وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا یہ واضح اعلان کہ موجودہ مالی سال کے دوران جموں کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں کوئی عمومی اضافہ نہیں کیا جائے گا بلاشبہ قابل ستائش ہے۔ ایسے وقت میں جب عام شہری مہنگائی کے دباؤ، محدود آمدنی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں یہ فیصلہ عوام کے لیے ایک بڑی راحت بن کر سامنے آیا ہے۔
جموں و کشمیر میں بجلی کسی آسائش کا نام نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ شدید سردیوں کے دوران بجلی کا تسلسل گھریلو زندگی، تعلیم، صحت اور کاروبار سب کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ اگر بجلی نرخوں میں مجموعی اضافہ کیا جاتا تو اس کا براہ راست بوجھ عام خاندانوں، چھوٹے تاجروں اور کمزور طبقوں پر پڑتا۔ وزیر اعلیٰ کا یہ فیصلہ زمینی حقائق کی درست پہچان اور عوامی مشکلات کے احساس کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ اعلان صرف ایک مالی فیصلہ نہیں بلکہ ایک مثبت پیغام بھی ہے کہ حکمرانی کا مرکز عوامی فلاح ہونی چاہیے نہ کہ محض آمدنی میں اضافہ۔ مالی نظم و ضبط اپنی جگہ اہم ہے لیکن اس کےلئے عوام پر اضافی بوجھ ڈالنا دانشمندانہ حکمت عملی نہیں۔ بجلی کے نظام میں بہتری، ترسیلی نقصانات میں کمی اور بہتر بلنگ جیسے اقدامات زیادہ پائیدار اور منصفانہ حل ہو سکتے ہیں۔
مستقبل میں بھی ایسی کسی تجویز کو مسترد کیا جانا چاہیے جو بلا امتیاز بجلی نرخوں میں اضافے کی بات کرے۔ اگر کبھی نرخوں پر نظرثانی ناگزیر ہو تو وہ شفاف، محدود اور سماجی تحفظ کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے تاکہ کم آمدنی والے طبقے اور ضروری خدمات متاثر نہ ہوں۔ اس ضمن میں عوامی مشاورت اور جوابدہی کو یقینی بنانا بھی بے حد ضروری ہے۔
وزیر اعلیٰ کے اس بیان نے ایک نازک وقت میں عوام کو اطمینان بخشا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام دوست پالیسی کو مستقل مزاجی کے ساتھ اپنایا جائے تاکہ شہریوں کو غیر ضروری مالی دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہی ذمہ دار حکمرانی کی اصل پہچان ہے۔
بجلی نرخ نہ بڑھانے کا فیصلہ خوش آئند
بجلی نرخ نہ بڑھانے کا فیصلہ خوش آئند
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا یہ واضح اعلان کہ موجودہ مالی سال کے دوران جموں کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں کوئی عمومی اضافہ نہیں کیا جائے گا بلاشبہ قابل ستائش ہے۔ ایسے وقت میں جب عام شہری مہنگائی کے دباؤ، محدود آمدنی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں یہ فیصلہ عوام کے لیے ایک بڑی راحت بن کر سامنے آیا ہے۔
جموں و کشمیر میں بجلی کسی آسائش کا نام نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ شدید سردیوں کے دوران بجلی کا تسلسل گھریلو زندگی، تعلیم، صحت اور کاروبار سب کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ اگر بجلی نرخوں میں مجموعی اضافہ کیا جاتا تو اس کا براہ راست بوجھ عام خاندانوں، چھوٹے تاجروں اور کمزور طبقوں پر پڑتا۔ وزیر اعلیٰ کا یہ فیصلہ زمینی حقائق کی درست پہچان اور عوامی مشکلات کے احساس کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ اعلان صرف ایک مالی فیصلہ نہیں بلکہ ایک مثبت پیغام بھی ہے کہ حکمرانی کا مرکز عوامی فلاح ہونی چاہیے نہ کہ محض آمدنی میں اضافہ۔ مالی نظم و ضبط اپنی جگہ اہم ہے لیکن اس کےلئے عوام پر اضافی بوجھ ڈالنا دانشمندانہ حکمت عملی نہیں۔ بجلی کے نظام میں بہتری، ترسیلی نقصانات میں کمی اور بہتر بلنگ جیسے اقدامات زیادہ پائیدار اور منصفانہ حل ہو سکتے ہیں۔
مستقبل میں بھی ایسی کسی تجویز کو مسترد کیا جانا چاہیے جو بلا امتیاز بجلی نرخوں میں اضافے کی بات کرے۔ اگر کبھی نرخوں پر نظرثانی ناگزیر ہو تو وہ شفاف، محدود اور سماجی تحفظ کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے تاکہ کم آمدنی والے طبقے اور ضروری خدمات متاثر نہ ہوں۔ اس ضمن میں عوامی مشاورت اور جوابدہی کو یقینی بنانا بھی بے حد ضروری ہے۔
وزیر اعلیٰ کے اس بیان نے ایک نازک وقت میں عوام کو اطمینان بخشا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام دوست پالیسی کو مستقل مزاجی کے ساتھ اپنایا جائے تاکہ شہریوں کو غیر ضروری مالی دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہی ذمہ دار حکمرانی کی اصل پہچان ہے۔


