نقل مکانی کرتی دنیا میں انسانی وقار

ہر سال بین الاقوامی یومِ مہاجرین ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہجرت محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ امید، خوف، جدوجہد اور بقا سے جڑی ایک انسانی حقیقت ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں اس دن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں جنگیں، موسمیاتی تبدیلی، معاشی عدم مساوات اور سیاسی عدم استحکام لاکھوں انسانوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
آج کی دنیا میں ہجرت ایک گہرے تضاد کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ایک طرف مہاجرین عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہیں، وہ شہر تعمیر کرتے ہیں، کھیتوں میں محنت کرتے ہیں، بزرگوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور بنیادی خدمات کو سہارا دیتے ہیں۔ دوسری طرف انہیں بوجھ، خطرہ یا سیاسی ہتھیار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ خدمات اور تاثر کے درمیان یہی خلیج نفرت، امتیازی پالیسیوں اور سماجی اخراج کو جنم دے رہی ہے۔
غزہ، یوکرین، سوڈان، افغانستان اور دیگر خطوں میں جاری تنازعات نے کروڑوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی ایک خاموش مگر طاقتور سبب کے طور پر ابھر رہی ہے۔ سیلاب، خشک سالی اور ماحولیاتی بگاڑ صدیوں سے آباد برادریوں کو اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں، مگر عالمی قوانین اب تک موسمیاتی مہاجرین کو واضح قانونی تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔
مہاجر مزدور، خاص طور پر کم اجرت اور غیر رسمی شعبوں سے وابستہ افراد، سب سے زیادہ استحصال کا شکار ہیں۔ غیر محفوظ کام کے حالات، اجرت کی کٹوتی، قانونی تحفظ کی عدم دستیابی عام مسائل بن چکے ہیں۔ خواتین مہاجرین کو تشدد اور انسانی اسمگلنگ کا زیادہ خطرہ لاحق رہتا ہے، جبکہ ہجرت کرنے والے بچوں کی تعلیم، ذہنی صحت اور مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ تمام حقائق عالمی ضمیر پر ایک سنگین سوال کھڑا کرتے ہیں۔
کئی ممالک میں ہجرت کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ خوف کو ہوا دی جاتی ہے، حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے اور مہاجرین کو معاشی مسائل کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ ایسی سوچ نہ صرف اصل مسائل سے توجہ ہٹاتی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
بین الاقوامی یومِ مہاجرین صرف ہمدردی کا دن نہیں بلکہ ذمہ داری کا دن ہے۔ ریاستوں کو چاہیے کہ وہ محض بیانات سے آگے بڑھ کر انسانی حقوق پر مبنی منصفانہ ہجرتی پالیسیاں اپنائیں۔ محفوظ اور قانونی راستے، مہاجرین کا تحفظ، منصفانہ مزدوری قوانین اور بنیادی سہولیات تک رسائی خیرات نہیں بلکہ انسانی ذمہ داری ہے۔
سماج کی سطح پر بھی رویوں میں تبدیلی ضروری ہے۔ مہاجرین اپنی مرضی سے اجنبی نہیں بنتے۔ وہ بھی والدین، محنت کش، طالب علم اور خواب دیکھنے والے انسان ہیں، جو وہی چاہتے ہیں جو ہر انسان چاہتا ہے، تحفظ، مواقع اور عزت۔
نقل و حرکت سے بھرپور اس دور میں دیواریں حل نہیں ہو سکتیں۔ انصاف، تعاون اور انسان دوستی ہی ہجرت کے عالمی چیلنج کا پائیدار جواب ہیں۔ بین الاقوامی یومِ مہاجرین ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم خوف کے بجائے انسانیت اور تقسیم کے بجائے وقار کا انتخاب کریں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

سچائی مکالمے سے نہیں ڈرتی

ام ماریہ حق آج دنیا مذہب، ثقافت، زبان اور نظریات...

پنڈت نہرو کے انڈیا سے مودی جی کے بھارت تک کا سفر

ہردیپ سنگھ پوری مرکزی وزیر پیٹرولیم اور قدرتی گیس وزیرِاعظم نریندر مودی...

1448 ہجری کی آمد مبارک ہو، مگر یاد رکھیے!

افتخاراحمدقادری ایک اور سال اپنی تمام یادوں، حسرتوں، کامیابیوں...

تازہ ترین خبریں

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

سچائی مکالمے سے نہیں ڈرتی

ام ماریہ حق آج دنیا مذہب، ثقافت، زبان اور نظریات...

پنڈت نہرو کے انڈیا سے مودی جی کے بھارت تک کا سفر

ہردیپ سنگھ پوری مرکزی وزیر پیٹرولیم اور قدرتی گیس وزیرِاعظم نریندر مودی...

1448 ہجری کی آمد مبارک ہو، مگر یاد رکھیے!

افتخاراحمدقادری ایک اور سال اپنی تمام یادوں، حسرتوں، کامیابیوں...

نقل مکانی کرتی دنیا میں انسانی وقار

ہر سال بین الاقوامی یومِ مہاجرین ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہجرت محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ امید، خوف، جدوجہد اور بقا سے جڑی ایک انسانی حقیقت ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں اس دن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں جنگیں، موسمیاتی تبدیلی، معاشی عدم مساوات اور سیاسی عدم استحکام لاکھوں انسانوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
آج کی دنیا میں ہجرت ایک گہرے تضاد کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ایک طرف مہاجرین عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہیں، وہ شہر تعمیر کرتے ہیں، کھیتوں میں محنت کرتے ہیں، بزرگوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور بنیادی خدمات کو سہارا دیتے ہیں۔ دوسری طرف انہیں بوجھ، خطرہ یا سیاسی ہتھیار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ خدمات اور تاثر کے درمیان یہی خلیج نفرت، امتیازی پالیسیوں اور سماجی اخراج کو جنم دے رہی ہے۔
غزہ، یوکرین، سوڈان، افغانستان اور دیگر خطوں میں جاری تنازعات نے کروڑوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی ایک خاموش مگر طاقتور سبب کے طور پر ابھر رہی ہے۔ سیلاب، خشک سالی اور ماحولیاتی بگاڑ صدیوں سے آباد برادریوں کو اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں، مگر عالمی قوانین اب تک موسمیاتی مہاجرین کو واضح قانونی تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔
مہاجر مزدور، خاص طور پر کم اجرت اور غیر رسمی شعبوں سے وابستہ افراد، سب سے زیادہ استحصال کا شکار ہیں۔ غیر محفوظ کام کے حالات، اجرت کی کٹوتی، قانونی تحفظ کی عدم دستیابی عام مسائل بن چکے ہیں۔ خواتین مہاجرین کو تشدد اور انسانی اسمگلنگ کا زیادہ خطرہ لاحق رہتا ہے، جبکہ ہجرت کرنے والے بچوں کی تعلیم، ذہنی صحت اور مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ تمام حقائق عالمی ضمیر پر ایک سنگین سوال کھڑا کرتے ہیں۔
کئی ممالک میں ہجرت کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ خوف کو ہوا دی جاتی ہے، حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے اور مہاجرین کو معاشی مسائل کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ ایسی سوچ نہ صرف اصل مسائل سے توجہ ہٹاتی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
بین الاقوامی یومِ مہاجرین صرف ہمدردی کا دن نہیں بلکہ ذمہ داری کا دن ہے۔ ریاستوں کو چاہیے کہ وہ محض بیانات سے آگے بڑھ کر انسانی حقوق پر مبنی منصفانہ ہجرتی پالیسیاں اپنائیں۔ محفوظ اور قانونی راستے، مہاجرین کا تحفظ، منصفانہ مزدوری قوانین اور بنیادی سہولیات تک رسائی خیرات نہیں بلکہ انسانی ذمہ داری ہے۔
سماج کی سطح پر بھی رویوں میں تبدیلی ضروری ہے۔ مہاجرین اپنی مرضی سے اجنبی نہیں بنتے۔ وہ بھی والدین، محنت کش، طالب علم اور خواب دیکھنے والے انسان ہیں، جو وہی چاہتے ہیں جو ہر انسان چاہتا ہے، تحفظ، مواقع اور عزت۔
نقل و حرکت سے بھرپور اس دور میں دیواریں حل نہیں ہو سکتیں۔ انصاف، تعاون اور انسان دوستی ہی ہجرت کے عالمی چیلنج کا پائیدار جواب ہیں۔ بین الاقوامی یومِ مہاجرین ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم خوف کے بجائے انسانیت اور تقسیم کے بجائے وقار کا انتخاب کریں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں