کشمیر کی سخت سردیوں میں صحت کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ وقتی آرام کی تلاش میں اپنی صحت کو خطرے میں ڈالنا دانشمندی نہیں۔ خود علاج وقتی سکون تو دے سکتا ہے، مگر محفوظ اور پائیدار شفا صرف درست طبی رہنمائی سے ہی ممکن ہے۔جوں ہی کشمیر میں سردیوں کی شدت بڑھتی ہے، نزلہ، زکام، کھانسی، گلا خراب ہونا اور موسمی بخار عام ہو جاتا ہے۔ اس دوران دواخانوں پر رش بڑھ جاتا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ بغیر کسی نسخے کے اینٹی کولڈ گولیاں، کھانسی کے شربت اور درد کش ادویات استعمال کرنے لگتے ہیں۔ وادی کے ڈاکٹروں نے بار بار خبردار کیا ہے کہ سردیوں میں خود علاج کا یہ بڑھتا ہوا رجحان ایک سنگین صحت عامہ کے مسئلے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
اس رجحان کی بنیادی وجہ سہولت اور عادت ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سردیوں کی بیماریاں معمولی اور وقتی ہوتی ہیں، جن کے لئے ڈاکٹر سے رجوع ضروری نہیں۔ کسی پرانے نسخے، پڑوسی کے مشورے یا کیمسٹ کی تجویز پر دوائیں لے لی جاتی ہیں۔ تاہم ماہرین طب کے مطابق بخار، کھانسی یا ناک بند ہونے جیسی علامات مختلف بیماریوں کی نشاندہی کر سکتی ہیں، جن میں وائرل انفیکشن، بیکٹیریل بیماری یا حتیٰ کہ نمونیا کی ابتدائی علامات بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ ایک ہی دوا سے ہر علامت کا علاج کرنا درست تشخیص اور بروقت علاج میں تاخیر کا سبب بنتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کھانسی کے شربتوں کا حد سے زیادہ استعمال، خصوصاً وہ شربت جن میں سکون آور اجزا شامل ہوتے ہیں، غنودگی، عادت اور سانس کی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح اینٹی کولڈ ادویات اور درد کش گولیوں کا مسلسل استعمال جگر، گردوں اور معدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سردیوں میں پانی کی کمی اور جسمانی سرگرمی میں کمی ان خطرات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
ایک اور تشویشناک پہلو اینٹی بایوٹکس کا بے جا استعمال ہے۔ بہت سے لوگ نزلہ یا بخار ہوتے ہی خود ہی اینٹی بایوٹک شروع کر دیتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر واضح کرتے ہیں کہ سردیوں میں زیادہ تر بیماریاں وائرل ہوتی ہیں جن میں اینٹی بایوٹکس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس روش سے اینٹی بایوٹک مزاحمت پیدا ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں انفیکشن کا علاج مشکل اور مہنگا ہو سکتا ہے۔
بچوں، بزرگوں اور دائمی امراض جیسے ذیابیطس، دل کے امراض یا دمہ کے مریضوں کے لئے خود علاج خاص طور پر خطرناک ہے۔ جو دوا ایک شخص کے لئے معمولی سمجھی جاتی ہے، وہ دوسرے کے لئے سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔
اس مسئلے کا حل شعور اور ذمہ داری میں مضمر ہے۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کوئی بھی دوا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ سردیوں کی عام بیماریوں میں بھی مستند معالج سے رجوع کرنا طویل المدتی نقصانات سے بچا سکتا ہے۔ کیمسٹ حضرات پر بھی لازم ہے کہ بغیر نسخے کے طاقتور ادویات فروخت کرنے سے گریز کریں۔
سردیوں میں خود علاج خاموش طبی خطرہ
سردیوں میں خود علاج خاموش طبی خطرہ
کشمیر کی سخت سردیوں میں صحت کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ وقتی آرام کی تلاش میں اپنی صحت کو خطرے میں ڈالنا دانشمندی نہیں۔ خود علاج وقتی سکون تو دے سکتا ہے، مگر محفوظ اور پائیدار شفا صرف درست طبی رہنمائی سے ہی ممکن ہے۔جوں ہی کشمیر میں سردیوں کی شدت بڑھتی ہے، نزلہ، زکام، کھانسی، گلا خراب ہونا اور موسمی بخار عام ہو جاتا ہے۔ اس دوران دواخانوں پر رش بڑھ جاتا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ بغیر کسی نسخے کے اینٹی کولڈ گولیاں، کھانسی کے شربت اور درد کش ادویات استعمال کرنے لگتے ہیں۔ وادی کے ڈاکٹروں نے بار بار خبردار کیا ہے کہ سردیوں میں خود علاج کا یہ بڑھتا ہوا رجحان ایک سنگین صحت عامہ کے مسئلے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
اس رجحان کی بنیادی وجہ سہولت اور عادت ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سردیوں کی بیماریاں معمولی اور وقتی ہوتی ہیں، جن کے لئے ڈاکٹر سے رجوع ضروری نہیں۔ کسی پرانے نسخے، پڑوسی کے مشورے یا کیمسٹ کی تجویز پر دوائیں لے لی جاتی ہیں۔ تاہم ماہرین طب کے مطابق بخار، کھانسی یا ناک بند ہونے جیسی علامات مختلف بیماریوں کی نشاندہی کر سکتی ہیں، جن میں وائرل انفیکشن، بیکٹیریل بیماری یا حتیٰ کہ نمونیا کی ابتدائی علامات بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ ایک ہی دوا سے ہر علامت کا علاج کرنا درست تشخیص اور بروقت علاج میں تاخیر کا سبب بنتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کھانسی کے شربتوں کا حد سے زیادہ استعمال، خصوصاً وہ شربت جن میں سکون آور اجزا شامل ہوتے ہیں، غنودگی، عادت اور سانس کی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح اینٹی کولڈ ادویات اور درد کش گولیوں کا مسلسل استعمال جگر، گردوں اور معدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سردیوں میں پانی کی کمی اور جسمانی سرگرمی میں کمی ان خطرات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
ایک اور تشویشناک پہلو اینٹی بایوٹکس کا بے جا استعمال ہے۔ بہت سے لوگ نزلہ یا بخار ہوتے ہی خود ہی اینٹی بایوٹک شروع کر دیتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر واضح کرتے ہیں کہ سردیوں میں زیادہ تر بیماریاں وائرل ہوتی ہیں جن میں اینٹی بایوٹکس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس روش سے اینٹی بایوٹک مزاحمت پیدا ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں انفیکشن کا علاج مشکل اور مہنگا ہو سکتا ہے۔
بچوں، بزرگوں اور دائمی امراض جیسے ذیابیطس، دل کے امراض یا دمہ کے مریضوں کے لئے خود علاج خاص طور پر خطرناک ہے۔ جو دوا ایک شخص کے لئے معمولی سمجھی جاتی ہے، وہ دوسرے کے لئے سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔
اس مسئلے کا حل شعور اور ذمہ داری میں مضمر ہے۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کوئی بھی دوا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ سردیوں کی عام بیماریوں میں بھی مستند معالج سے رجوع کرنا طویل المدتی نقصانات سے بچا سکتا ہے۔ کیمسٹ حضرات پر بھی لازم ہے کہ بغیر نسخے کے طاقتور ادویات فروخت کرنے سے گریز کریں۔


