عبدالرحمان آزاد:ایک ہمہ جہت شخصیت

 

بشیر اؔطہر

کشمیری ادب کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جو محض شاعر یا ادیب نہیں ہوتیں بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک تحریک کی نمائندہ بن جاتی ہیں۔ عبدالرحمان آزادؔ بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ایک آزاد منش شاعر، گہرے مفکر، بے باک صحافی، سنجیدہ محقق اور باوقار مذہبی مزاج کے حامل انسان تھے۔ ان کی زندگی اور خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادب، صحافت اور سماجی شعور اگر ایک ہی شخصیت میں جمع ہو جائیں تو وہ قوموں کی فکری سمت متعین کر سکتے ہیں۔
عبدالرحمان آزادؔ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی آزاد طبیعت تھی۔ وہ روایت کے اسیر نہیں تھے بلکہ روایت کو سمجھ کر اس سے آگے بڑھنے کے قائل تھے۔ ان کی فکری تشکیل میں برصغیر اور کشمیر کے عظیم مفکرین و شعرا کا گہرا اثر شامل رہا۔ خصوصاً ڈاکٹر علامہ اقبالؔ، عبدالاحد آزادؔ اور مہجورؔ کا مطالعہ ان کی فکری بالیدگی میں سنگِ میل ثابت ہوا۔
اقبالؔ کی خودی، عبدالاحد آزادؔ کی قومی حسیت اور مہجورؔ کی رومانوی و وطنی شاعری نے عبدالرحمان آزادؔ کے شعری مزاج کو وسعت بخشی۔ تاہم انہوں نے ان اثرات کو محض تقلید تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں اپنے فکری سانچے میں ڈھال کر ایک منفرد اسلوب تخلیق کیا۔
عبدالرحمان آزادؔ کی شاعری محض جذبات کی ترجمان نہیں بلکہ فکر کی رہنمائی بھی کرتی ہے۔ ان کے اشعار میں انقلاب محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ سماجی انصاف، انسانی وقار اور اخلاقی بیداری کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔ وہ ظلم، جبر اور استحصال کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور انسان کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہیں۔
ان کی شاعری میں سوال بھی ہے، احتجاج بھی اور امید کی کرن بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری خواص کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی یکساں مقبول رہی۔
کشمیری زبان میں عبدالرحمان آزادؔ کی خدمات نہایت اہم ہیں۔ ان کی کشمیری شاعری کی نمایاں تصانیف “انہار” اور “کریہنہ ماز” ہیں۔ یہ مجموعے محض شعری تخلیقات نہیں بلکہ کشمیری معاشرت، ثقافت اور اجتماعی شعور کی آئینہ داری کرتے ہیں۔
“انہار” میں فکری گہرائی اور فنی پختگی نمایاں ہے، جبکہ “کریہنہ ماز” میں عوامی احساسات اور سماجی تلخیاں بھرپور انداز میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ ان کتابوں نے کشمیری شاعری کو ایک نئی سمت دی اور زبان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارا۔
عبدالرحمان آزادؔ محض شاعر نہیں بلکہ ایک استادِ فن بھی تھے۔ ان کی تحریروں اور تنقیدی آرا سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انہیں زبان، عروض اور شعری روایت پر گہری دسترس حاصل تھی۔ وہ نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور انہیں فکری آزادی کے ساتھ فنی شعور بھی عطا کرتے تھے۔ان کی صحبت میں رہنے والے کئی ادیب و شاعر آج کشمیری ادب میں معتبر نام سمجھے جاتے ہیں۔
عبدالرحمان آزادؔ کی شخصیت کا ایک نہایت اہم پہلو ان کی صحافتی خدمات ہیں۔ وہ ایک مدبر، ایماندار اور نڈر صحافی تھے۔ ان کے ہفت روزہ اخبار “سرچشمۂ حیات” نے کشمیری صحافت میں حق گوئی اور عوامی نمائندگی کی نئی مثال قائم کی۔
یہ اخبار ستر کی دہائی میں متحدہ ضلع اننت ناگ سے شائع ہونے والا پہلا اخبار تھا۔ اس کے ذریعے وہ نہ صرف سیاسی اور سماجی حالات پر بے لاگ تبصرہ کرتے بلکہ مظلوموں کی فریاد بھی ایوانِ اقتدار تک پہنچاتے تھے۔ کئی مرتبہ اخبار پر قدغنیں لگیں، مگر انہوں نے سچ کہنا ترک نہیں کیا۔بعد ازاں کئی وجوہات کی بنا پر یہ اخبار شائع ہونا بند ہو گیا، مگر ان کے نزدیک صحافت محض خبر رسانی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری تھی۔ اس اخبار میں کشمیری زبان کی ترویج کے لیے دو صفحات مستقل طور پر وقف کیے گئے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ کشمیری زبان میں خطوط نگاری کی باقاعدہ ابتدا بھی عبدالرحمان آزادؔ نے ہی کی۔ ان کے خطوط محض ذاتی مکاتبات نہیں بلکہ فکری دستاویزات ہیں جن میں اس عہد کے سیاسی، سماجی اور ادبی حالات کی جھلک ملتی ہے۔
ان خطوط کو بعد ازاں “غبار” کے نام سے کتابی صورت میں شائع کیا گیا، جو آج تحقیق کے لیے ایک مستند ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب ان کی فکری وسعت کے ساتھ ساتھ کشمیری تاریخ و سماج کا بھی معتبر حوالہ ہے۔
عبدالرحمان آزادؔ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا مذہبی رجحان ہے۔ وہ مذہب کو تنگ نظری کے بجائے اخلاقی بالیدگی اور انسانی خدمت کا سرچشمہ سمجھتے تھے۔ ان کی مذہبی نوعیت کی کتاب “یتیم پوتا” اس فکر کی واضح مثال ہے، جس میں مذہبی اقدار کو انسانی ہمدردی اور سماجی انصاف کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔
ان کے نزدیک دین اور دنیا میں کوئی تضاد نہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
عبدالرحمان آزادؔ کو کشمیری زبان کے ساتھ ساتھ اردو پر بھی کامل عبور حاصل تھا۔ اردو میں ان کی تحریریں فکری سنجیدگی اور اسلوبی شائستگی کا نمونہ ہیں، جبکہ کشمیری شاعری میں انہوں نے زبان کی جمالیات کو نئی رفعت عطا کی۔ یہی دو لسانی مہارت انہیں اپنے عہد کے ممتاز اہلِ قلم میں شامل کرتی ہے۔
ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد انعامات سے نوازا گیا۔ خصوصاً کلچرل اکیڈمی کی جانب سے “انہار” اور “غبار” پر دیے گئے اعزازات ان کے فن کی قدر دانی کا واضح ثبوت ہیں۔ تاہم ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز عوامی سطح پر ملنے والی وہ محبت تھی جس نے ان کی شاعری کو دلوں کی آواز بنا دیا۔
عبدالرحمان آزادؔ محض تخلیق کار نہیں بلکہ ایک سنجیدہ محقق اور نقاد بھی تھے۔ وہ ادب کو سماجی شعور کی تشکیل کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی تنقیدی تحریروں میں توازن، دیانت اور فکری گہرائی نمایاں ہے۔ وہ اختلافِ رائے کو برداشت کرتے اور مکالمے پر یقین رکھتے تھے، اسی لیے ان کی تنقید تعمیری اور رہنما ثابت ہوئی۔
عبدالرحمان آزادؔ کی ہمہ جہت شخصیت کشمیری ادب و صحافت کا ایک روشن باب ہے۔ شاعر، مفکر، صحافی، محقق اور مذہبی مفکر،،،،، یہ تمام اوصاف ایک ہی شخصیت میں جمع ہو جائیں تو وہ محض فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ بن جاتی ہے۔
عبدالرحمان آزادؔ نے اپنے قلم، فکر اور کردار کے ذریعے کشمیری سماج کو شعور، جرات اور امید کا پیغام دیا۔ آج ان کی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، مگر ان کا اثر نسلوں تک قائم رہتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

عبدالرحمان آزاد:ایک ہمہ جہت شخصیت

 

بشیر اؔطہر

کشمیری ادب کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جو محض شاعر یا ادیب نہیں ہوتیں بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک تحریک کی نمائندہ بن جاتی ہیں۔ عبدالرحمان آزادؔ بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ایک آزاد منش شاعر، گہرے مفکر، بے باک صحافی، سنجیدہ محقق اور باوقار مذہبی مزاج کے حامل انسان تھے۔ ان کی زندگی اور خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادب، صحافت اور سماجی شعور اگر ایک ہی شخصیت میں جمع ہو جائیں تو وہ قوموں کی فکری سمت متعین کر سکتے ہیں۔
عبدالرحمان آزادؔ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی آزاد طبیعت تھی۔ وہ روایت کے اسیر نہیں تھے بلکہ روایت کو سمجھ کر اس سے آگے بڑھنے کے قائل تھے۔ ان کی فکری تشکیل میں برصغیر اور کشمیر کے عظیم مفکرین و شعرا کا گہرا اثر شامل رہا۔ خصوصاً ڈاکٹر علامہ اقبالؔ، عبدالاحد آزادؔ اور مہجورؔ کا مطالعہ ان کی فکری بالیدگی میں سنگِ میل ثابت ہوا۔
اقبالؔ کی خودی، عبدالاحد آزادؔ کی قومی حسیت اور مہجورؔ کی رومانوی و وطنی شاعری نے عبدالرحمان آزادؔ کے شعری مزاج کو وسعت بخشی۔ تاہم انہوں نے ان اثرات کو محض تقلید تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں اپنے فکری سانچے میں ڈھال کر ایک منفرد اسلوب تخلیق کیا۔
عبدالرحمان آزادؔ کی شاعری محض جذبات کی ترجمان نہیں بلکہ فکر کی رہنمائی بھی کرتی ہے۔ ان کے اشعار میں انقلاب محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ سماجی انصاف، انسانی وقار اور اخلاقی بیداری کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔ وہ ظلم، جبر اور استحصال کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور انسان کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہیں۔
ان کی شاعری میں سوال بھی ہے، احتجاج بھی اور امید کی کرن بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری خواص کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی یکساں مقبول رہی۔
کشمیری زبان میں عبدالرحمان آزادؔ کی خدمات نہایت اہم ہیں۔ ان کی کشمیری شاعری کی نمایاں تصانیف “انہار” اور “کریہنہ ماز” ہیں۔ یہ مجموعے محض شعری تخلیقات نہیں بلکہ کشمیری معاشرت، ثقافت اور اجتماعی شعور کی آئینہ داری کرتے ہیں۔
“انہار” میں فکری گہرائی اور فنی پختگی نمایاں ہے، جبکہ “کریہنہ ماز” میں عوامی احساسات اور سماجی تلخیاں بھرپور انداز میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ ان کتابوں نے کشمیری شاعری کو ایک نئی سمت دی اور زبان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارا۔
عبدالرحمان آزادؔ محض شاعر نہیں بلکہ ایک استادِ فن بھی تھے۔ ان کی تحریروں اور تنقیدی آرا سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انہیں زبان، عروض اور شعری روایت پر گہری دسترس حاصل تھی۔ وہ نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور انہیں فکری آزادی کے ساتھ فنی شعور بھی عطا کرتے تھے۔ان کی صحبت میں رہنے والے کئی ادیب و شاعر آج کشمیری ادب میں معتبر نام سمجھے جاتے ہیں۔
عبدالرحمان آزادؔ کی شخصیت کا ایک نہایت اہم پہلو ان کی صحافتی خدمات ہیں۔ وہ ایک مدبر، ایماندار اور نڈر صحافی تھے۔ ان کے ہفت روزہ اخبار “سرچشمۂ حیات” نے کشمیری صحافت میں حق گوئی اور عوامی نمائندگی کی نئی مثال قائم کی۔
یہ اخبار ستر کی دہائی میں متحدہ ضلع اننت ناگ سے شائع ہونے والا پہلا اخبار تھا۔ اس کے ذریعے وہ نہ صرف سیاسی اور سماجی حالات پر بے لاگ تبصرہ کرتے بلکہ مظلوموں کی فریاد بھی ایوانِ اقتدار تک پہنچاتے تھے۔ کئی مرتبہ اخبار پر قدغنیں لگیں، مگر انہوں نے سچ کہنا ترک نہیں کیا۔بعد ازاں کئی وجوہات کی بنا پر یہ اخبار شائع ہونا بند ہو گیا، مگر ان کے نزدیک صحافت محض خبر رسانی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری تھی۔ اس اخبار میں کشمیری زبان کی ترویج کے لیے دو صفحات مستقل طور پر وقف کیے گئے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ کشمیری زبان میں خطوط نگاری کی باقاعدہ ابتدا بھی عبدالرحمان آزادؔ نے ہی کی۔ ان کے خطوط محض ذاتی مکاتبات نہیں بلکہ فکری دستاویزات ہیں جن میں اس عہد کے سیاسی، سماجی اور ادبی حالات کی جھلک ملتی ہے۔
ان خطوط کو بعد ازاں “غبار” کے نام سے کتابی صورت میں شائع کیا گیا، جو آج تحقیق کے لیے ایک مستند ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب ان کی فکری وسعت کے ساتھ ساتھ کشمیری تاریخ و سماج کا بھی معتبر حوالہ ہے۔
عبدالرحمان آزادؔ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا مذہبی رجحان ہے۔ وہ مذہب کو تنگ نظری کے بجائے اخلاقی بالیدگی اور انسانی خدمت کا سرچشمہ سمجھتے تھے۔ ان کی مذہبی نوعیت کی کتاب “یتیم پوتا” اس فکر کی واضح مثال ہے، جس میں مذہبی اقدار کو انسانی ہمدردی اور سماجی انصاف کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔
ان کے نزدیک دین اور دنیا میں کوئی تضاد نہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
عبدالرحمان آزادؔ کو کشمیری زبان کے ساتھ ساتھ اردو پر بھی کامل عبور حاصل تھا۔ اردو میں ان کی تحریریں فکری سنجیدگی اور اسلوبی شائستگی کا نمونہ ہیں، جبکہ کشمیری شاعری میں انہوں نے زبان کی جمالیات کو نئی رفعت عطا کی۔ یہی دو لسانی مہارت انہیں اپنے عہد کے ممتاز اہلِ قلم میں شامل کرتی ہے۔
ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد انعامات سے نوازا گیا۔ خصوصاً کلچرل اکیڈمی کی جانب سے “انہار” اور “غبار” پر دیے گئے اعزازات ان کے فن کی قدر دانی کا واضح ثبوت ہیں۔ تاہم ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز عوامی سطح پر ملنے والی وہ محبت تھی جس نے ان کی شاعری کو دلوں کی آواز بنا دیا۔
عبدالرحمان آزادؔ محض تخلیق کار نہیں بلکہ ایک سنجیدہ محقق اور نقاد بھی تھے۔ وہ ادب کو سماجی شعور کی تشکیل کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی تنقیدی تحریروں میں توازن، دیانت اور فکری گہرائی نمایاں ہے۔ وہ اختلافِ رائے کو برداشت کرتے اور مکالمے پر یقین رکھتے تھے، اسی لیے ان کی تنقید تعمیری اور رہنما ثابت ہوئی۔
عبدالرحمان آزادؔ کی ہمہ جہت شخصیت کشمیری ادب و صحافت کا ایک روشن باب ہے۔ شاعر، مفکر، صحافی، محقق اور مذہبی مفکر،،،،، یہ تمام اوصاف ایک ہی شخصیت میں جمع ہو جائیں تو وہ محض فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ بن جاتی ہے۔
عبدالرحمان آزادؔ نے اپنے قلم، فکر اور کردار کے ذریعے کشمیری سماج کو شعور، جرات اور امید کا پیغام دیا۔ آج ان کی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، مگر ان کا اثر نسلوں تک قائم رہتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں