سرینگر ایک خشک شہر بن کر رہ گیا

سرینگر اس وقت شدید سردی کی لپیٹ میں ضرور ہے مگر خشک ہے۔ وہ برف جس نے صدیوں تک اس شہر کی پہچان، اس کی معیشت اور اس کے موسم کو معنی دیے، اس موسم سرما میں بھی نظر نہیں آئی۔ یہ محض ایک موسمی کمی نہیں بلکہ ایک افسوس ناک تسلسل ہے جو ہر گزرتے سال کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
ماضی میں سرینگر کی سردیاں ایک قدرتی نظم کی مثال ہوا کرتی تھیں۔ کئی کئی دن کی مسلسل برف باری، سفید چھتیں، جمی ہوئی گلیاں اور جھیل ڈل کے کناروں پر ٹھہری سردی اس شہر کا معمول تھی۔ فروری کے مہینے میں ہونے والی بھاری برف باری آج بھی لوگوں کی یادداشت میں محفوظ ہے، جب شہر مکمل طور پر برف کی چادر اوڑھ لیتا تھا اور سردی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود رہتی تھی۔ وہ موسم صرف خوبصورتی نہیں بلکہ پانی، زراعت اور ماحولیاتی توازن کی ضمانت بھی تھا۔
آج صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ کشمیر کے کئی اضلاع اس موسم میں بھی معقول برف باری دیکھ رہے ہیں، مگر سرینگر ایک خشک جزیرے کی مانند نظر آتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ برف کیوں کم ہوئی، سوال یہ ہے کہ سرینگر ہی کیوں پیچھے رہ گیا۔
اس تبدیلی کے اسباب میں صرف عالمی موسمیاتی تبدیلی کو مورد الزام ٹھہرانا حقیقت سے آنکھیں چرانا ہوگا۔ دیہاتوں کی بے قابو کمرشلائزیشن، اندھا دھند تعمیرات، باغات اور کھیتوں کا کنکریٹ میں بدل جانا اور قدرتی آبی ذخائر کی تباہی نے سرینگر کے گرد موجود فطری حفاظتی حصار کو ختم کر دیا ہے۔ وہ دیہات جو کبھی سردی کو جذب کرنے اور ماحول کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے تھے، آج مارکیٹوں، گوداموں اور رہائشی بلاکس میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ برف سے لدے اضلاع کے درمیان سرینگر ایک خشک شہر بن کر رہ گیا ہے، جیسے برفانی خطے کے بیچ ایک مصنوعی صحرا۔ مائیکرو کلائمیٹ بگڑ چکا ہے، زمین کی سانس گھٹ چکی ہے اور موسم اپنی پرانی راہ بھٹک چکا ہے۔
یہ مسئلہ محض سیاحت یا منظر کا نہیں۔ برف باری پانی کی دستیابی، باغبانی، زراعت اور آنے والے مہینوں کی بقا سے جڑی ہوئی ہے۔ ہر خشک موسم سرما مستقبل کی ایک کمزور بنیاد رکھتا ہے۔
سرینگر کو اب اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ موسم خاموش وارننگ دے رہا ہے۔ اگر قدرتی توازن کی بحالی، غیر منظم کمرشلائزیشن کی روک تھام اور ماحول دوست منصوبہ بندی کو سنجیدگی سے نہ اپنایا گیا تو یہ خشک سردیاں معمول بن جائیں گی۔ اس وقت سرینگر میں برف کی کمی نہیں، دراصل بصیرت کی کمی زیادہ نمایاں ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

سرینگر ایک خشک شہر بن کر رہ گیا

سرینگر اس وقت شدید سردی کی لپیٹ میں ضرور ہے مگر خشک ہے۔ وہ برف جس نے صدیوں تک اس شہر کی پہچان، اس کی معیشت اور اس کے موسم کو معنی دیے، اس موسم سرما میں بھی نظر نہیں آئی۔ یہ محض ایک موسمی کمی نہیں بلکہ ایک افسوس ناک تسلسل ہے جو ہر گزرتے سال کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
ماضی میں سرینگر کی سردیاں ایک قدرتی نظم کی مثال ہوا کرتی تھیں۔ کئی کئی دن کی مسلسل برف باری، سفید چھتیں، جمی ہوئی گلیاں اور جھیل ڈل کے کناروں پر ٹھہری سردی اس شہر کا معمول تھی۔ فروری کے مہینے میں ہونے والی بھاری برف باری آج بھی لوگوں کی یادداشت میں محفوظ ہے، جب شہر مکمل طور پر برف کی چادر اوڑھ لیتا تھا اور سردی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود رہتی تھی۔ وہ موسم صرف خوبصورتی نہیں بلکہ پانی، زراعت اور ماحولیاتی توازن کی ضمانت بھی تھا۔
آج صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ کشمیر کے کئی اضلاع اس موسم میں بھی معقول برف باری دیکھ رہے ہیں، مگر سرینگر ایک خشک جزیرے کی مانند نظر آتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ برف کیوں کم ہوئی، سوال یہ ہے کہ سرینگر ہی کیوں پیچھے رہ گیا۔
اس تبدیلی کے اسباب میں صرف عالمی موسمیاتی تبدیلی کو مورد الزام ٹھہرانا حقیقت سے آنکھیں چرانا ہوگا۔ دیہاتوں کی بے قابو کمرشلائزیشن، اندھا دھند تعمیرات، باغات اور کھیتوں کا کنکریٹ میں بدل جانا اور قدرتی آبی ذخائر کی تباہی نے سرینگر کے گرد موجود فطری حفاظتی حصار کو ختم کر دیا ہے۔ وہ دیہات جو کبھی سردی کو جذب کرنے اور ماحول کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے تھے، آج مارکیٹوں، گوداموں اور رہائشی بلاکس میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ برف سے لدے اضلاع کے درمیان سرینگر ایک خشک شہر بن کر رہ گیا ہے، جیسے برفانی خطے کے بیچ ایک مصنوعی صحرا۔ مائیکرو کلائمیٹ بگڑ چکا ہے، زمین کی سانس گھٹ چکی ہے اور موسم اپنی پرانی راہ بھٹک چکا ہے۔
یہ مسئلہ محض سیاحت یا منظر کا نہیں۔ برف باری پانی کی دستیابی، باغبانی، زراعت اور آنے والے مہینوں کی بقا سے جڑی ہوئی ہے۔ ہر خشک موسم سرما مستقبل کی ایک کمزور بنیاد رکھتا ہے۔
سرینگر کو اب اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ موسم خاموش وارننگ دے رہا ہے۔ اگر قدرتی توازن کی بحالی، غیر منظم کمرشلائزیشن کی روک تھام اور ماحول دوست منصوبہ بندی کو سنجیدگی سے نہ اپنایا گیا تو یہ خشک سردیاں معمول بن جائیں گی۔ اس وقت سرینگر میں برف کی کمی نہیں، دراصل بصیرت کی کمی زیادہ نمایاں ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں