ اپنے اندر ایک گہری علامت سموئے ہوئے تھا۔ ایک طرف کتابوں کی خوشبو تھی، ورق پلٹنے کی مدھم آوازیں تھیں، مطالعے میں گم چہرے تھے، اور انہی سب کے درمیان ڈیجیٹل میڈیا پر سنجیدہ گفتگو ہو رہی تھی۔ یہ منظر خود اس عہد کی کہانی سنا رہا تھا جس میں ہم زندہ ہیں، جہاں روایت اور جدیدیت ایک دوسرے کے سامنے نہیں بلکہ ساتھ ساتھ کھڑی ہیں۔
نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لینگویج (NCPUL) کے اسٹال پر منعقد ہونے والا یہ سیمینار دراصل انہی دو دنیاؤں کے درمیان ایک مضبوط پل ثابت ہوا۔ این سی پی یو ایل کا اسٹال ہمیشہ کی طرح اردو زبان و ادب کی فکری سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا، جہاں علمی گفتگو، سنجیدہ سوالات اور زبان کے مستقبل پر غور و فکر کا ماحول موجود تھا۔ اسی علمی اور باوقار فضا میں منعقد ہونے والا یہ سیمینار سنجیدگی، وقار اور فکری گہرائی کا حامل تھا۔
سیمینار میں طلبہ، اساتذہ، صحافی، ادیب اور اردو سے محبت رکھنے والے مختلف طبقات کے افراد شریک تھے۔ سبھی لوگ خاموشی اور پوری توجہ کے ساتھ مقررین کی باتیں سن رہے تھے، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ موضوع وقت کی ایک حقیقی ضرورت بن چکا ہے۔ اس نشست میں بھارت ایکسپریس کے ڈیجیٹل اردو میڈیا کے ایڈیٹر ڈاکٹر خالد رضا خان، سینئر صحافی نسیم نقوی، اشرف بستوی اور یو این آئی کی کنسلٹنگ ایڈیٹر ڈاکٹر شگفتہ یاسمین نے شرکت کی اور ڈیجیٹل میڈیا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
اس فکری نشست میں اگر کسی گفتگو نے سامعین کو گہرائی سے سوچنے پر مجبور کیا تو وہ ڈاکٹر خالد رضا خان کی گفتگو تھی۔ انہوں نے ڈیجیٹل میڈیا کو محض ایک جدید ذریعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی آزمائش کے طور پر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا نے ہر شخص کو بولنے کا حق دے دیا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہم کیا بول رہے ہیں اور کس انداز میں بول رہے ہیں۔
ڈاکٹر خالد رضا خان کے مطابق اردو زبان صدیوں سے شائستگی، تہذیب اور فکری توازن کی علامت رہی ہے، مگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اکثر یہ زبان غلط املا، عجلت پسندی اور غیر سنجیدہ مواد کی نذر ہو جاتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا اردو کے لیے کوئی خطرہ نہیں بلکہ ایک بڑا موقع ہے، بشرطیکہ اس موقع کو ذمہ داری، علم اور تحقیق کے ساتھ استعمال کیا جائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر اردو کے اہلِ قلم اور صحافی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو سنجیدہ فکری اظہار کے لیے اختیار کریں تو اردو عالمی سطح پر اپنی ایک نئی اور مضبوط شناخت قائم کر سکتی ہے۔ نوجوانوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کی نسل کتاب سے زیادہ اسکرین سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے اردو کو نوجوانوں تک پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل انداز کو سمجھنا ناگزیر ہے، لیکن اس کے ساتھ اردو کی روح، اس کی شائستگی اور فکری وقار کو زندہ رکھنا اصل ذمہ داری ہے۔
آخر میں ان کے یہ الفاظ سامعین کے دلوں میں گونجتے رہ گئے کہ
“ڈیجیٹل میڈیا نے ہمیں آواز دی ہے، اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس آواز کو شور بننے دیں یا اسے معنی، مقصد اور شعور سے جوڑیں۔”
سیمینار میں شریک مقررین نے ڈیجیٹل میڈیا کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی، اور ہر گفتگو اپنے اندر ایک الگ فکری زاویہ رکھتی تھی۔ سینئر صحافی نسیم نقوی نے اپنی گفتگو میں خاص طور پر ڈیجیٹل میڈیا کے صحافتی پہلو کو موضوع بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل دور نے خبر کی ترسیل کو بے حد تیز اور آسان بنا دیا ہے۔ آج خبر لمحوں میں ایک موبائل اسکرین سے ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، جو بظاہر ایک بڑی سہولت ہے، لیکن اسی تیزی نے صحافت کے بنیادی اصولوں کو بھی چیلنج کیا ہے۔
نسیم نقوی کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ خبر جلد پہنچ رہی ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ خبر کی تصدیق اور سچائی کا عمل کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا میں مقابلہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اکثر ادارے اور افراد سب سے پہلے خبر دینے کی دوڑ میں تحقیق اور ذمہ داری کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اس رویے سے نہ صرف غلط معلومات پھیلتی ہیں بلکہ عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے، جو کسی بھی صحافت کے لیے سب سے بڑا نقصان ہے۔
انہوں نے اردو ڈیجیٹل صحافت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسے سنسنی خیزی کے بجائے اعتماد کو اپنی پہچان بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق اردو زبان کا وقار محض الفاظ میں نہیں بلکہ اس صحافت میں بھی جھلکتا ہے جو اس زبان میں کی جاتی ہے۔ اگر اردو صحافت سنجیدگی، دیانت اور سچائی کو مقدم رکھے تو وہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی اپنی مضبوط جگہ بنا سکتی ہے۔
اسی نشست میں اشرف بستوی نے اردو ادب اور ڈیجیٹل امکانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور نے اردو ادب کے لیے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ آج آن لائن رسائل، ای بکس اور ڈیجیٹل لائبریریز کے ذریعے اردو ادب دنیا کے کسی بھی کونے تک با آسانی پہنچ رہا ہے۔ وہ ادب جو کبھی مخصوص شہروں یا لائبریریوں تک محدود تھا، اب ایک کلک پر دستیاب ہے۔
اشرف بستوی کے مطابق یہ تبدیلی اردو ادب کے لیے ایک بڑا موقع ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نئی نسل کو ادب سے جوڑا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس کے ساتھ ایک اہم تشویش کا اظہار بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ادب کو محفوظ اور معیاری بنانے کے لیے صرف انفرادی کوششیں کافی نہیں، بلکہ ادارہ جاتی سطح پر ٹھوس اور منظم اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر ڈیجیٹل مواد کی حفاظت، ترتیب اور معیار پر توجہ نہ دی گئی تو قیمتی ادبی سرمایہ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈاکٹر شگفتہ یاسمین کے مطابق روایتی تعلیمی اور تدریسی نظام میں خواتین اساتذہ اور لکھنے والوں کے لیے مواقع اکثر محدود رہے ہیں۔ جگہ، وقت اور سماجی ذمہ داریوں کی وجہ سے بہت سی باصلاحیت خواتین اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہیں کر پاتیں، مگر آن لائن پلیٹ فارمز نے ان رکاوٹوں کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔
بہر حال، آخر میں یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ورلڈ بک فیئر 2026 میں این سی پی یو ایل کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا یہ سیمینار محض ایک رسمی نشست نہیں تھا بلکہ موجودہ دور کے ایک اہم فکری مسئلے پر سنجیدہ مکالمہ تھا۔
ختم شد


