عوامی سڑکیں نجی شو روم نہیں

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ٹریفک، سرینگر سٹی، اعجاز احمد کی جانب سے جاری کیا گیا سخت انتباہ محض ایک رسمی بیان نہیں بلکہ ایک بنیادی شہری اصول کی طرف ایک واضح اشارہ ہے جسے طویل عرصے سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ عوامی سڑکیں آمد و رفت کے لئے ہوتی ہیں، نہ کہ کاروبار چلانے، گاڑیاں کھڑی کرنے یا گاڑیاںنمائش کیلئے رکھنے کے واسطے ۔

سرینگر میں ٹریفک کا بحران اب صرف لال چوک یا چند تجارتی علاقوں تک محدود نہیں رہا۔ جو مسئلہ کبھی عارضی سمجھا جاتا تھا، آج وہ روزمرہ زندگی کا مستقل عذاب بن چکا ہے۔ اس بگڑتی صورتحال کی ایک بڑی وجہ کار ڈیلروں اور دکانداروں کی جانب سے سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی کرنا ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک جام ہوتا ہے بلکہ عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ مسئلہ شہر کے ہر گوشے میں پھیل چکا ہے۔ قدیم شہر کی تنگ گلیوں سے لے کر بازاروں اور رہائشی علاقوں تک، سڑکیں نجی کاروبار کا توسیعی حصہ بن چکی ہیں۔ سب سے تشویشناک صورتحال دریائے جہلم پر قائم پلوں کی ہے، جو عملی طور پر کھلی پارکنگ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ پل سرینگر کے مختلف حصوں کو جوڑنے والی اہم شاہراہیں ہیں۔ ان پر ناجائز پارکنگ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ ہنگامی حالات میں سنگین خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔

ٹریفک کا مسئلہ محض تاخیر تک محدود نہیں۔ اس کے معاشی، ماحولیاتی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ ایندھن کا ضیاع، آلودگی میں اضافہ، ذہنی تناؤ اور ایمبولینس جیسی ہنگامی خدمات میں رکاوٹ سب اسی بدانتظامی کا نتیجہ ہیں۔ محدود سڑکوں اور بڑھتی ہوئی گاڑیوں کے دباؤ میں گھرا شہر ایسی لاپرواہی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہSSP ٹریفک کا یہ انتباہ وقتی مہم بن کر نہ رہ جائے بلکہ مستقل اور سخت کارروائی کی بنیاد بنے۔ کار ڈیلروں کو مخصوص یارڈز تک محدود کیا جائے، دکانداروں کو تجاوزات کا جواب دہ بنایا جائے، اور بلدیاتی ادارے مناسب پارکنگ سہولیات اور واضح نو پارکنگ زونز کو یقینی بنائیں۔

شہریوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ خاموشی اور مجبوری میں سمجھوتہ کرنا قانون شکنی کو مزید تقویت دیتا ہے۔ عوامی تعاون اور دباؤ کے بغیر سڑکوں کی بحالی ممکن نہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

SKUAST-K میں جموں و کشمیر کا پہلا ایگری وولٹائکس منصوبہ

جنگ نیوز سرینگر/ SKUAST-K نے CSTEP کے اشتراک سے شالیمار...

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا سنجیدہ سوال ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے...

غزل

  محمد ایوب ترال بالا میں تھکا ہارا کہاں جاؤں میں درد کا...

تازہ ترین خبریں

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

SKUAST-K میں جموں و کشمیر کا پہلا ایگری وولٹائکس منصوبہ

جنگ نیوز سرینگر/ SKUAST-K نے CSTEP کے اشتراک سے شالیمار...

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا سنجیدہ سوال ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے...

غزل

  محمد ایوب ترال بالا میں تھکا ہارا کہاں جاؤں میں درد کا...

عوامی سڑکیں نجی شو روم نہیں

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ٹریفک، سرینگر سٹی، اعجاز احمد کی جانب سے جاری کیا گیا سخت انتباہ محض ایک رسمی بیان نہیں بلکہ ایک بنیادی شہری اصول کی طرف ایک واضح اشارہ ہے جسے طویل عرصے سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ عوامی سڑکیں آمد و رفت کے لئے ہوتی ہیں، نہ کہ کاروبار چلانے، گاڑیاں کھڑی کرنے یا گاڑیاںنمائش کیلئے رکھنے کے واسطے ۔

سرینگر میں ٹریفک کا بحران اب صرف لال چوک یا چند تجارتی علاقوں تک محدود نہیں رہا۔ جو مسئلہ کبھی عارضی سمجھا جاتا تھا، آج وہ روزمرہ زندگی کا مستقل عذاب بن چکا ہے۔ اس بگڑتی صورتحال کی ایک بڑی وجہ کار ڈیلروں اور دکانداروں کی جانب سے سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی کرنا ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک جام ہوتا ہے بلکہ عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ مسئلہ شہر کے ہر گوشے میں پھیل چکا ہے۔ قدیم شہر کی تنگ گلیوں سے لے کر بازاروں اور رہائشی علاقوں تک، سڑکیں نجی کاروبار کا توسیعی حصہ بن چکی ہیں۔ سب سے تشویشناک صورتحال دریائے جہلم پر قائم پلوں کی ہے، جو عملی طور پر کھلی پارکنگ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ پل سرینگر کے مختلف حصوں کو جوڑنے والی اہم شاہراہیں ہیں۔ ان پر ناجائز پارکنگ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ ہنگامی حالات میں سنگین خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔

ٹریفک کا مسئلہ محض تاخیر تک محدود نہیں۔ اس کے معاشی، ماحولیاتی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ ایندھن کا ضیاع، آلودگی میں اضافہ، ذہنی تناؤ اور ایمبولینس جیسی ہنگامی خدمات میں رکاوٹ سب اسی بدانتظامی کا نتیجہ ہیں۔ محدود سڑکوں اور بڑھتی ہوئی گاڑیوں کے دباؤ میں گھرا شہر ایسی لاپرواہی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہSSP ٹریفک کا یہ انتباہ وقتی مہم بن کر نہ رہ جائے بلکہ مستقل اور سخت کارروائی کی بنیاد بنے۔ کار ڈیلروں کو مخصوص یارڈز تک محدود کیا جائے، دکانداروں کو تجاوزات کا جواب دہ بنایا جائے، اور بلدیاتی ادارے مناسب پارکنگ سہولیات اور واضح نو پارکنگ زونز کو یقینی بنائیں۔

شہریوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ خاموشی اور مجبوری میں سمجھوتہ کرنا قانون شکنی کو مزید تقویت دیتا ہے۔ عوامی تعاون اور دباؤ کے بغیر سڑکوں کی بحالی ممکن نہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں