جنگ فیچر
ہندوستان کی تحریک آزادی کی تاریخ میں کئی عظیم شخصیات کے نام جگمگاتے ہیں، مگر سبھاش چندر بوس ان رہنماؤں میں منفرد مقام رکھتے ہیں جن کی زندگی جرات، قربانی اور غیر متزلزل عزم کی علامت بن گئی۔ ان کی برسی کے موقع پر قوم صرف ایک سیاسی رہنما کو نہیں، بلکہ ایک ایسے انقلابی مدبر کو یاد کرتی ہے جس نے اپنی پوری زندگی ہندوستان کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے کے لیے وقف کر دی۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس بے خوف قوم پرستی، فکری گہرائی اور آزادی کے لیے ہر حد تک جانے کے عزم کی زندہ مثال ہیں۔
سبھاش چندر بوس 23 جنوری 1897 کو کٹک، اڈیشہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں نظم و ضبط، تعلیم اور اخلاقی اقدار کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ ان کی ذہانت اور قابلیت کا اظہار ان کی تعلیمی کامیابیوں سے ہوا، حتیٰ کہ انہوں نے انگلستان میں انڈین سول سروس کا امتحان بھی کامیابی سے پاس کیا۔ اس دور میں یہ عہدہ عزت، وقار اور محفوظ مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، مگر بوس نے شعوری طور پر اس سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کا یہ فیصلہ وقتی جذبے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک گہرے نظریاتی شعور کی عکاسی تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک غلام قوم کی آزادی کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ذہین نوجوان نوآبادیاتی نظام کا حصہ بنے رہیں۔
سبھاش چندر بوس جلد ہی انڈین نیشنل کانگریس میں ایک مضبوط اور بااثر آواز کے طور پر ابھرے۔ وہ بال گنگا دھر تلک جیسے انقلابی رہنماؤں سے متاثر تھے اور یورپ میں ابھرنے والی سیاسی تحریکوں پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ آزادی محض برطانوی حکومت کی رعایت سے حاصل نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے منظم جدوجہد اور ہمہ گیر بیداری ناگزیر ہے۔ اگرچہ وہ مہاتما گاندھی کا احترام کرتے تھے، مگر اس بات پر اختلاف رکھتے تھے کہ عدم تشدد ہی واحد راستہ ہے۔ ان کے نزدیک حالات ایسے تھے جہاں قوت اور مزاحمت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔
وہ دو مرتبہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوئے، اور ان کی قیادت میں تحریکِ آزادی نے ایک زیادہ جرات مند اور فیصلہ کن رخ اختیار کیا۔ تاہم نظریاتی اختلافات اور سیاسی دباؤ کے باعث انہیں کانگریس کی قیادت سے الگ ہونا پڑا۔ یہ لمحہ کسی کمزوری کی علامت نہیں تھا بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز تھا۔ بوس نے فیصلہ کیا کہ آزادی کی جدوجہد کو بین الاقوامی سطح پر لے جایا جائے اور برطانوی سامراج کو عالمی محاذ پر چیلنج کیا جائے۔
1941 میں برطانوی نگرانی سے ان کا ڈرامائی فرار جدید سیاسی تاریخ کے حیرت انگیز واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ بھیس بدل کر مختلف ممالک کا سفر کرتے ہوئے انہوں نے دوسری عالمی جنگ کے دوران ہندوستان کی آزادی کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں آزاد ہند حکومت اور آزاد ہند فوج کا قیام عمل میں آیا، جس میں زیادہ تر ہندوستانی جنگی قیدی اور بیرونِ ملک مقیم ہندوستانی شامل تھے۔ بوس کا مقصد اس فوج کے ذریعے ہندوستان کو مسلح جدوجہد کے ذریعے آزاد کرانا تھا۔ اگرچہ ان کے بعض سفارتی فیصلوں پر آج بھی بحث ہوتی ہے، مگر انہیں اس دور کے عالمی سیاسی حالات کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
نیتا جی کا نعرہ “تم مجھے خون دو، میں تمہیں آزادی دوں گا” پورے ہندوستان میں گونج اٹھا اور قوم میں قربانی اور جدوجہد کا نیا جذبہ پیدا کیا۔ آزاد ہند فوج اگرچہ فوجی اعتبار سے کامیاب نہ ہو سکی، مگر اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ثابت ہوئے۔ آئی این اے کے مقدمات نے برطانوی اقتدار کی بنیادیں ہلا دیں، پورے ملک میں غم و غصہ پھیل گیا اور برطانوی فوج میں بھی وفاداری کے سوالات جنم لینے لگے۔ بہت سے مؤرخین کا ماننا ہے کہ یہی عوامل ہندوستان کی آزادی کو تیز کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوئے۔
سبھاش چندر بوس محض ایک عسکری یا سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ ایک صاحبِ فکر انسان بھی تھے۔ وہ ایک مضبوط، خودمختار اور سماجی انصاف پر مبنی ہندوستان کا خواب دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک آزادی صرف غیر ملکی اقتدار سے نجات کا نام نہیں تھی بلکہ داخلی ناانصافیوں، ذات پات کے امتیاز اور سماجی تقسیم کے خاتمے کا ذریعہ بھی تھی۔ انہوں نے خواتین کے کردار کو خصوصی اہمیت دی، جس کی روشن مثال رانی جھانسی رجمنٹ ہے جو ایشیا کی اولین خواتین فوجی یونٹوں میں شمار ہوتی ہے۔
ان کی قوم پرستی محدود یا تنگ نظر نہیں تھی۔ وہ ہندوستان کو ایک جدید ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے جو اتحاد، نظم و ضبط اور اجتماعی مقصد پر قائم ہو۔ آزاد ہند فوج میں مختلف مذاہب اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے سپاہیوں کا ایک پرچم تلے جمع ہونا ان کے اسی نظریے کی عملی تصویر تھا۔ وہ بار بار خبردار کرتے تھے کہ داخلی اختلافات غلامی کو طول دینے کا سبب بنیں گے۔
بوس اس حقیقت سے بھی بخوبی واقف تھے کہ سیاسی آزادی اس وقت تک بے معنی ہے جب تک اس کے ساتھ معاشی اور سماجی تبدیلی نہ آئے۔ وہ منصوبہ بند ترقی، صنعتی خود کفالت اور سماجی مساوات کے حامی تھے۔ ان کے خیالات بعد از آزادی ہندوستان کی معاشی پالیسیوں میں بھی جھلکتے ہیں، جو ان کی دور اندیشی کا ثبوت ہیں۔
ان کی بین الاقوامی سوچ انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ ہندوستان کی جدوجہد کو عالمی سامراج مخالف تحریک کا حصہ سمجھتے تھے اور ایشیا و افریقہ کے محکوم ممالک کے ساتھ یکجہتی کے خواہاں تھے۔ ان کے نزدیک ہر سفارتی قدم ہندوستان کے مفاد سے مشروط تھا اور آزادی کے حصول کے بعد ہندوستان کو ایک باوقار اور خودمختار قوم کے طور پر دنیا کے سامنے آنا تھا۔
سبھاش چندر بوس کی زندگی نظم و ضبط، قربانی اور کردار کی مثال ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ آزادی صرف جرات سے نہیں بلکہ اخلاقی قوت سے حاصل ہوتی ہے۔ آزاد ہند فوج کی تربیت، نظم اور اصول اسی سوچ کا مظہر تھے۔ وہ عوامی مقبولیت کے بجائے ذمہ داری اور استقامت پر یقین رکھتے تھے۔
1945 میں ان کی وفات سے متعلق اسرار نے ان کی شخصیت کو مزید افسانوی رنگ دیا، مگر ان کی اصل عظمت ان کے افکار اور جدوجہد میں مضمر ہے۔ وہ محض نعروں اور داستانوں کا کردار نہیں بلکہ ایک سنجیدہ مفکر اور اصول پسند رہنما تھے۔
ان کی برسی پر سبھاش چندر بوس کو یاد کرنا محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ حال اور مستقبل کے لیے ایک پیغام ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ آزادی کی حفاظت اتنی ہی ضروری ہے جتنی اس کا حصول۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ قوموں کی تقدیر قربانی، بصیرت اور ثابت قدمی سے بدلتی ہے۔
سبھاش چندر بوس آزاد ہندوستان کو دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہے، مگر ان کی روح اس قوم کی بنیادوں میں شامل ہے۔ وہ ہمیشہ اس بات کی یاد دہانی کراتے رہیں گے کہ آزادی کبھی تحفے میں نہیں ملتی بلکہ جدوجہد، قربانی اور غیر متزلزل عزم سے حاصل کی جاتی ہے، اور قوم سازی کا یہ عمل کبھی مکمل نہیں ہوتا۔


