کیا مشاعرے معاشرے کے لیے سود مند ہیں؟

 

سلیمان شاہین

مشاعروں کا موسم ہے گلابی جاڑوں کے ساتھ شاعری بھی خوب رنگ جماتی ہے، نومبر اور دسمبر میں دیگر مہینوں کے مقابلے زیادہ مشاعرے منعقد ہوتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مشاعرے ہمارے معاشرے کے لیے واقعی سود مند ہیں؟ کیا ان سے نوجوانوں کی فکری اور نظریاتی بنیادیں مضبوط ہو رہی ہیں یا وہ ان محفلوں سے بے راہ روی کے شکار ہو رہے ہیں؟ یا جس طرح موجودہ مشاعروں کا ماحول بن چکا ہے، وہ معاشرے کو مضبوط کرنے کے بجائے اس کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں؟
یہ وہ سوال ہے جس پر ہمیں خود غور کرنا چاہیے۔
اردو کی بقاء اور ادب کی ترویج کے نام پر منعقد ہونے والی اکثر محفلوں میں اب بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے۔ ادب کی آڑ میں ذہنی عیاشیوں کے میلے لگتے ہیں، زلف و خم کا خمار پروان چڑھتا ہے، اور بیشتر ادباء ادب کے کاسے میں فحاشی عریانیت پروس رہے ہوتے ہیں۔ ان ادبی میکدوں میں تہذیب و ثقافت کے پردے میں مذہب اور دین بیزاری کے جام گردش کرتے ہیں۔ لفظوں کی آوارگی کو جدّت کہا جاتا ہے اور دین سے بیزار فکروں کو روشن خیالی کا تمغہ دیا جاتا ہے۔
وہ شاعری جس میں کبھی خلوص، ایثار، جدوجہد اور انقلاب کی امنگ پیدا ہوتی تھی، جو قوم کو بیداری اور انسانیت کا پیغام دیتی تھی آج تقریباً ناپید ہوچکی ہے۔
شاعری جو دلوں کو جوڑتی تھی، کردار سنوارتی تھی اور معاشرے کو صحیح سمت دیتی تھی، اب خال خال نظر آتی ہے۔
آج شعر و سخن کا مرکز و محور زیادہ تر صنفِ نازک کے حسن و جمال، زلف و رخسار تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔
فکر و شعور، سوچنے سمجھنے، سیکھنے بتلانے، علم و آگہی، تحقیق و تدبیر، محنت و جستجو، رجال سازی، کردار سازی کے لیے جملوں کو پرونا لفظوں کو سمیٹنا شاعری میں پرونا اب نہ کے برابر ہوچکا ہے، اور
یہی تبدیلی ہماری ادبی دنیا کا سب سے بڑا خسارہ ہے۔
ان مشاعروں میں لاکھوں روپے جھونک دیے جاتے ہیں، مگر حاصل کچھ نہیں نکلتا۔ بس آوارہ گردی، فقرے بازی اور خودنمائی کے اڈّے آباد ہوتے ہیں۔ فکر و نظر کی پختگی رکھنے والے اور اپنی بنیادوں پر قائم سنجیدہ افراد ایسی ذہنی عیاشیوں کی محفلیں سجانے سے ہمیشہ گریز کرتے ہیں۔
البتہ وہ لوگ جن کے نزدیک پیسہ ہی معیارِ زندگی ہے، جن کا حاصلِ عمر صرف خودنمائی اور انا پرستی ہے، انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں رہتی کہ وہ معاشرے کو کیا دے رہے ہیں۔ انہیں تو بس اردو کے نام پر ملائی کھانے اور اپنی کمائی کے شیرازے بڑھانے سے غرض ہوتی ہے۔
اس سے بڑھ کر افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ افراد جو کبھی تحریکوں اور جماعتوں کے پلیٹ فارم سے پروان چڑھے، جنہیں ملی تنظیموں نے عزت و مقام دیا، انہی میں کچھ ایسے بھی نکل آتے ہیں جو آگے بڑھ کر اسی رتبے اور مقام کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ پھر انہیں اس سے کوئی غرض نہیں رہتی کہ ان کی کارکردگی سے معاشرے میں کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ جب مفادات نگاہوں کا مرکز بن جائیں تو اپنی بنیادوں سے انحراف، اپنی فکر و نظر سے بے اعتنائی، اپنے مقصد سے رو گردانی بہت آسان ہو جاتی ہے۔ تب انسان انا پرست، بے حس اور خود غرض ہوکر وہ سب کچھ کرنے لگتا ہے جس سے معاشرے میں فکری انارکی جنم لیتی ہے اور وہ خود بھی دوسروں کو بے راہ روی کی جانب دھکیلنے لگتا ہے۔
اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو یہ مشاعرے اردو کی بقاء کا ذریعہ نہیں بنیں گے، بلکہ صرف اس کا کاروبار بڑھائیں گے۔ اور پھر لفظوں کی حرمت، تہذیب و ثقافت اور ادب کا وقار کسی سستی تالیاں بجانے والی محفل کی نذر ہوکر رہ جائے گا۔
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

کیا مشاعرے معاشرے کے لیے سود مند ہیں؟

 

سلیمان شاہین

مشاعروں کا موسم ہے گلابی جاڑوں کے ساتھ شاعری بھی خوب رنگ جماتی ہے، نومبر اور دسمبر میں دیگر مہینوں کے مقابلے زیادہ مشاعرے منعقد ہوتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مشاعرے ہمارے معاشرے کے لیے واقعی سود مند ہیں؟ کیا ان سے نوجوانوں کی فکری اور نظریاتی بنیادیں مضبوط ہو رہی ہیں یا وہ ان محفلوں سے بے راہ روی کے شکار ہو رہے ہیں؟ یا جس طرح موجودہ مشاعروں کا ماحول بن چکا ہے، وہ معاشرے کو مضبوط کرنے کے بجائے اس کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں؟
یہ وہ سوال ہے جس پر ہمیں خود غور کرنا چاہیے۔
اردو کی بقاء اور ادب کی ترویج کے نام پر منعقد ہونے والی اکثر محفلوں میں اب بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے۔ ادب کی آڑ میں ذہنی عیاشیوں کے میلے لگتے ہیں، زلف و خم کا خمار پروان چڑھتا ہے، اور بیشتر ادباء ادب کے کاسے میں فحاشی عریانیت پروس رہے ہوتے ہیں۔ ان ادبی میکدوں میں تہذیب و ثقافت کے پردے میں مذہب اور دین بیزاری کے جام گردش کرتے ہیں۔ لفظوں کی آوارگی کو جدّت کہا جاتا ہے اور دین سے بیزار فکروں کو روشن خیالی کا تمغہ دیا جاتا ہے۔
وہ شاعری جس میں کبھی خلوص، ایثار، جدوجہد اور انقلاب کی امنگ پیدا ہوتی تھی، جو قوم کو بیداری اور انسانیت کا پیغام دیتی تھی آج تقریباً ناپید ہوچکی ہے۔
شاعری جو دلوں کو جوڑتی تھی، کردار سنوارتی تھی اور معاشرے کو صحیح سمت دیتی تھی، اب خال خال نظر آتی ہے۔
آج شعر و سخن کا مرکز و محور زیادہ تر صنفِ نازک کے حسن و جمال، زلف و رخسار تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔
فکر و شعور، سوچنے سمجھنے، سیکھنے بتلانے، علم و آگہی، تحقیق و تدبیر، محنت و جستجو، رجال سازی، کردار سازی کے لیے جملوں کو پرونا لفظوں کو سمیٹنا شاعری میں پرونا اب نہ کے برابر ہوچکا ہے، اور
یہی تبدیلی ہماری ادبی دنیا کا سب سے بڑا خسارہ ہے۔
ان مشاعروں میں لاکھوں روپے جھونک دیے جاتے ہیں، مگر حاصل کچھ نہیں نکلتا۔ بس آوارہ گردی، فقرے بازی اور خودنمائی کے اڈّے آباد ہوتے ہیں۔ فکر و نظر کی پختگی رکھنے والے اور اپنی بنیادوں پر قائم سنجیدہ افراد ایسی ذہنی عیاشیوں کی محفلیں سجانے سے ہمیشہ گریز کرتے ہیں۔
البتہ وہ لوگ جن کے نزدیک پیسہ ہی معیارِ زندگی ہے، جن کا حاصلِ عمر صرف خودنمائی اور انا پرستی ہے، انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں رہتی کہ وہ معاشرے کو کیا دے رہے ہیں۔ انہیں تو بس اردو کے نام پر ملائی کھانے اور اپنی کمائی کے شیرازے بڑھانے سے غرض ہوتی ہے۔
اس سے بڑھ کر افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ افراد جو کبھی تحریکوں اور جماعتوں کے پلیٹ فارم سے پروان چڑھے، جنہیں ملی تنظیموں نے عزت و مقام دیا، انہی میں کچھ ایسے بھی نکل آتے ہیں جو آگے بڑھ کر اسی رتبے اور مقام کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ پھر انہیں اس سے کوئی غرض نہیں رہتی کہ ان کی کارکردگی سے معاشرے میں کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ جب مفادات نگاہوں کا مرکز بن جائیں تو اپنی بنیادوں سے انحراف، اپنی فکر و نظر سے بے اعتنائی، اپنے مقصد سے رو گردانی بہت آسان ہو جاتی ہے۔ تب انسان انا پرست، بے حس اور خود غرض ہوکر وہ سب کچھ کرنے لگتا ہے جس سے معاشرے میں فکری انارکی جنم لیتی ہے اور وہ خود بھی دوسروں کو بے راہ روی کی جانب دھکیلنے لگتا ہے۔
اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو یہ مشاعرے اردو کی بقاء کا ذریعہ نہیں بنیں گے، بلکہ صرف اس کا کاروبار بڑھائیں گے۔ اور پھر لفظوں کی حرمت، تہذیب و ثقافت اور ادب کا وقار کسی سستی تالیاں بجانے والی محفل کی نذر ہوکر رہ جائے گا۔
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں