بجلی میں برابری کا خیر مقدم

جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم(RDSS) کے تحت تمام سرکاری دفاتر، اداروں، مقامی باڈیوں اور رہائشی کالونیوں میں پری پیڈ اسمارٹ بجلی میٹر نصب کرنے کا فیصلہ ایک مثبت اور دیرینہ ضرورت کی تکمیل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ قدم نہ صرف محکمہ بجلی کے لئے آمدنی میں اضافہ کا ذریعہ بنے گا بلکہ بجلی کے استعمال میں شفافیت اور جواب دہی کو بھی یقینی بنائے گا۔
جموں و کشمیر میں بجلی کا مسئلہ ہمیشہ ایک سنگین چیلنج رہا ہے، جہاں عام صارفین پر سختی کے ساتھ قوانین لاگو کیے جاتے رہے ہیں۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ سرکاری بابو اور سرکاری ادارے بھی اسی قانون کے دائرے میں آئیں تاکہ امتیازی رویے کا خاتمہ ہو۔ اطلاعات کے مطابق بعض سرکاری محکموں پر بجلی کے بھاری واجبات برسوں سے بقایا ہیں، جن کی وصولی کو یقینی بنانا بھی اس پالیسی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس فیصلے پر دیانتداری سے عمل درآمد کیا گیا تو نہ صرف بجلی کے ضیاع میں کمی آئے گی بلکہ عوام میں یہ پیغام بھی جائے گا کہ قانون سب کے لئے برابر ہے، چاہے وہ عام شہری ہو یا سرکاری افسر۔
اس فیصلے کو مؤثر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اسمارٹ میٹر نظام کے ساتھ ساتھ بقایا جات کی فوری وصولی کا بھی جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ اگر سرکاری محکموں کے پرانے واجبات ادا نہ ہوئے تو اس اقدام کا مقصد ادھورا رہ جائے گا۔ بجلی جیسے حساس شعبے میں نظم و ضبط اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب احتساب کا عمل بلا امتیاز ہو اور اصلاحات محض کاغذی کارروائی کے بجائے عملی شکل اختیار کریں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

SKUAST-K میں جموں و کشمیر کا پہلا ایگری وولٹائکس منصوبہ

جنگ نیوز سرینگر/ SKUAST-K نے CSTEP کے اشتراک سے شالیمار...

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا سنجیدہ سوال ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے...

غزل

  محمد ایوب ترال بالا میں تھکا ہارا کہاں جاؤں میں درد کا...

تازہ ترین خبریں

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

SKUAST-K میں جموں و کشمیر کا پہلا ایگری وولٹائکس منصوبہ

جنگ نیوز سرینگر/ SKUAST-K نے CSTEP کے اشتراک سے شالیمار...

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا سنجیدہ سوال ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے...

غزل

  محمد ایوب ترال بالا میں تھکا ہارا کہاں جاؤں میں درد کا...

بجلی میں برابری کا خیر مقدم

جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم(RDSS) کے تحت تمام سرکاری دفاتر، اداروں، مقامی باڈیوں اور رہائشی کالونیوں میں پری پیڈ اسمارٹ بجلی میٹر نصب کرنے کا فیصلہ ایک مثبت اور دیرینہ ضرورت کی تکمیل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ قدم نہ صرف محکمہ بجلی کے لئے آمدنی میں اضافہ کا ذریعہ بنے گا بلکہ بجلی کے استعمال میں شفافیت اور جواب دہی کو بھی یقینی بنائے گا۔
جموں و کشمیر میں بجلی کا مسئلہ ہمیشہ ایک سنگین چیلنج رہا ہے، جہاں عام صارفین پر سختی کے ساتھ قوانین لاگو کیے جاتے رہے ہیں۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ سرکاری بابو اور سرکاری ادارے بھی اسی قانون کے دائرے میں آئیں تاکہ امتیازی رویے کا خاتمہ ہو۔ اطلاعات کے مطابق بعض سرکاری محکموں پر بجلی کے بھاری واجبات برسوں سے بقایا ہیں، جن کی وصولی کو یقینی بنانا بھی اس پالیسی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس فیصلے پر دیانتداری سے عمل درآمد کیا گیا تو نہ صرف بجلی کے ضیاع میں کمی آئے گی بلکہ عوام میں یہ پیغام بھی جائے گا کہ قانون سب کے لئے برابر ہے، چاہے وہ عام شہری ہو یا سرکاری افسر۔
اس فیصلے کو مؤثر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اسمارٹ میٹر نظام کے ساتھ ساتھ بقایا جات کی فوری وصولی کا بھی جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ اگر سرکاری محکموں کے پرانے واجبات ادا نہ ہوئے تو اس اقدام کا مقصد ادھورا رہ جائے گا۔ بجلی جیسے حساس شعبے میں نظم و ضبط اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب احتساب کا عمل بلا امتیاز ہو اور اصلاحات محض کاغذی کارروائی کے بجائے عملی شکل اختیار کریں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں