خالدہ ضیاء کے بعد بنگلہ دیش؟

بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی 30 دسمبر کو وفات نے ملک کی سیاسی تاریخ کے ایک طویل اور فیصلہ کن باب کو بند کر دیا ہے۔ وہ ایک ایسی رہنما تھیں جنہوں نے شوہر جنرل ضیاء الرحمٰن کے قتل کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور 1990 میں فوجی آمریت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ابتدا میں شیخ حسینہ کے ساتھ مل کر جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کرنے والی خالدہ ضیاء بعد میں ان کی سخت سیاسی حریف بن گئیں، اور یہی کشمکش دہائیوں تک بنگلہ دیشی سیاست کی شناخت بنی رہی۔
آج منظر نامہ یکسر بدل چکا ہے۔ خالدہ ضیاء اس دنیا میں نہیں رہیں، شیخ حسینہ 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد اقتدار سے بے دخل ہو کر بھارت میں جلا وطن ہیں، اور ملک 12 فروری 2026 کے انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک نسلی تبدیلی کا لمحہ ہے، مگر یہ تبدیلی شدید بے یقینی، سیاسی انتشار اور امن و امان کے بحران کے سائے میں وقوع پذیر ہو رہی ہے۔
بی این پی کے قائم مقام سربراہ اور خالدہ ضیاء کے صاحبزادے طارق رحمان سترہ برس سے زائد جلا وطنی کے بعد وطن واپس آ چکے ہیں۔ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی جماعت کے اندرونی اختلافات کو ختم کرنا اور عوام کے سامنے ایک جامع اور قابل قبول سیاسی وژن پیش کرنا ہے۔ ڈھاکہ کے ایک بڑے جلسے میں انہوں نے انتقام کی زبان سے گریز اور اتحاد و شمولیت پر زور دیا، مگر بی این پی کے ماضی پر لگے تشدد اور بدعنوانی کے الزامات اور موجودہ حالات میں پھیلی بدامنی کسی فوری بہتری کی امید کو کمزور کرتے ہیں۔
دوسری طرف محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت امن بحال کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ ہجوم کا قانون سڑکوں پر غالب ہے، حالیہ واقعات میں ایک ہندو نوجوان کا قتل اور اخباری دفاتر کو نذر آتش کرنا تشویش ناک اشارے ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ کالعدم شدت پسند تنظیمیں دوبارہ متحرک ہو رہی ہیں۔ اس پر مستزاد عوامی لیگ پر سیاسی سرگرمیوں کی پابندی نے آئندہ انتخابات کی ساکھ کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔
نئے سیاسی کھلاڑیوں کی صف بندی بھی خطرے سے خالی نہیں۔ 2024 کی طلبہ تحریک سے ابھرنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی کا جماعت اسلامی سے اتحاد، اور اگر یہ جماعت آئندہ اقتدار میں اثر و رسوخ حاصل کر لیتی ہے، تو یہ بنگلہ دیش کے سیکولر آئینی ڈھانچے کے لیے ایک بڑے سوالیہ نشان سے کم نہیں ہوگا۔
اس نازک مرحلے پر بنگلہ دیش کو کسی ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو انتشار کے اس دائرے کو توڑ سکے، عوامی اعتماد بحال کرے، قانون کی بالادستی قائم کرے اور شدت پسند عناصر کو سیاست کے مرکز سے دور رکھے۔ یہ ذمہ داری بڑی حد تک طارق رحمان اور بی این پی پر عائد ہوتی ہے۔ وہ اس بوجھ کو کس حد تک سنبھال پاتے ہیں، یہی بنگلہ دیش کے قریب المستقبل کا تعین کرے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

خالدہ ضیاء کے بعد بنگلہ دیش؟

بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی 30 دسمبر کو وفات نے ملک کی سیاسی تاریخ کے ایک طویل اور فیصلہ کن باب کو بند کر دیا ہے۔ وہ ایک ایسی رہنما تھیں جنہوں نے شوہر جنرل ضیاء الرحمٰن کے قتل کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور 1990 میں فوجی آمریت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ابتدا میں شیخ حسینہ کے ساتھ مل کر جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کرنے والی خالدہ ضیاء بعد میں ان کی سخت سیاسی حریف بن گئیں، اور یہی کشمکش دہائیوں تک بنگلہ دیشی سیاست کی شناخت بنی رہی۔
آج منظر نامہ یکسر بدل چکا ہے۔ خالدہ ضیاء اس دنیا میں نہیں رہیں، شیخ حسینہ 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد اقتدار سے بے دخل ہو کر بھارت میں جلا وطن ہیں، اور ملک 12 فروری 2026 کے انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک نسلی تبدیلی کا لمحہ ہے، مگر یہ تبدیلی شدید بے یقینی، سیاسی انتشار اور امن و امان کے بحران کے سائے میں وقوع پذیر ہو رہی ہے۔
بی این پی کے قائم مقام سربراہ اور خالدہ ضیاء کے صاحبزادے طارق رحمان سترہ برس سے زائد جلا وطنی کے بعد وطن واپس آ چکے ہیں۔ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی جماعت کے اندرونی اختلافات کو ختم کرنا اور عوام کے سامنے ایک جامع اور قابل قبول سیاسی وژن پیش کرنا ہے۔ ڈھاکہ کے ایک بڑے جلسے میں انہوں نے انتقام کی زبان سے گریز اور اتحاد و شمولیت پر زور دیا، مگر بی این پی کے ماضی پر لگے تشدد اور بدعنوانی کے الزامات اور موجودہ حالات میں پھیلی بدامنی کسی فوری بہتری کی امید کو کمزور کرتے ہیں۔
دوسری طرف محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت امن بحال کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ ہجوم کا قانون سڑکوں پر غالب ہے، حالیہ واقعات میں ایک ہندو نوجوان کا قتل اور اخباری دفاتر کو نذر آتش کرنا تشویش ناک اشارے ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ کالعدم شدت پسند تنظیمیں دوبارہ متحرک ہو رہی ہیں۔ اس پر مستزاد عوامی لیگ پر سیاسی سرگرمیوں کی پابندی نے آئندہ انتخابات کی ساکھ کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔
نئے سیاسی کھلاڑیوں کی صف بندی بھی خطرے سے خالی نہیں۔ 2024 کی طلبہ تحریک سے ابھرنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی کا جماعت اسلامی سے اتحاد، اور اگر یہ جماعت آئندہ اقتدار میں اثر و رسوخ حاصل کر لیتی ہے، تو یہ بنگلہ دیش کے سیکولر آئینی ڈھانچے کے لیے ایک بڑے سوالیہ نشان سے کم نہیں ہوگا۔
اس نازک مرحلے پر بنگلہ دیش کو کسی ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو انتشار کے اس دائرے کو توڑ سکے، عوامی اعتماد بحال کرے، قانون کی بالادستی قائم کرے اور شدت پسند عناصر کو سیاست کے مرکز سے دور رکھے۔ یہ ذمہ داری بڑی حد تک طارق رحمان اور بی این پی پر عائد ہوتی ہے۔ وہ اس بوجھ کو کس حد تک سنبھال پاتے ہیں، یہی بنگلہ دیش کے قریب المستقبل کا تعین کرے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں