انصاف کا کڑا امتحان

دہلی فسادات 2020 سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانونUAPA کو بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ عدالت نے ملزمان کو مبینہ طور پر شرکت کی درجہ بندی کے تحت تقسیم کرتے ہوئے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کیا جبکہ دیگر پانچ ملزمان کو سخت شرائط کے ساتھ رہا کر دیا۔ یہ تفریق اس مرحلے پر کی گئی ہے جب شواہد کا باقاعدہ عدالتی امتحان ابھی باقی ہے۔
عدالت نے دفعہ43D(5) پر زور دیتے ہوئے صرف یہ دیکھنا کافی سمجھا کہ الزامات بظاہر درست ہیں یا نہیں۔ اس محدود دائرہ نظر کے باعث طویل قید اور ذاتی آزادی کے دلائل کو نظر انداز کر دیا گیا۔ عمر خالد اور شرجیل امام بطور نوجوان گرفتار ہوئے اور اب تقریباً پانچ برس سے بغیر مقدمہ شروع ہوئے جیل میں ہیں۔ اگر بعد میں بے گناہی ثابت ہو جائے تو اس وقت کا نقصان ناقابل تلافی ہوگا۔
استغاثہ کا مؤقف ہے کہ فسادات ایک منظم منصوبہ تھے جو احتجاجی نیٹ ورکس اور میسجنگ ایپس کے ذریعے ترتیب دیے گئے۔ مگر جمہوری معاشروں میں احتجاج کی منصوبہ بندی ڈیجیٹل ذرائع سے ہونا بذات خود مشکوک نہیں۔ عدالت کی جانب سے دہشت گردانہ عمل کی ایسی وسیع تشریح، جس میں خدمات میں خلل ڈالنے جیسے الزامات بھی شامل ہوں، مستقبل میں سیاسی معاملات میں یو اے پی اے کے بے جا استعمال کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مقدمہ اب تک شروع نہیں ہو سکا، نہ چارج فریم ہوئے ہیں اور نہ ہی 700کے قریب گواہوں کی فہرست پر کوئی معقول پیش رفت ہوئی ہے۔ پانچ ملزمان کو دی گئی ضمانت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ نچلی عدالتیں مقدمات میں تاخیر کم کریں اور عدالتی عمل کو سزا میں بدلنے سے بچائیں۔
اصل سوال قومی سلامتی اور شہری آزادی کے درمیان توازن کا ہے۔ اگر سخت قوانین کو اختلاف رائے اور احتجاج کے خلاف استعمال کیا گیا تو یہ جمہوریت کی روح کے لیے خطرہ ہوگا۔ انصاف کی اصل روح اسی میں ہے کہ سلامتی کے نام پر آزادی کو غیر معینہ مدت تک معطل نہ کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

انصاف کا کڑا امتحان

دہلی فسادات 2020 سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانونUAPA کو بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ عدالت نے ملزمان کو مبینہ طور پر شرکت کی درجہ بندی کے تحت تقسیم کرتے ہوئے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کیا جبکہ دیگر پانچ ملزمان کو سخت شرائط کے ساتھ رہا کر دیا۔ یہ تفریق اس مرحلے پر کی گئی ہے جب شواہد کا باقاعدہ عدالتی امتحان ابھی باقی ہے۔
عدالت نے دفعہ43D(5) پر زور دیتے ہوئے صرف یہ دیکھنا کافی سمجھا کہ الزامات بظاہر درست ہیں یا نہیں۔ اس محدود دائرہ نظر کے باعث طویل قید اور ذاتی آزادی کے دلائل کو نظر انداز کر دیا گیا۔ عمر خالد اور شرجیل امام بطور نوجوان گرفتار ہوئے اور اب تقریباً پانچ برس سے بغیر مقدمہ شروع ہوئے جیل میں ہیں۔ اگر بعد میں بے گناہی ثابت ہو جائے تو اس وقت کا نقصان ناقابل تلافی ہوگا۔
استغاثہ کا مؤقف ہے کہ فسادات ایک منظم منصوبہ تھے جو احتجاجی نیٹ ورکس اور میسجنگ ایپس کے ذریعے ترتیب دیے گئے۔ مگر جمہوری معاشروں میں احتجاج کی منصوبہ بندی ڈیجیٹل ذرائع سے ہونا بذات خود مشکوک نہیں۔ عدالت کی جانب سے دہشت گردانہ عمل کی ایسی وسیع تشریح، جس میں خدمات میں خلل ڈالنے جیسے الزامات بھی شامل ہوں، مستقبل میں سیاسی معاملات میں یو اے پی اے کے بے جا استعمال کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مقدمہ اب تک شروع نہیں ہو سکا، نہ چارج فریم ہوئے ہیں اور نہ ہی 700کے قریب گواہوں کی فہرست پر کوئی معقول پیش رفت ہوئی ہے۔ پانچ ملزمان کو دی گئی ضمانت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ نچلی عدالتیں مقدمات میں تاخیر کم کریں اور عدالتی عمل کو سزا میں بدلنے سے بچائیں۔
اصل سوال قومی سلامتی اور شہری آزادی کے درمیان توازن کا ہے۔ اگر سخت قوانین کو اختلاف رائے اور احتجاج کے خلاف استعمال کیا گیا تو یہ جمہوریت کی روح کے لیے خطرہ ہوگا۔ انصاف کی اصل روح اسی میں ہے کہ سلامتی کے نام پر آزادی کو غیر معینہ مدت تک معطل نہ کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں