کیایا یہ طاقت کی نئی سوداگری ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت کے ساتھ”تجارتی معاہدہ "محض اعداد و شمار کی تبدیلی نہیں بلکہ عالمی طاقت کی سیاست میں ایک نمایاں موڑ ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف 50 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کرنا اور اس کے بدلے بھارت کا روسی تیل سے دستبردار ہونا بظاہر ایک کامیاب ڈیل دکھائی دیتی ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس سودے میں کس نے زیادہ حاصل کیا اور کس نے زیادہ قربانی دی۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ امریکی جغرافیائی سیاسی ترجیحات کا عکس ہے۔ واشنگٹن کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ بھارت کو روس سے دور اور چین کے مقابل ایک مضبوط شراکت دار بنایا جائے۔ روسی تیل پر پابندی اسی دباؤ کا نتیجہ ہے، جسے اب تجارتی رعایت کے لفافے میں پیش کیا گیا ہے۔
مودی حکومت کے لیے یہ معاہدہ وقتی معاشی راحت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کم ٹیرف بھارتی برآمدات کو امریکی منڈی میں سہولت دے گا، مگر سوال یہ ہے کہ توانائی کی سستی فراہمی سے دستبرداری کی قیمت کون ادا کرے گا۔ روسی تیل نے بھارت کو عالمی توانائی بحران میں سہارا دیا، اب اس سے کنارہ کشی داخلی معیشت پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
یہ کہنا کہ ٹرمپ مودی کے سامنے جھک گئے، حقیقت کی سادہ کاری ہوگی۔ اصل میں یہ جھکاؤ نہیں بلکہ سودے بازی ہے، جس میں امریکہ نے معاشی لالچ کے ذریعے اپنی اسٹریٹجک شرط منوا لی۔ ٹرمپ کی سیاست اصولوں سے زیادہ فائدے کی سیاست ہے، اور بھارت کو رعایت دینا چین اور روس کے خلاف بڑی بساط کا ایک مہرہ ہے۔
یہ معاہدہ عالمی نظام میں اس حقیقت کو پھر اجاگر کرتا ہے کہ طاقت ور ریاستیں اقدار نہیں بلکہ مفادات کی زبان بولتی ہیں۔ آج رعایت دی جا رہی ہے، کل دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون جھکا، سوال یہ ہے کہ اس جھکاؤ کی سمت کس کے مفاد میں ہے، اور اس کی قیمت آنے والے برسوں میں کون ادا کرے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حاملہ خاتون، شوہر اور معصوم بیٹا جاں بحق

  غزہ شہر کے مغربی علاقے میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ...

آج سے امریکہ اور ایران کے بیچ نئے مذاکرات شروع ہوں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے...

مایا جال

  فاضل شفیع بٹ اکنگام، انت ناگ "یار شیدے! میرا سارا کاروبار...

بچوں کی اسلامی تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت

پیر اقبال رشید اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات...

ایامم جاہلیہ کے سات قصیدے (سبعۃ المعلقات)

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی ایامِ جاہلیہ کی شاعری میں ہمیں...

تازہ ترین خبریں

حاملہ خاتون، شوہر اور معصوم بیٹا جاں بحق

  غزہ شہر کے مغربی علاقے میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ...

آج سے امریکہ اور ایران کے بیچ نئے مذاکرات شروع ہوں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے...

مایا جال

  فاضل شفیع بٹ اکنگام، انت ناگ "یار شیدے! میرا سارا کاروبار...

بچوں کی اسلامی تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت

پیر اقبال رشید اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات...

ایامم جاہلیہ کے سات قصیدے (سبعۃ المعلقات)

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی ایامِ جاہلیہ کی شاعری میں ہمیں...

کیایا یہ طاقت کی نئی سوداگری ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت کے ساتھ”تجارتی معاہدہ "محض اعداد و شمار کی تبدیلی نہیں بلکہ عالمی طاقت کی سیاست میں ایک نمایاں موڑ ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف 50 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کرنا اور اس کے بدلے بھارت کا روسی تیل سے دستبردار ہونا بظاہر ایک کامیاب ڈیل دکھائی دیتی ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس سودے میں کس نے زیادہ حاصل کیا اور کس نے زیادہ قربانی دی۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ امریکی جغرافیائی سیاسی ترجیحات کا عکس ہے۔ واشنگٹن کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ بھارت کو روس سے دور اور چین کے مقابل ایک مضبوط شراکت دار بنایا جائے۔ روسی تیل پر پابندی اسی دباؤ کا نتیجہ ہے، جسے اب تجارتی رعایت کے لفافے میں پیش کیا گیا ہے۔
مودی حکومت کے لیے یہ معاہدہ وقتی معاشی راحت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کم ٹیرف بھارتی برآمدات کو امریکی منڈی میں سہولت دے گا، مگر سوال یہ ہے کہ توانائی کی سستی فراہمی سے دستبرداری کی قیمت کون ادا کرے گا۔ روسی تیل نے بھارت کو عالمی توانائی بحران میں سہارا دیا، اب اس سے کنارہ کشی داخلی معیشت پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
یہ کہنا کہ ٹرمپ مودی کے سامنے جھک گئے، حقیقت کی سادہ کاری ہوگی۔ اصل میں یہ جھکاؤ نہیں بلکہ سودے بازی ہے، جس میں امریکہ نے معاشی لالچ کے ذریعے اپنی اسٹریٹجک شرط منوا لی۔ ٹرمپ کی سیاست اصولوں سے زیادہ فائدے کی سیاست ہے، اور بھارت کو رعایت دینا چین اور روس کے خلاف بڑی بساط کا ایک مہرہ ہے۔
یہ معاہدہ عالمی نظام میں اس حقیقت کو پھر اجاگر کرتا ہے کہ طاقت ور ریاستیں اقدار نہیں بلکہ مفادات کی زبان بولتی ہیں۔ آج رعایت دی جا رہی ہے، کل دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون جھکا، سوال یہ ہے کہ اس جھکاؤ کی سمت کس کے مفاد میں ہے، اور اس کی قیمت آنے والے برسوں میں کون ادا کرے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں