
ہلال بخاری
میری رائے میں اللہ کے الٰہی منصوبے کو سمجھنا ہماری زندگی کے بنیادی مقصد کو سمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ایسی زندگی جس کا کوئی واضح مقصد نہ ہو، درحقیقت بے معنی اور بے سمت ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآنِ مجید کو غور و فکر کے ساتھ پڑھا اور سمجھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ انسانی زندگی ایک بامقصد زندگی ہے۔ میرے فہم کے مطابق قرآنِ مجید الٰہی منصوبے کو یوں بیان کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی مثالی مخلوق پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا جو اس کے فضل سے سرفراز ہو، عقل اور اختیار (Free Will) رکھتی ہو، اور تمام مخلوقات میں اعلیٰ ترین مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ تاہم یہ اعزاز بلا مقصد عطا نہیں کیا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ کاملہ کے تحت فیصلہ فرمایا کہ اس مخلوق کو خصوصی رحمت اور دائمی اجر سے پہلے آزمائش سے گزارا جائے۔
اللہ تعالیٰ جو سب کچھ سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے (سميع بصير)، پہلے ہی جانتا تھا کہ یہ آزمائش نہایت سخت ہوگی۔ وہ جانتا تھا کہ اس میں کامیابی آسان نہ ہوگی، اس کے باوجود اس آزمائش کو اپنی کامل حکمت کا حصہ بنایا:
“کیا وہ جس نے پیدا کیا، نہیں جانتا؟ حالانکہ وہ باریک بین اور خوب خبر رکھنے والا ہے۔”
(الملک 67:14)
اس آزمائش کی اصل نوعیت یہ تھی کہ انسان کو تخلیق کے بعد دنیا کی زندگی میں بھیجا جائے، لیکن اس کی ماقبلِ دنیا زندگی کی یادداشت مٹا دی جائے۔ انسان اللہ سے اپنے براہِ راست تعلق کو یاد کیے بغیر زندگی گزارے، البتہ وحی، ضمیر، اور کائنات میں پھیلی ہوئی نشانیوں کے ذریعے اس کی رہنمائی کی جائے۔
یہ عظیم ذمہ داری دوسری مخلوقات کے سامنے بھی پیش کی گئی، مگر اس کی سنگینی کے باعث انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا:
“ہم نے اس امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بیشک وہ بڑا ظالم اور نادان تھا۔”
(الأحزاب 33:72)
انسان اپنی کمزوریوں کے باوجود اس بھاری امانت کو قبول کر بیٹھا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا فرمایا، جسمانی اور روحانی دونوں اعتبار سے:
“بیشک ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں پیدا کیا۔”
(التین 95:4)
پھر اس عظمت کے باوجود انسان کو دنیا میں کمزوری اور محتاجی کی حالت میں بھیجا گیا، تاکہ عاجزی، جدوجہد اور شعوری انتخاب اس کے اخلاقی سفر کو تشکیل دیں:
“اور اللہ ہی ہے جس نے تمہیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت عطا کی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا۔”
(الروم 30:54)
دنیا میں آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانی روحوں سے ایک پختہ عہد لیا، اور انہیں اپنی ربوبیت پر گواہ بنایا تاکہ کوئی بعد میں لاعلمی کا بہانہ نہ کر سکے:
“اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا اور انہیں خود ان پر گواہ بنایا، (اور فرمایا) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں۔”
(الأعراف 7:172)
یہ ازلی عہد (عہدِ الست) انسانی روح کی گہرائیوں میں پیوست ہے۔ جو لوگ دنیا کی زندگی میں ایمان، غور و فکر اور اطاعت کے ذریعے اس حقیقت کو یاد کر لیتے ہیں، یا اللہ کے نازل کردہ پیغام پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں، وہی اس عہد کو پورا کرنے والے ہیں۔
ایسے ہی لوگ اطمینان اور سکون کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹیں گے، اور یہی لوگ حقیقی اور دائمی کامیابی پائیں گے:
“اے اطمینان پانے والی جان! اپنے رب کی طرف لوٹ چل، اس حال میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ پھر میرے بندوں میں شامل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا۔”
(الفجر 89:27–30)
پس یہ دنیا کی زندگی کوئی سزا نہیں بلکہ یاد دہانی کی ایک آزمائش ہے ایک ایسا سفر جس میں انسان اس سچ کو دوبارہ دریافت کرتا ہے جسے وہ پہلے مان چکا تھا، اور بھول، آزمائشوں اور دنیاوی مصروفیات کے باوجود شعوری طور پر اللہ کو چننے کا فیصلہ کرتا ہے۔ جو اس آزمائش میں کامیاب ہو جائیں گے، وہ ہمیشہ کی سلامتی، نعمت اور اپنے خالق کے قرب سے سرفراز ہوں گے۔
ززز


