بلال بشیر بٹ
نئی دلی/جنگ نیوز/چار سال کے طویل وقفے کے بعد جموں و کشمیر کی جھانکی نے 77ویں یومِ جمہوریہ پریڈ کے موقع پر کرتویہ پاتھ پر شاندار واپسی کرتے ہوئے قومی منظرنامے پر ایک بار پھر اپنی مضبوط موجودگی کا احساس دلایا اور پریڈ کی نمایاں جھلکیوں میں شامل رہی۔
یہ واپسی اس لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی کہ جموں و کشمیر کی جھانکی 2021 میں مکمل طور پر غائب رہی جبکہ اس کے بعد بھی مسلسل تین برسوں تک (2023، 2024 اور 2025) پریڈ میں شامل نہیں ہو سکی، البتہ 2022 میں مختصر طور پر اس کی نمائش ہوئی تھی۔ گزشتہ برس 76ویں یومِ جمہوریہ پریڈ بھی جموں و کشمیر کی جھانکی کے بغیر منعقد ہوئی۔
اس بار جھانکی منظرِ عام پر آتے ہی حاضرین کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ نفیس دھات کاری سے تیار کردہ چمکتا ہوا سماوار اس کا مرکزی استعارہ تھا، جو کشمیری مہمان نوازی اور تہذیبی وقار کی علامت کے طور پر ابھرا۔ اس کے اطراف میں کانی شالیں، ہاتھ سے بنے قالین، اخروٹ کی لکڑی سے تراشے گئے نوادرات اور شوخ رنگوں میں سجی پیپر ماشے کی تخلیقات صدیوں پر محیط دستکاری روایت کی عکاس تھیں۔
تاریخی باسوہلی اسلوب سے متاثر منی ایچر پینٹنگز اور نمایاں کیے گئے زعفران کے پھول جموں و کشمیر کی فنی اور زرعی شناخت کو اجاگر کرتے دکھائی دیے، جس نے جھانکی کو ایک منفرد تہذیبی شناخت عطا کی۔
ثقافتی پیشکش کو رباب، سنتور اور بانسری کی مدھر دھنوں نے مزید روح پرور بنا دیا، جبکہ روایتی لباسوں میں ملبوس فنکاروں نے روف، کُڈ، پہاڑی، بھدرواہی اور گوجری رقص پیش کرتے ہوئے خطے کی ثقافتی تنوع اور اجتماعی روح کی بھرپور ترجمانی کی۔
جموں و کشمیر کی اس شاندار واپسی نے ماضی کی کامیابیوں کی یاد بھی تازہ کر دی، جب اس کی جھانکی نے 1997، 1998، 1999، 2000 اور 2002 میں متعدد بار پہلی پوزیشن حاصل کر کے قومی سطح پر اپنی برتری ثابت کی تھی۔
واضح رہے کہ چیف سیکریٹری جموں و کشمیر، اَتل ڈولو نے 14 جنوری کو کے ایل ساہگل ہال، جموں میں منعقدہ تقریب کے دوران جموں و کشمیر کی جھانکی میں شامل فنکاروں کے دستے کو باضابطہ طور پر روانہ کیا تھا، جو یومِ جمہوریہ پریڈ 2026 میں یونین ٹیریٹری کی نمائندگی کر رہے تھے۔
چار سال بعد ہونے والی یہ واپسی محض ایک ثقافتی نمائش نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی تہذیبی شناخت، فنکارانہ وقار اور قومی منظرنامے میں مضبوط دوبارہ موجودگی کا اعلان تھی۔


