پہلی نظر میں اگر مرکزی بجٹ 2026-27 کسی حد تک غیر متاثر کن محسوس ہوتا ہے تو یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے۔ وزیرِ خزانہ نرملا سیتارامن نے اس بار جان بوجھ کر نہ تو ٹیکس میں کسی بڑے ریلیف کا اعلان کیا اور نہ ہی ایسی پالیسی تبدیلیاں پیش کیں جو سرخیوں میں چھا جائیں۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی معیشت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے، حکومت نے تماشے کے بجائے استحکام، اور فوری مقبولیت کے بجائے طویل مدتی حکمتِ عملی کو ترجیح دی ہے۔عالمی سطح پر جغرافیائی کشیدگیاں، تجارتی رکاوٹیں، سست روی کا شکار عالمی نمو اور مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی اس بجٹ کا پس منظر ہیں۔ ایسے ماحول میں بجٹ کا بنیادی مقصد معاشی استحکام کو برقرار رکھنا اور پالیسی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ وقتی خوشی کے اقدامات۔ جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی، بجٹ میں نہ تو ٹیکس دہندگان کے لیے کسی نئی رعایت کا اعلان ہوا، نہ صارفین اور کاروباری طبقے کے لیے کسی فوری مراعاتی پیکج کی پیشکش کی گئی۔ گزشتہ برس ذاتی انکم ٹیکس میں دی گئی نمایاں چھوٹ کے بعد مزید رعایت کی گنجائش محدود ہو چکی تھی۔ اس کے علاوہ وزیرِ خزانہ نے واضح پیغام دیا کہ غیر یقینی عالمی حالات میں مالیاتی پالیسی کو جذباتی یا ردِعمل پر مبنی ہونے کے بجائے محتاط، لچکدار اور نظم و ضبط کا حامل ہونا چاہیے۔بجٹ 2026-27 میں سب سے نمایاں ترجیح مینوفیکچرنگ سیکٹر کو دی گئی ہے، جو فارماسیوٹیکلز، سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرانکس، نایاب معدنی مقناطیس، کیمیکلز، کیپیٹل گڈز، کنٹینرز، ٹیکسٹائل اور اسپورٹس گڈز جیسے وسیع شعبوں پر محیط ہے۔ اس ترجیح کے پیچھے معاشی ہی نہیں بلکہ اسٹریٹجک سوچ بھی کارفرما ہے۔عالمی تجارتی کشیدگی، ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور سپلائی چین کی عالمی ازسرِنو ترتیب ایسے ممالک کے لیے مواقع پیدا کر رہی ہے جو پیمانے، قابلِ اعتماد پیداوار اور مسابقتی لاگت فراہم کر سکتے ہوں۔ بھارت، اپنی بڑھتی ہوئی فری ٹریڈ معاہدوں کی نیٹ ورک اور اندرونی منڈی کی وسعت کے باعث، خود کو ایک قابلِ اعتماد مینوفیکچرنگ حب کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ بجٹ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت قلیل مدتی فائدے کے بجائے طویل مدتی صنعتی خود کفالت پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتی ہے۔ “میڈ اِن انڈیا” اور “اسٹینڈ اَپ انڈیا” جیسے نعروں کو اب عملی شکل دینے کی کوشش نظر آتی ہے، خصوصاً ان شعبوں میں جو قومی سلامتی اور معاشی خودمختاری سے جڑے ہیں، جیسے سیمی کنڈکٹرز اور نایاب معدنیات۔البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ متوسط طبقہ، جو مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے دباؤ میں ہے، اس بجٹ سے کسی فوری ریلیف کی امید لگائے بیٹھا تھا۔ اس تناظر میں بجٹ کو عوامی سطح پر ملا جلا ردِعمل ملا ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں مالی نظم و ضبط سے انحراف مستقبل کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔مجموعی طور پر بجٹ 2026-27 کوئی انقلابی دستاویز نہیں بلکہ ایک محتاط، حقیقت پسندانہ اور سمت متعین کرنے والا بجٹ ہے۔ یہ بجٹ اس بات کا اعلان ہے کہ حکومت فوری داد و تحسین کے بجائے معاشی پائیداری، صنعتی مضبوطی اور عالمی سطح پر بھارت کے کردار کو مستحکم کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ ایسے میں یہ بجٹ کم شور مگر گہری بازگشت رکھنے والا کہا جا سکتا ہے۔جس کے اثرات وقت کے ساتھ زیادہ واضح ہوں گے۔
مرکزی بجٹ :استحکام کی سیاست، تماشے سے گریز
پہلی نظر میں اگر مرکزی بجٹ 2026-27 کسی حد تک غیر متاثر کن محسوس ہوتا ہے تو یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے۔ وزیرِ خزانہ نرملا سیتارامن نے اس بار جان بوجھ کر نہ تو ٹیکس میں کسی بڑے ریلیف کا اعلان کیا اور نہ ہی ایسی پالیسی تبدیلیاں پیش کیں جو سرخیوں میں چھا جائیں۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی معیشت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے، حکومت نے تماشے کے بجائے استحکام، اور فوری مقبولیت کے بجائے طویل مدتی حکمتِ عملی کو ترجیح دی ہے۔عالمی سطح پر جغرافیائی کشیدگیاں، تجارتی رکاوٹیں، سست روی کا شکار عالمی نمو اور مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی اس بجٹ کا پس منظر ہیں۔ ایسے ماحول میں بجٹ کا بنیادی مقصد معاشی استحکام کو برقرار رکھنا اور پالیسی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ وقتی خوشی کے اقدامات۔ جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی، بجٹ میں نہ تو ٹیکس دہندگان کے لیے کسی نئی رعایت کا اعلان ہوا، نہ صارفین اور کاروباری طبقے کے لیے کسی فوری مراعاتی پیکج کی پیشکش کی گئی۔ گزشتہ برس ذاتی انکم ٹیکس میں دی گئی نمایاں چھوٹ کے بعد مزید رعایت کی گنجائش محدود ہو چکی تھی۔ اس کے علاوہ وزیرِ خزانہ نے واضح پیغام دیا کہ غیر یقینی عالمی حالات میں مالیاتی پالیسی کو جذباتی یا ردِعمل پر مبنی ہونے کے بجائے محتاط، لچکدار اور نظم و ضبط کا حامل ہونا چاہیے۔بجٹ 2026-27 میں سب سے نمایاں ترجیح مینوفیکچرنگ سیکٹر کو دی گئی ہے، جو فارماسیوٹیکلز، سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرانکس، نایاب معدنی مقناطیس، کیمیکلز، کیپیٹل گڈز، کنٹینرز، ٹیکسٹائل اور اسپورٹس گڈز جیسے وسیع شعبوں پر محیط ہے۔ اس ترجیح کے پیچھے معاشی ہی نہیں بلکہ اسٹریٹجک سوچ بھی کارفرما ہے۔عالمی تجارتی کشیدگی، ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور سپلائی چین کی عالمی ازسرِنو ترتیب ایسے ممالک کے لیے مواقع پیدا کر رہی ہے جو پیمانے، قابلِ اعتماد پیداوار اور مسابقتی لاگت فراہم کر سکتے ہوں۔ بھارت، اپنی بڑھتی ہوئی فری ٹریڈ معاہدوں کی نیٹ ورک اور اندرونی منڈی کی وسعت کے باعث، خود کو ایک قابلِ اعتماد مینوفیکچرنگ حب کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ بجٹ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت قلیل مدتی فائدے کے بجائے طویل مدتی صنعتی خود کفالت پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتی ہے۔ “میڈ اِن انڈیا” اور “اسٹینڈ اَپ انڈیا” جیسے نعروں کو اب عملی شکل دینے کی کوشش نظر آتی ہے، خصوصاً ان شعبوں میں جو قومی سلامتی اور معاشی خودمختاری سے جڑے ہیں، جیسے سیمی کنڈکٹرز اور نایاب معدنیات۔البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ متوسط طبقہ، جو مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے دباؤ میں ہے، اس بجٹ سے کسی فوری ریلیف کی امید لگائے بیٹھا تھا۔ اس تناظر میں بجٹ کو عوامی سطح پر ملا جلا ردِعمل ملا ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں مالی نظم و ضبط سے انحراف مستقبل کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔مجموعی طور پر بجٹ 2026-27 کوئی انقلابی دستاویز نہیں بلکہ ایک محتاط، حقیقت پسندانہ اور سمت متعین کرنے والا بجٹ ہے۔ یہ بجٹ اس بات کا اعلان ہے کہ حکومت فوری داد و تحسین کے بجائے معاشی پائیداری، صنعتی مضبوطی اور عالمی سطح پر بھارت کے کردار کو مستحکم کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ ایسے میں یہ بجٹ کم شور مگر گہری بازگشت رکھنے والا کہا جا سکتا ہے۔جس کے اثرات وقت کے ساتھ زیادہ واضح ہوں گے۔


