دنیا کے کسی بھی حصے میں چاہے وہ بنگلہ دیش میں ہندوں کی یا ہماچل پردیش، اتراکھنڈمیں کشمیری شال فروشوں کی غرض کرۂ ارض کا کوئی اور خطہ، کسی فرد پر تشدد، مارپیٹ یا ہراسانی ہر صورت میں قابلِ مذمت ہے۔ انسانی وقار، جان و مال کا تحفظ اور عزت کے ساتھ جینے کا حق کسی سرحد، مذہب یا شناخت کا محتاج نہیں۔ جب کسی انسان پر ہاتھ اٹھایا جاتا ہے تو دراصل پورا معاشرہ اخلاقی طور پر زخمی ہو جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات اس تلخ حقیقت کو پھر سے اجاگر کرتے ہیں۔ اتراکھنڈ میں ایک کشمیری دستکار پر محض اس کی شناخت کی بنیاد پر تشدد کیا گیا، جس کی ویڈیو نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اسی طرح ہماچل پردیش میں پیش آنے والا تشدد کا واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ طاقت اور اختیار جب اخلاق سے خالی ہو جائیں تو وہ انسانیت کو روند ڈالتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھی حالیہ عرصے کے دوران مختلف افراد کو ہجوم کے تشدد اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جس نے قانون کی عمل داری اور سماجی برداشت پر سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔
یہ واقعات الگ الگ جغرافیوں میں ضرور پیش آئے، مگر ان کی جڑ ایک ہی ہے۔ عدم برداشت، تعصب، طاقت کا غلط استعمال اور قانون کے خوف کا ختم ہو جانا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اکثر ایسے واقعات کے بعد وقتی غم و غصہ تو دکھائی دیتا ہے، مگر جیسے ہی خبر کی حدت کم ہوتی ہے، اجتماعی ضمیر بھی خاموش ہو جاتا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تشدد صرف جسم کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ خوف، نفرت اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔ جب کسی فرد کو سرِعام مارا جاتا ہے یا ہراساں کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ لوگ خاموش ہو جاتے ہیں، سچ بولنے سے ڈرتے ہیں اور انصاف پر یقین متزلزل ہو جاتا ہے۔
ریاست اور سماج دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے جرائم کے خلاف واضح اور غیر مبہم مؤقف اختیار کریں۔ قانون کو محض کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر نافذ کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں، مذہبی منبروں اور میڈیا کو عدم تشدد، رواداری اور انسانی احترام کا پیغام مضبوطی سے عام کرنا ہوگا۔
یہ بات طے ہونی چاہیے کہ کسی بھی فرد پر تشدد، چاہے وہ کسی بھی شناخت، طبقے یا علاقے سے تعلق رکھتا ہو، ناقابلِ قبول ہے۔ انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں، خاموش تماشائی بننے سے انکار کریں اور ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کریں جہاں اختلاف ہو سکتا ہے، مگر تشدد کی کوئی گنجائش نہیں۔
تشدد کہیں بھی ہو انسانیت مجروح ہوتی ہے
تشدد کہیں بھی ہو انسانیت مجروح ہوتی ہے
دنیا کے کسی بھی حصے میں چاہے وہ بنگلہ دیش میں ہندوں کی یا ہماچل پردیش، اتراکھنڈمیں کشمیری شال فروشوں کی غرض کرۂ ارض کا کوئی اور خطہ، کسی فرد پر تشدد، مارپیٹ یا ہراسانی ہر صورت میں قابلِ مذمت ہے۔ انسانی وقار، جان و مال کا تحفظ اور عزت کے ساتھ جینے کا حق کسی سرحد، مذہب یا شناخت کا محتاج نہیں۔ جب کسی انسان پر ہاتھ اٹھایا جاتا ہے تو دراصل پورا معاشرہ اخلاقی طور پر زخمی ہو جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات اس تلخ حقیقت کو پھر سے اجاگر کرتے ہیں۔ اتراکھنڈ میں ایک کشمیری دستکار پر محض اس کی شناخت کی بنیاد پر تشدد کیا گیا، جس کی ویڈیو نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اسی طرح ہماچل پردیش میں پیش آنے والا تشدد کا واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ طاقت اور اختیار جب اخلاق سے خالی ہو جائیں تو وہ انسانیت کو روند ڈالتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھی حالیہ عرصے کے دوران مختلف افراد کو ہجوم کے تشدد اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جس نے قانون کی عمل داری اور سماجی برداشت پر سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔
یہ واقعات الگ الگ جغرافیوں میں ضرور پیش آئے، مگر ان کی جڑ ایک ہی ہے۔ عدم برداشت، تعصب، طاقت کا غلط استعمال اور قانون کے خوف کا ختم ہو جانا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اکثر ایسے واقعات کے بعد وقتی غم و غصہ تو دکھائی دیتا ہے، مگر جیسے ہی خبر کی حدت کم ہوتی ہے، اجتماعی ضمیر بھی خاموش ہو جاتا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تشدد صرف جسم کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ خوف، نفرت اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔ جب کسی فرد کو سرِعام مارا جاتا ہے یا ہراساں کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ لوگ خاموش ہو جاتے ہیں، سچ بولنے سے ڈرتے ہیں اور انصاف پر یقین متزلزل ہو جاتا ہے۔
ریاست اور سماج دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے جرائم کے خلاف واضح اور غیر مبہم مؤقف اختیار کریں۔ قانون کو محض کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر نافذ کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں، مذہبی منبروں اور میڈیا کو عدم تشدد، رواداری اور انسانی احترام کا پیغام مضبوطی سے عام کرنا ہوگا۔
یہ بات طے ہونی چاہیے کہ کسی بھی فرد پر تشدد، چاہے وہ کسی بھی شناخت، طبقے یا علاقے سے تعلق رکھتا ہو، ناقابلِ قبول ہے۔ انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں، خاموش تماشائی بننے سے انکار کریں اور ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کریں جہاں اختلاف ہو سکتا ہے، مگر تشدد کی کوئی گنجائش نہیں۔


