وینزویلا میں عالمی نظام کی برہنہ حقیقت

دنیا شاید نکولس مادورو کےلئے ہمدردی محسوس نہ کرے۔ ان کی آمرانہ حکمرانی نے وینزویلا کے اداروں کو کمزور کیا، اختلاف کو دبایا اور انسانی حقوق کو پامال کیا۔ مگر اس کے باوجود یہ سوال اہم ہے کہ جس انداز میں امریکہ نے ایک فوجی کارروائی کے ذریعے ایک برسر اقتدار صدر کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا، کیا وہ واقعی دنیا کو زیادہ محفوظ بناتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں فضائی، زمینی اور بحری حملوں پر مشتمل یہ کارروائی صرف کراکس تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی نظام کو ایک واضح پیغام دیا۔ وہ یہ کہ قوانین پر مبنی عالمی نظم محض ایک نعرہ بن چکا ہے۔ نہ امریکی کانگریس کی اجازت کو اہم سمجھا گیا اور نہ ہی اقوام متحدہ کی منظوری کو۔ طاقت نے قانون کی جگہ لے لی۔
مادورو کے خلاف امریکی اقدامات مہینوں سے متوقع تھے۔ منشیات اسمگلنگ کے الزامات اور بین الاقوامی پانیوں میں حملوں نے پہلے ہی ماحول کو کشیدہ بنا دیا تھا۔ یہ سب ٹرمپ کی قومی سلامتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں خطے کو امریکی مفادات کے تابع کرنے کا تصور نمایاں ہے۔
اب اصل سوال وینزویلا کے مستقبل کا ہے، ایک ایسا ملک جس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔ امریکی قیادت کے بیانات سے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ایک آمرانہ نظام کی جگہ استحصالی انتظام نہ لے لے۔ اس کے نتیجے میں مزاحمت، بدامنی اور علاقائی عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔
گزشتہ برس تجارتی جنگوں کے بعد اب حکومتوں کی تبدیلی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ عالمی ردعمل کمزور ہے اور بھارت سمیت اکثر ممالک حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے عالمی سیاست میں ایک خطرناک راستہ کھول دیا ہے اور دنیا اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ خودمختاری کی اس کھلی خلاف ورزی کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

وینزویلا میں عالمی نظام کی برہنہ حقیقت

دنیا شاید نکولس مادورو کےلئے ہمدردی محسوس نہ کرے۔ ان کی آمرانہ حکمرانی نے وینزویلا کے اداروں کو کمزور کیا، اختلاف کو دبایا اور انسانی حقوق کو پامال کیا۔ مگر اس کے باوجود یہ سوال اہم ہے کہ جس انداز میں امریکہ نے ایک فوجی کارروائی کے ذریعے ایک برسر اقتدار صدر کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا، کیا وہ واقعی دنیا کو زیادہ محفوظ بناتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں فضائی، زمینی اور بحری حملوں پر مشتمل یہ کارروائی صرف کراکس تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی نظام کو ایک واضح پیغام دیا۔ وہ یہ کہ قوانین پر مبنی عالمی نظم محض ایک نعرہ بن چکا ہے۔ نہ امریکی کانگریس کی اجازت کو اہم سمجھا گیا اور نہ ہی اقوام متحدہ کی منظوری کو۔ طاقت نے قانون کی جگہ لے لی۔
مادورو کے خلاف امریکی اقدامات مہینوں سے متوقع تھے۔ منشیات اسمگلنگ کے الزامات اور بین الاقوامی پانیوں میں حملوں نے پہلے ہی ماحول کو کشیدہ بنا دیا تھا۔ یہ سب ٹرمپ کی قومی سلامتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں خطے کو امریکی مفادات کے تابع کرنے کا تصور نمایاں ہے۔
اب اصل سوال وینزویلا کے مستقبل کا ہے، ایک ایسا ملک جس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔ امریکی قیادت کے بیانات سے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ایک آمرانہ نظام کی جگہ استحصالی انتظام نہ لے لے۔ اس کے نتیجے میں مزاحمت، بدامنی اور علاقائی عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔
گزشتہ برس تجارتی جنگوں کے بعد اب حکومتوں کی تبدیلی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ عالمی ردعمل کمزور ہے اور بھارت سمیت اکثر ممالک حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے عالمی سیاست میں ایک خطرناک راستہ کھول دیا ہے اور دنیا اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ خودمختاری کی اس کھلی خلاف ورزی کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں