جموں و کشمیر میں ریزرویشن: سماجی انصاف سے نظامی ناانصافی تک

ڈاکٹر شیخ غلام رسول

جموں و کشمیر میں ریزرویشن کا سوال اب محض ایک انتظامی یا قانونی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک گہرے سماجی، اخلاقی اور آئینی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ وہ پالیسی جو ابتدا میں محرومی، پسماندگی اور تاریخی ناانصافی کے ازالے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی، آج خود ایک ایسی نظامی ناہمواری میں تبدیل ہو چکی ہے جس نے اہل، محنتی اور میرٹ پر کھڑے نوجوانوں کو مسلسل دیوار سے لگا رکھا ہے۔
تعلیم، سرکاری ملازمتیں، پیشہ ورانہ ادارے اور ترقی کے دیگر مواقع، ہر سطح پر ایک ہی سوال گونج رہا ہے۔
کیا ریزرویشن واقعی محروم طبقات تک پہنچ رہی ہے، یا یہ چند طاقتور طبقوں کے ہاتھوں میں ایک مستقل مراعت بن چکی ہے؟
ریزرویشن کا اصل فلسفہ
ہندوستانی آئین اور بعد ازاں جموں و کشمیر کے قانونی ڈھانچے میں ریزرویشن کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ تاریخی طور پر محروم طبقات کو مواقع فراہم کیے جائیں، دور دراز، پسماندہ اور نظرانداز شدہ علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے، تعلیم اور روزگار میں مساوی مواقع پیدا ہوں اور غربت و سماجی پسماندگی کے مسلسل چکر کو توڑا جائے۔
یہ فلسفہ بذات خود قابل احترام اور آئینی طور پر درست ہے۔ مگر اصل سوال نیت کا نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ کا ہے۔
جموں و کشمیر میں ریزرویشن کی اقسام
اس وقت جموں و کشمیر میں درج ذیل ریزرویشن زمرے نافذ العمل ہیں۔
شیڈیولڈ ٹرائب
شیڈیولڈ کاسٹ
او بی سی
ریزیڈنٹس آف بیک ورڈ ایریاز
ایل اے سی اور انٹرنیشنل بارڈر
اکنامکلی ویکر سیکشنز
بظاہر یہ تمام زمرے مختلف نوعیت کی محرومیوں کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان زمروں کے اندر بھی شدید طبقاتی فرق جنم لے چکا ہے۔
کریمی لیئر کا سوال، سب سے بڑی خامی
ریزرویشن نظام کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ شیڈیولڈ ٹرائب، ریزیڈنٹس آف بیک ورڈ ایریاز اور دیگر کئی زمروں میں کریمی لیئر کے اصول کو آج تک مؤثر انداز میں نافذ نہیں کیا گیا۔
نتیجتاً وہی خاندان اور وہی طبقہ نسل در نسل ریزرویشن کے فوائد سمیٹ رہا ہے۔ اعلی تعلیم، بہتر روزگار اور سیاسی رسائی رکھنے والے افراد بار بار وہی نشستیں حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ غریب، پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان اسی زمرے میں شامل ہونے کے باوجود مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
یہ صورتحال ریزرویشن کے اخلاقی جواز کو مسلسل کمزور کر رہی ہے۔
اوپن میرٹ، سب سے زیادہ نظرانداز طبقہ
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اوپن میرٹ کے طلبہ اعلی نمبروں، سخت مقابلے اور شفاف امتحانی عمل کے باوجود اکثر نشستوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ نوجوان نہ امیر ہوتے ہیں، نہ بااثر، نہ ہی کسی مخصوص ریزرویشن شناخت کے حامل، لیکن محض اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی مراعاتی ساخت موجود نہیں۔
یہ صورتحال اس ریاست کے باشعور معاشرے کے سامنے ایک سنجیدہ سوال رکھتی ہے۔
کیا جموں و کشمیر میں میرٹ اور اہلیت جرم بنتے جا رہے ہیں؟
سیاسی ریزرویشن اور قبائلی ترجیحات
سیاسی سطح پر بھی ریزرویشن ایک نہایت حساس مسئلہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر پیر پنجال خطے کے قبائلی طبقات کو سیاسی نمائندگی میں واضح برتری اور ترجیح حاصل ہے، جبکہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے قبائلی گروہ محدود نشستوں تک سمٹ کر رہ گئے ہیں۔
یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ سیاسی ریزرویشن حقیقی سماجی انصاف کے بجائے سیاسی مفادات کے تحت ترتیب دی جا رہی ہے۔ اگر اس فرق اور نابرابری کو شفاف پالیسی اور بامعنی مکالمے کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو قبائلی برادریوں کے درمیان خلیج مزید گہری ہونے کے امکانات واضح ہیں۔
عدالتی تناظر
بھارتی عدلیہ بارہا یہ واضح کر چکی ہے کہ ریزرویشن کوئی مستقل حق نہیں بلکہ ایک عارضی اصلاحی اقدام ہے۔ اندرا ساہنی بنام یونین آف انڈیا کیس میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ریزرویشن کا مقصد سماجی پسماندگی کا خاتمہ ہے، نہ کہ ایک مستقل مراعاتی طبقہ پیدا کرنا۔
اسی طرح عدالت نے پچاس فیصد کی حد، کریمی لیئر کے تصور اور میرٹ کے تحفظ پر بار بار زور دیا۔ یہ فیصلے آج بھی اتنے ہی بامعنی اور متعلقہ ہیں جتنے تین دہائیاں قبل تھے۔
مغربی دنیا سے سبق آموز فکر
ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کے میدان میں مساوی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، لیکن یہ عمل اسکالرشپس، مالی امداد اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے ہوتا ہے، نہ کہ وسیع ریزرویشن کے ذریعے۔
ملازمتیں سخت مقابلے، پیشہ ورانہ صلاحیت اور شفاف میرٹ کی بنیاد پر فراہم کی جاتی ہیں۔ وہاں یہ تصور غالب ہے کہ ریاست کا کام مواقع فراہم کرنا ہے، نتائج مسلط کرنا نہیں۔
یہ ماڈل ہمیں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم نے ریزرویشن کو اصلاح کے بجائے ایک مستقل سہارا بنا دیا ہے؟
اوپن میرٹ کے امیدواروں کو مسلسل پیچھے دھکیلنے کا نتیجہ محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ نوجوانوں میں مایوسی، ذہنی دباؤ اور ریاستی اداروں پر عدم اعتماد کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سماجی انصاف کا مطلب یہ ہے کہ محنت، قابلیت اور اہلیت کو مسلسل نظرانداز کیا جائے؟
اصل سوال کیا ہے
جموں و کشمیر میں اصل سوال یہ نہیں کہ کون کس ذات، قبیلے یا علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون تعلیمی طور پر محروم ہے، کون معاشی طور پر کمزور ہے اور کون جغرافیائی طور پر کٹا ہوا ہے۔
جب ریزرویشن شناخت پر مرکوز ہو جائے اور حقیقی محرومی کو نظرانداز کر دے تو انصاف محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔
ایک جامع اور انسانی حل
اس بحران کا حل نفی یا نفرت میں نہیں بلکہ اصلاح، شفافیت اور مکالمے میں ہے۔ تمام زمروں میں کریمی لیئر کا نفاذ، سماجی اور معاشی سروے کی بنیاد پر فوائد کی تقسیم، تعلیم پر بھرپور سرمایہ کاری، ابتدائی سطح پر مواقع کی برابری اور سنجیدہ سیاسی و سماجی مکالمہ ناگزیر ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ کسی مخصوص برادری یا شناخت کو نشانہ نہ بنایا جائے، تاکہ ہم آہنگی قائم رہے اور خلیج پیدا نہ ہو۔ مسئلے کا حل اصولی، آئینی اور انسانی بنیادوں پر تلاش کیا جائے تاکہ مسلسل حق تلفی کا خاتمہ ممکن ہو۔
جموں و کشمیر کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ایسا انصاف ہے جو نظر آئے، ایسا میرٹ جو محفوظ ہو اور ایسے مواقع جو واقعی محروم طبقات تک پہنچیں۔ ریزرویشن کا مستقبل نفرت، تقسیم یا سیاسی نعرہ بازی میں نہیں بلکہ دانشمندانہ اصلاحات میں مضمر ہے۔
آئیے اوپن میرٹ، ریزروڈ طبقات، قبائلی اور غیر قبائلی سب مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیں جو ہر فرد کے لیے منصفانہ اور عدل پر مبنی پائیدار مستقبل کی ضمانت دے۔ ریزرویشن کا سوال کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مستقبل کا سوال ہے۔ ہمیں جذبات، الزام تراشی اور تقسیم کے بجائے انصاف، ہمدردی اور عقل سے کام لینا ہوگا۔
اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ کوئی بھی بچہ، نوجوان یا خاندان محض اس لیے پیچھے نہ رہ جائے کہ وہ کمزور، دور افتادہ یا بے آواز ہے۔ ہمیں ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جو واقعی مستحقین تک پہنچے، میرٹ کی عزت کرے اور ریاست کو سماجی ہم آہنگی، ترقی اور انصاف کی راہ پر گامزن کرے۔
آگے کا راستہ، ایک جامع اور منصفانہ حکمت عملی
جموں و کشمیر کے لیے ایک ہمہ گیر حل درج ذیل ستونوں پر قائم ہونا چاہیے۔
تمام قابل اطلاق زمروں میں کریمی لیئر کا نفاذ تاکہ بار بار فائدہ اٹھانے کا سلسلہ رکے۔
ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی تاکہ حقیقی محرومی کی نشاندہی زمینی حقائق کی بنیاد پر ہو۔
تعلیم میں مضبوط سرمایہ کاری، بالخصوص دور دراز علاقوں میں اسکول، کالج، کوچنگ اور اسکالرشپس۔
نوکریوں میں میرٹ اور شفافیت، تاکہ ریزرویشن کے ساتھ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
علاقائی توازن، تاکہ قبائلی اور پسماندہ علاقوں کے درمیان منصفانہ تقسیم ممکن ہو۔
مسلسل اور بامعنی مکالمہ، جس میں تمام طبقات، ماہرین، سول سوسائٹی اور نوجوان شامل ہوں۔
کیونکہ ایک منصفانہ اور ہم آہنگ جموں و کشمیر ہی ایک مضبوط جموں و کشمیر کی بنیاد ہے۔

مصنف ڈاکٹر شیخ غلام رسول برصغیر کے معروف سماجی و ماحولیاتی کارکن اور جموں و کشمیر آر ٹی آئی موومنٹ وتوس مَیدان بچاؤ فرنٹ کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر میں ریزرویشن: سماجی انصاف سے نظامی ناانصافی تک

ڈاکٹر شیخ غلام رسول

جموں و کشمیر میں ریزرویشن کا سوال اب محض ایک انتظامی یا قانونی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک گہرے سماجی، اخلاقی اور آئینی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ وہ پالیسی جو ابتدا میں محرومی، پسماندگی اور تاریخی ناانصافی کے ازالے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی، آج خود ایک ایسی نظامی ناہمواری میں تبدیل ہو چکی ہے جس نے اہل، محنتی اور میرٹ پر کھڑے نوجوانوں کو مسلسل دیوار سے لگا رکھا ہے۔
تعلیم، سرکاری ملازمتیں، پیشہ ورانہ ادارے اور ترقی کے دیگر مواقع، ہر سطح پر ایک ہی سوال گونج رہا ہے۔
کیا ریزرویشن واقعی محروم طبقات تک پہنچ رہی ہے، یا یہ چند طاقتور طبقوں کے ہاتھوں میں ایک مستقل مراعت بن چکی ہے؟
ریزرویشن کا اصل فلسفہ
ہندوستانی آئین اور بعد ازاں جموں و کشمیر کے قانونی ڈھانچے میں ریزرویشن کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ تاریخی طور پر محروم طبقات کو مواقع فراہم کیے جائیں، دور دراز، پسماندہ اور نظرانداز شدہ علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے، تعلیم اور روزگار میں مساوی مواقع پیدا ہوں اور غربت و سماجی پسماندگی کے مسلسل چکر کو توڑا جائے۔
یہ فلسفہ بذات خود قابل احترام اور آئینی طور پر درست ہے۔ مگر اصل سوال نیت کا نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ کا ہے۔
جموں و کشمیر میں ریزرویشن کی اقسام
اس وقت جموں و کشمیر میں درج ذیل ریزرویشن زمرے نافذ العمل ہیں۔
شیڈیولڈ ٹرائب
شیڈیولڈ کاسٹ
او بی سی
ریزیڈنٹس آف بیک ورڈ ایریاز
ایل اے سی اور انٹرنیشنل بارڈر
اکنامکلی ویکر سیکشنز
بظاہر یہ تمام زمرے مختلف نوعیت کی محرومیوں کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان زمروں کے اندر بھی شدید طبقاتی فرق جنم لے چکا ہے۔
کریمی لیئر کا سوال، سب سے بڑی خامی
ریزرویشن نظام کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ شیڈیولڈ ٹرائب، ریزیڈنٹس آف بیک ورڈ ایریاز اور دیگر کئی زمروں میں کریمی لیئر کے اصول کو آج تک مؤثر انداز میں نافذ نہیں کیا گیا۔
نتیجتاً وہی خاندان اور وہی طبقہ نسل در نسل ریزرویشن کے فوائد سمیٹ رہا ہے۔ اعلی تعلیم، بہتر روزگار اور سیاسی رسائی رکھنے والے افراد بار بار وہی نشستیں حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ غریب، پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان اسی زمرے میں شامل ہونے کے باوجود مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
یہ صورتحال ریزرویشن کے اخلاقی جواز کو مسلسل کمزور کر رہی ہے۔
اوپن میرٹ، سب سے زیادہ نظرانداز طبقہ
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اوپن میرٹ کے طلبہ اعلی نمبروں، سخت مقابلے اور شفاف امتحانی عمل کے باوجود اکثر نشستوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ نوجوان نہ امیر ہوتے ہیں، نہ بااثر، نہ ہی کسی مخصوص ریزرویشن شناخت کے حامل، لیکن محض اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی مراعاتی ساخت موجود نہیں۔
یہ صورتحال اس ریاست کے باشعور معاشرے کے سامنے ایک سنجیدہ سوال رکھتی ہے۔
کیا جموں و کشمیر میں میرٹ اور اہلیت جرم بنتے جا رہے ہیں؟
سیاسی ریزرویشن اور قبائلی ترجیحات
سیاسی سطح پر بھی ریزرویشن ایک نہایت حساس مسئلہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر پیر پنجال خطے کے قبائلی طبقات کو سیاسی نمائندگی میں واضح برتری اور ترجیح حاصل ہے، جبکہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے قبائلی گروہ محدود نشستوں تک سمٹ کر رہ گئے ہیں۔
یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ سیاسی ریزرویشن حقیقی سماجی انصاف کے بجائے سیاسی مفادات کے تحت ترتیب دی جا رہی ہے۔ اگر اس فرق اور نابرابری کو شفاف پالیسی اور بامعنی مکالمے کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو قبائلی برادریوں کے درمیان خلیج مزید گہری ہونے کے امکانات واضح ہیں۔
عدالتی تناظر
بھارتی عدلیہ بارہا یہ واضح کر چکی ہے کہ ریزرویشن کوئی مستقل حق نہیں بلکہ ایک عارضی اصلاحی اقدام ہے۔ اندرا ساہنی بنام یونین آف انڈیا کیس میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ریزرویشن کا مقصد سماجی پسماندگی کا خاتمہ ہے، نہ کہ ایک مستقل مراعاتی طبقہ پیدا کرنا۔
اسی طرح عدالت نے پچاس فیصد کی حد، کریمی لیئر کے تصور اور میرٹ کے تحفظ پر بار بار زور دیا۔ یہ فیصلے آج بھی اتنے ہی بامعنی اور متعلقہ ہیں جتنے تین دہائیاں قبل تھے۔
مغربی دنیا سے سبق آموز فکر
ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کے میدان میں مساوی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، لیکن یہ عمل اسکالرشپس، مالی امداد اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے ہوتا ہے، نہ کہ وسیع ریزرویشن کے ذریعے۔
ملازمتیں سخت مقابلے، پیشہ ورانہ صلاحیت اور شفاف میرٹ کی بنیاد پر فراہم کی جاتی ہیں۔ وہاں یہ تصور غالب ہے کہ ریاست کا کام مواقع فراہم کرنا ہے، نتائج مسلط کرنا نہیں۔
یہ ماڈل ہمیں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم نے ریزرویشن کو اصلاح کے بجائے ایک مستقل سہارا بنا دیا ہے؟
اوپن میرٹ کے امیدواروں کو مسلسل پیچھے دھکیلنے کا نتیجہ محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ نوجوانوں میں مایوسی، ذہنی دباؤ اور ریاستی اداروں پر عدم اعتماد کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سماجی انصاف کا مطلب یہ ہے کہ محنت، قابلیت اور اہلیت کو مسلسل نظرانداز کیا جائے؟
اصل سوال کیا ہے
جموں و کشمیر میں اصل سوال یہ نہیں کہ کون کس ذات، قبیلے یا علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون تعلیمی طور پر محروم ہے، کون معاشی طور پر کمزور ہے اور کون جغرافیائی طور پر کٹا ہوا ہے۔
جب ریزرویشن شناخت پر مرکوز ہو جائے اور حقیقی محرومی کو نظرانداز کر دے تو انصاف محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔
ایک جامع اور انسانی حل
اس بحران کا حل نفی یا نفرت میں نہیں بلکہ اصلاح، شفافیت اور مکالمے میں ہے۔ تمام زمروں میں کریمی لیئر کا نفاذ، سماجی اور معاشی سروے کی بنیاد پر فوائد کی تقسیم، تعلیم پر بھرپور سرمایہ کاری، ابتدائی سطح پر مواقع کی برابری اور سنجیدہ سیاسی و سماجی مکالمہ ناگزیر ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ کسی مخصوص برادری یا شناخت کو نشانہ نہ بنایا جائے، تاکہ ہم آہنگی قائم رہے اور خلیج پیدا نہ ہو۔ مسئلے کا حل اصولی، آئینی اور انسانی بنیادوں پر تلاش کیا جائے تاکہ مسلسل حق تلفی کا خاتمہ ممکن ہو۔
جموں و کشمیر کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ایسا انصاف ہے جو نظر آئے، ایسا میرٹ جو محفوظ ہو اور ایسے مواقع جو واقعی محروم طبقات تک پہنچیں۔ ریزرویشن کا مستقبل نفرت، تقسیم یا سیاسی نعرہ بازی میں نہیں بلکہ دانشمندانہ اصلاحات میں مضمر ہے۔
آئیے اوپن میرٹ، ریزروڈ طبقات، قبائلی اور غیر قبائلی سب مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیں جو ہر فرد کے لیے منصفانہ اور عدل پر مبنی پائیدار مستقبل کی ضمانت دے۔ ریزرویشن کا سوال کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مستقبل کا سوال ہے۔ ہمیں جذبات، الزام تراشی اور تقسیم کے بجائے انصاف، ہمدردی اور عقل سے کام لینا ہوگا۔
اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ کوئی بھی بچہ، نوجوان یا خاندان محض اس لیے پیچھے نہ رہ جائے کہ وہ کمزور، دور افتادہ یا بے آواز ہے۔ ہمیں ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جو واقعی مستحقین تک پہنچے، میرٹ کی عزت کرے اور ریاست کو سماجی ہم آہنگی، ترقی اور انصاف کی راہ پر گامزن کرے۔
آگے کا راستہ، ایک جامع اور منصفانہ حکمت عملی
جموں و کشمیر کے لیے ایک ہمہ گیر حل درج ذیل ستونوں پر قائم ہونا چاہیے۔
تمام قابل اطلاق زمروں میں کریمی لیئر کا نفاذ تاکہ بار بار فائدہ اٹھانے کا سلسلہ رکے۔
ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی تاکہ حقیقی محرومی کی نشاندہی زمینی حقائق کی بنیاد پر ہو۔
تعلیم میں مضبوط سرمایہ کاری، بالخصوص دور دراز علاقوں میں اسکول، کالج، کوچنگ اور اسکالرشپس۔
نوکریوں میں میرٹ اور شفافیت، تاکہ ریزرویشن کے ساتھ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
علاقائی توازن، تاکہ قبائلی اور پسماندہ علاقوں کے درمیان منصفانہ تقسیم ممکن ہو۔
مسلسل اور بامعنی مکالمہ، جس میں تمام طبقات، ماہرین، سول سوسائٹی اور نوجوان شامل ہوں۔
کیونکہ ایک منصفانہ اور ہم آہنگ جموں و کشمیر ہی ایک مضبوط جموں و کشمیر کی بنیاد ہے۔

مصنف ڈاکٹر شیخ غلام رسول برصغیر کے معروف سماجی و ماحولیاتی کارکن اور جموں و کشمیر آر ٹی آئی موومنٹ وتوس مَیدان بچاؤ فرنٹ کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں