پنجاب کیسری- لالہ لاجپت رائے

بلال بشیر بٹ
سری نگر جنگ

لالہ لاجپت رائے، جو عوام میں پنجاب کیسری کے نام سے مشہور تھے، تاریخی ثلاثی لال-بال-پال کے ایک ممتاز اور اساطیری رکن تھے۔ وہ بال گنگا دھر تلک اور بپن چندر پال کے ہمراہ ان بے باک رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے جارحانہ اور انقلابی بھارتی قوم پرستی کی بنیاد رکھی اور برطانوی نوآبادیاتی اقتدار کو براہِ راست چیلنج کیا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی قوم کی بے لوث خدمت کےلئے وقف کر دی۔
لالہ لاجپت رائے کی پیدائش پنجاب کے ایک تعلیم یافتہ اگروال خاندان میں ہوئی۔ وہ ہندوستان میں احیائی اور تخلیقی تحریک آریہ سماج سے متاثر ہوئے، جس کا مقصد "ویدوں کی طرف لوٹو”کے نعرے کے تحت ویدک تعلیمات کی تجدید تھا۔ آریہ سماج کے پیروکار روایتی "اعتدال پسند”سیاست کی ناکافی حیثیت سے شدید نالاں تھے، جسے وہ "سیاسی بھیک مانگنا”قرار دیتے تھے۔ لالہ لاجپت رائے نے لاہور میں دیانند اینگلو ویدک اسکول کی بنیاد رکھی، جو بعد ازاں قوم پرستانہ فکر اور ثقافتی و سماجی اصلاحات کا مرکز بن گیا۔ مؤرخ آر سی مجمدار کے مطابق یہ ادارہ "مہاتما گاندھی کی سول نافرمانی تحریک کا پیش خیمہ”ثابت ہوا۔
1905 میں بنگال کی تقسیم کے خلاف تحریک کے دوران لالہ لاجپت رائے نمایاں حیثیت کے حامل بن کر ابھرے۔ اس کے بعد وہ برطانوی آئینی اصلاحات کے سخت ناقد بن گئے۔ آزادی کی تحریک میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی سزا کے طور پر 1907 میں انہیں بغیر مقدمہ چلائے منڈالے (موجودہ میانمار) میں نہایت سخت قید کی سزا دی گئی۔ 1920 میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوئے اور بعد ازاں آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کے صدر بھی بنے۔
سنہ 1892 میں لالہ لاہور منتقل ہو گئے۔ یہاں انھوں نے قوم پرست دیانند اینگلو ویدک سکول قائم کرنے میں مدد کی اور دیانند سرسوتی کے پیروکار بن گئے، جو جدید ہندو مت کے ایک اصلاحی فرقے آریہ سماج کے بانی تھے۔
اردو زبان میں اپنے کتابچے: ’غلامی کی علامتیں اور غلامی کے نتائج‘ میں وہ لکھتے ہیں کہ ’میری رائے میں ہر تعلیم یافتہ ہندوستانی کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ انگریزی زبان کے استعمال کو حتی الوسع کم کرتا جائے۔ اردو ہندی کے رسالہ جات منگوایا کرے اور تھوڑا بہت وقت اردو ہندی کے لٹریچر کے پڑھنے میں صرف کرے۔ صرف ان لڑکوں اور لڑکیوں کو انگریزی پڑھانی چاہیے جو پہلے اپنی زبان میں اچھی مہارت و لیاقت پیدا کر لیں۔ ہر ایک کا یہ فرض ہے کہ قومی زبان کو ترقی دے اور غلامی کی اس علامت کو کم از کم اس قدر کم کر دے، جتنا حالات اس کو کم کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔‘
سنہ 1905 میں لالہ انگلستان گئے۔ پنجاب میں سیاسی مظاہروں میں حصہ لینے کے بعد انھیں مئی 1907 میں بغیر مقدمہ چلائے منڈالے، برما (موجودہ میانمار) جلا وطن کر دیا گیا۔ نومبر میں انھیں واپس آنے کی اجازت دی گئی جب وائسرائے لارڈ منٹو نے فیصلہ کیا کہ انھیں بغاوت کے الزام میں پکڑنے کے لیے ثبوت ناکافی ہیں۔
جیل س رہائی کے بعد لالہ سوراج پارٹی میں شامل ہو گئے۔ لالہ ذات پات، جہیز، اچھوت اور دیگر غیر انسانی طور طریقوں کے خلاف تھے۔
پہلی جنگ عظیم کے موقع پر وہ امریکہ چلے گئے۔ شہر نیویارک میں انڈین ہوم رول لیگ آف امریکہ (1917) کی بنیاد رکھی۔ سنہ 1920 کے اوائل میں ہندوستان واپس آئے۔ اسی سال انھوں نے کانگریس کے ایک خصوصی اجلاس کی قیادت کی جس میں موہن داس (مہاتما) گاندھی کی عدم تعاون کی تحریک کی ابتدا ہوئی۔ سنہ 1921 سے سنہ 1923 تک وہ قید رہے اور رہائی پر قانون ساز اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔
تحریکِ عدم تعاون کی ناکامی اور ملک میں فرقہ وارانہ تشدد، خصوصاً کوہاٹ فسادات کے بعد، لالہ لاجپت رائے ہندو مہاسبھا میں سرگرم طور پر شامل ہوئے۔ وہ پہلے ہی ہندو قوم پرستی کے حامی دباؤ گروہ کا حصہ تھے۔ تاہم، ان کی سیاست ساورکر کی ہندوتوا کے سادہ تصور کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ تھی۔ مؤرخہ وانیا ویدھی بھارگو کے مطابق رائے کی سیاست "ایسی پیچیدہ فکری استدلال پر مبنی تھی جو ایک ‘فرقہ وارانہ’ سیاست کو بھی ایک ‘سیکولر’ ہندوستانی قوم کے قیام کے آلے کے طور پر تصور کر سکتی ہے، خواہ یہ کتنا ہی خطرناک کیوں نہ ہو۔”یہ رجحان جزوی طور پر پان اسلامک خلافت تحریک کے ردِعمل میں بھی تھا، کیونکہ دونوں تحریکیں جدید ہندوستان کو دو تہذیبوں کے امتزاج کے بجائے اپنی ناکامی کے طور پر دیکھتی تھیں۔ تاہم، ساورکر کی ہندوتوا کے برعکس، لالہ لاجپت رائے تکثیریت کے قائل تھے، سماجی اصلاحات کے حامی تھے، اور نوآبادیاتی و فرقہ وارانہ خطرات کے مقابلے میں ہندوؤں کے سیاسی و معاشی حقوق کے تحفظ کےلئے کوشاں رہے۔
30 اکتوبر 1928 کو لاہور میں سائمن کمیشن کے خلاف ایک احتجاجی تحریک کی قیادت کے دوران مظاہرین پر شدید تشدد کیا گیا، جس میں لالہ لاجپت رائے مہلک طور پر زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے کے باوجود، انہوں نے اسی شام مجمع سے خطاب کرتے ہوئے تاریخی الفاظ کہے:
"میں اعلان کرتا ہوں کہ آج مجھ پر پڑنے والی ضربیں ہندوستان میں برطانوی اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گی۔
وہ 18 دن بعد 17 نومبر 1928 کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ تاہم، ان کی شہادت نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو جیسے انقلابیوں کو مزید شدت کے ساتھ متحرک کیا اور ایسے واقعات کا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جان پی سانڈرز کا قتل اور بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی پھانسی واقع ہوئی۔
زاہد چودھری اپنی کتاب ’پاکستان کی سیاسی تاریخ‘ میں لکھتے ہیں کہ لالہ لجپت رائے نے سنہ 1924 میں لاہور کے ایک اخبار ’ٹربیون‘ میں ایک مضمون لکھا تھا۔ اس مضمون میں پہلی مرتبہ برصغیر کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔
اس منصوبے کے مطابق ’مسلمانوں کی چار ریاستیں ہوں گی، صوبہ سرحد، مغربی پنجاب، سندھ اور مشرقی بنگال۔ اگر ہندوستان کے کسی اور علاقے میں مسلمانوں کی اتنی تعداد یکجا ہو کہ ان کا صوبہ بن سکے تو ان کی بھی اسی طرح تشکیل ہونی چاہیے لیکن یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ یہ متحدہ ہندوستان نہیں ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان واضح طور پر مسلم انڈیا اور غیر مسلم انڈیا میں تقسیم ہو گا۔‘
سنہ 1928 میں انھوں نے آئینی اصلاحات پر برطانوی سائمن کمیشن کے بائیکاٹ کےلئے قانون ساز اسمبلی میں قرارداد پیش کی۔ بانی پاکستان محمد علی جناح نے بھی کمیشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔ 30 اکتوبر کو سائمن کمیشن کے خلاف لاہور ریلوے سٹیشن پر احتجاج کےلئے ہزاروں لوگوں کا اجتماع تھا، جس کی قیادت کانگریسی رہنما لالہ لجپت رائے کر رہے تھے۔
لاجپت رائے پکے ہندو اور کٹر مہا سبھائی تھے ۔ ان کا کانگریس کے صف اول کے نیتائوں میں شمار ہوتا تھا ۔ وہ سیاسی عقائد کے لحاظ سے تلک جانشین تھے ۔ لالہ لاجپت رائے نے تجویز پیش کی کہ شمالی مغربی ہند کے مسلم اکثریت کے علاقے برصغیر سے الگ کر دیے جائیں ۔
پولیس کے لاٹھی چارج میں لالہ شدید زخمی ہو گئے اور 17 نومبر 1928 میں زخموں اور دل کے دورے کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

 

اس مضمون کا ویب سائٹ پر مطالعہ کرنے کے لیے کیو آر کوڈ اسکین کریں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

پنجاب کیسری- لالہ لاجپت رائے

بلال بشیر بٹ
سری نگر جنگ

لالہ لاجپت رائے، جو عوام میں پنجاب کیسری کے نام سے مشہور تھے، تاریخی ثلاثی لال-بال-پال کے ایک ممتاز اور اساطیری رکن تھے۔ وہ بال گنگا دھر تلک اور بپن چندر پال کے ہمراہ ان بے باک رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے جارحانہ اور انقلابی بھارتی قوم پرستی کی بنیاد رکھی اور برطانوی نوآبادیاتی اقتدار کو براہِ راست چیلنج کیا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی قوم کی بے لوث خدمت کےلئے وقف کر دی۔
لالہ لاجپت رائے کی پیدائش پنجاب کے ایک تعلیم یافتہ اگروال خاندان میں ہوئی۔ وہ ہندوستان میں احیائی اور تخلیقی تحریک آریہ سماج سے متاثر ہوئے، جس کا مقصد "ویدوں کی طرف لوٹو”کے نعرے کے تحت ویدک تعلیمات کی تجدید تھا۔ آریہ سماج کے پیروکار روایتی "اعتدال پسند”سیاست کی ناکافی حیثیت سے شدید نالاں تھے، جسے وہ "سیاسی بھیک مانگنا”قرار دیتے تھے۔ لالہ لاجپت رائے نے لاہور میں دیانند اینگلو ویدک اسکول کی بنیاد رکھی، جو بعد ازاں قوم پرستانہ فکر اور ثقافتی و سماجی اصلاحات کا مرکز بن گیا۔ مؤرخ آر سی مجمدار کے مطابق یہ ادارہ "مہاتما گاندھی کی سول نافرمانی تحریک کا پیش خیمہ”ثابت ہوا۔
1905 میں بنگال کی تقسیم کے خلاف تحریک کے دوران لالہ لاجپت رائے نمایاں حیثیت کے حامل بن کر ابھرے۔ اس کے بعد وہ برطانوی آئینی اصلاحات کے سخت ناقد بن گئے۔ آزادی کی تحریک میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی سزا کے طور پر 1907 میں انہیں بغیر مقدمہ چلائے منڈالے (موجودہ میانمار) میں نہایت سخت قید کی سزا دی گئی۔ 1920 میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوئے اور بعد ازاں آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کے صدر بھی بنے۔
سنہ 1892 میں لالہ لاہور منتقل ہو گئے۔ یہاں انھوں نے قوم پرست دیانند اینگلو ویدک سکول قائم کرنے میں مدد کی اور دیانند سرسوتی کے پیروکار بن گئے، جو جدید ہندو مت کے ایک اصلاحی فرقے آریہ سماج کے بانی تھے۔
اردو زبان میں اپنے کتابچے: ’غلامی کی علامتیں اور غلامی کے نتائج‘ میں وہ لکھتے ہیں کہ ’میری رائے میں ہر تعلیم یافتہ ہندوستانی کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ انگریزی زبان کے استعمال کو حتی الوسع کم کرتا جائے۔ اردو ہندی کے رسالہ جات منگوایا کرے اور تھوڑا بہت وقت اردو ہندی کے لٹریچر کے پڑھنے میں صرف کرے۔ صرف ان لڑکوں اور لڑکیوں کو انگریزی پڑھانی چاہیے جو پہلے اپنی زبان میں اچھی مہارت و لیاقت پیدا کر لیں۔ ہر ایک کا یہ فرض ہے کہ قومی زبان کو ترقی دے اور غلامی کی اس علامت کو کم از کم اس قدر کم کر دے، جتنا حالات اس کو کم کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔‘
سنہ 1905 میں لالہ انگلستان گئے۔ پنجاب میں سیاسی مظاہروں میں حصہ لینے کے بعد انھیں مئی 1907 میں بغیر مقدمہ چلائے منڈالے، برما (موجودہ میانمار) جلا وطن کر دیا گیا۔ نومبر میں انھیں واپس آنے کی اجازت دی گئی جب وائسرائے لارڈ منٹو نے فیصلہ کیا کہ انھیں بغاوت کے الزام میں پکڑنے کے لیے ثبوت ناکافی ہیں۔
جیل س رہائی کے بعد لالہ سوراج پارٹی میں شامل ہو گئے۔ لالہ ذات پات، جہیز، اچھوت اور دیگر غیر انسانی طور طریقوں کے خلاف تھے۔
پہلی جنگ عظیم کے موقع پر وہ امریکہ چلے گئے۔ شہر نیویارک میں انڈین ہوم رول لیگ آف امریکہ (1917) کی بنیاد رکھی۔ سنہ 1920 کے اوائل میں ہندوستان واپس آئے۔ اسی سال انھوں نے کانگریس کے ایک خصوصی اجلاس کی قیادت کی جس میں موہن داس (مہاتما) گاندھی کی عدم تعاون کی تحریک کی ابتدا ہوئی۔ سنہ 1921 سے سنہ 1923 تک وہ قید رہے اور رہائی پر قانون ساز اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔
تحریکِ عدم تعاون کی ناکامی اور ملک میں فرقہ وارانہ تشدد، خصوصاً کوہاٹ فسادات کے بعد، لالہ لاجپت رائے ہندو مہاسبھا میں سرگرم طور پر شامل ہوئے۔ وہ پہلے ہی ہندو قوم پرستی کے حامی دباؤ گروہ کا حصہ تھے۔ تاہم، ان کی سیاست ساورکر کی ہندوتوا کے سادہ تصور کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ تھی۔ مؤرخہ وانیا ویدھی بھارگو کے مطابق رائے کی سیاست "ایسی پیچیدہ فکری استدلال پر مبنی تھی جو ایک ‘فرقہ وارانہ’ سیاست کو بھی ایک ‘سیکولر’ ہندوستانی قوم کے قیام کے آلے کے طور پر تصور کر سکتی ہے، خواہ یہ کتنا ہی خطرناک کیوں نہ ہو۔”یہ رجحان جزوی طور پر پان اسلامک خلافت تحریک کے ردِعمل میں بھی تھا، کیونکہ دونوں تحریکیں جدید ہندوستان کو دو تہذیبوں کے امتزاج کے بجائے اپنی ناکامی کے طور پر دیکھتی تھیں۔ تاہم، ساورکر کی ہندوتوا کے برعکس، لالہ لاجپت رائے تکثیریت کے قائل تھے، سماجی اصلاحات کے حامی تھے، اور نوآبادیاتی و فرقہ وارانہ خطرات کے مقابلے میں ہندوؤں کے سیاسی و معاشی حقوق کے تحفظ کےلئے کوشاں رہے۔
30 اکتوبر 1928 کو لاہور میں سائمن کمیشن کے خلاف ایک احتجاجی تحریک کی قیادت کے دوران مظاہرین پر شدید تشدد کیا گیا، جس میں لالہ لاجپت رائے مہلک طور پر زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے کے باوجود، انہوں نے اسی شام مجمع سے خطاب کرتے ہوئے تاریخی الفاظ کہے:
"میں اعلان کرتا ہوں کہ آج مجھ پر پڑنے والی ضربیں ہندوستان میں برطانوی اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گی۔
وہ 18 دن بعد 17 نومبر 1928 کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ تاہم، ان کی شہادت نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو جیسے انقلابیوں کو مزید شدت کے ساتھ متحرک کیا اور ایسے واقعات کا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جان پی سانڈرز کا قتل اور بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی پھانسی واقع ہوئی۔
زاہد چودھری اپنی کتاب ’پاکستان کی سیاسی تاریخ‘ میں لکھتے ہیں کہ لالہ لجپت رائے نے سنہ 1924 میں لاہور کے ایک اخبار ’ٹربیون‘ میں ایک مضمون لکھا تھا۔ اس مضمون میں پہلی مرتبہ برصغیر کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔
اس منصوبے کے مطابق ’مسلمانوں کی چار ریاستیں ہوں گی، صوبہ سرحد، مغربی پنجاب، سندھ اور مشرقی بنگال۔ اگر ہندوستان کے کسی اور علاقے میں مسلمانوں کی اتنی تعداد یکجا ہو کہ ان کا صوبہ بن سکے تو ان کی بھی اسی طرح تشکیل ہونی چاہیے لیکن یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ یہ متحدہ ہندوستان نہیں ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان واضح طور پر مسلم انڈیا اور غیر مسلم انڈیا میں تقسیم ہو گا۔‘
سنہ 1928 میں انھوں نے آئینی اصلاحات پر برطانوی سائمن کمیشن کے بائیکاٹ کےلئے قانون ساز اسمبلی میں قرارداد پیش کی۔ بانی پاکستان محمد علی جناح نے بھی کمیشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔ 30 اکتوبر کو سائمن کمیشن کے خلاف لاہور ریلوے سٹیشن پر احتجاج کےلئے ہزاروں لوگوں کا اجتماع تھا، جس کی قیادت کانگریسی رہنما لالہ لجپت رائے کر رہے تھے۔
لاجپت رائے پکے ہندو اور کٹر مہا سبھائی تھے ۔ ان کا کانگریس کے صف اول کے نیتائوں میں شمار ہوتا تھا ۔ وہ سیاسی عقائد کے لحاظ سے تلک جانشین تھے ۔ لالہ لاجپت رائے نے تجویز پیش کی کہ شمالی مغربی ہند کے مسلم اکثریت کے علاقے برصغیر سے الگ کر دیے جائیں ۔
پولیس کے لاٹھی چارج میں لالہ شدید زخمی ہو گئے اور 17 نومبر 1928 میں زخموں اور دل کے دورے کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

 

اس مضمون کا ویب سائٹ پر مطالعہ کرنے کے لیے کیو آر کوڈ اسکین کریں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں