سیاحت کی نئی صبح نمودار،پہلگام کے زخم بھرنے لگے

سہیل خان
سرینگر

پہلگام کے سبزہ زار برسوں سے دلوں کی دھڑکن رہے ہیں۔ یہاں بہتے پانی کی سرگوشیاں، گھاس پر پڑتی دھوپ کی چمک، اور گھوڑوں کی ٹاپوں کے بیچ گونجتی ہنسی ہمیشہ اس وادی کی پہچان رہی ہے۔ مگر اپریل کی ایک شام نے اس خاموش جنت کی آواز بدل دی۔ظالموں نے ایک لمحے میں پہاڑوں کی شان کو لرزا دینے والی قیامت برپا کر دی۔ چھبیس زندگیاں، جو اپنے گھروں سے خوشی اور سفر کی آس لیے نکلی تھیں، اچانک تاریکی کا حصہ بن گئیں۔ یہ سانحہ نہ صرف کشمیر کے لیے بلکہ پورے برصغیر کی سیاحتی تاریخ میں ایک سنگین دھچکے کے طور پر درج ہوا۔
اس حملے کے بعد وادی کا ماحول بدل گیا۔ ڈل جھیل کے کنارے صبح سویرے اٹھنے والے شکارہ چلانے والوں کی آنکھوں میں پہلی مرتبہ خوف اور بے یقینی نظر آئی۔ ہوٹلوں کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہونے لگے۔ دکان دار، جو ہر موسم میں امید کے سہارے کاروبار چلاتے تھے، پہلی بار سوچنے لگے کہ آنے والے ہفتوں میں گھر کا خرچ کیسے چلے گا۔ ہنر مند کاریگر جن کے ہاتھوں کی کشیدہ کاری دنیا بھر کے گھروں کی زینت بنتی ہے، بے کاری کے ڈر سے لرز اٹھے۔ یہ وادی جس نے ہمیشہ خود کو زندگی کی علامت کے طور پر پیش کیا تھا، چند دنوں کے لیے گہری مایوسی کی تصویر دکھائی دینے لگی۔
مگر کشمیر کے لوگوں کا دل ہمیشہ سے پہاڑوں کی طرح مضبوط رہا ہے۔ سات ماہ بعد جب برف کے گالے پہاڑوں کو پھر سے مایل سفید کرنے لگے تو وادی میں زندگی کی ایک نئی سانس محسوس ہونے لگی۔ ہوٹلوں کی روشنیاں دھیرے دھیرے لوٹ آئیں، چھنکنے والے چائے کے کپوں میں دوبارہ باتیں گھلنے لگیں، اور سیاحتی مرکزوں میں وہی افراتفری پیدا ہونے لگی جو کسی علاقے کے جینے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ سال کے پہلے چھ ماہ میں پچانوے لاکھ سیاحوں کی آمد نے نہ صرف وادی کے زخموں پر مرہم رکھا بلکہ اس بات کی گواہی دی کہ دنیا اب بھی کشمیر کی خوبصورتی اور امن کے خواب پر یقین رکھتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بحالی کا سفر یکساں رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہا۔ کچھ مہینوں کی آمدنی پچھلے برسوں کے مقابلے میں خاصی کم رہی، غیر ملکی سیاحتی سرگرمیاں تقریباً رک گئی ہیں، اور امن و امان کی چھوٹی چھوٹی خبریں بھی عالمی میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی ہیں جس سے اعتماد کو دھچکا پہنچتا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود مقامی لوگ جس عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ڈرائیور جو صبح سویرے پہاڑی راستوں پر گاڑی نکالتے ہیں، نوجوان گائیڈز سیاحوں کی کمی کے باوجود مسکراہٹ نہیں چھوڑتے، خواتین کاریگر جنہوں نے گھروں میں بیٹھ کر اپنی محنت دوبارہ شروع کر دی، یہ سب اس وادی کے اصل معمار ہیں۔ انہی کی محنت نئی سانسوں کو جنم دیتی ہے۔
آگے کی سمت اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہونی چاہیے۔ سیاحت صرف پھولوں، برف اور نظاروں کا نام نہیں بلکہ ایک پوری سماجی و معاشی بنیاد ہے۔ اس بنیاد کو مضبوط بنانے کے لیے سکیورٹی کے جدید انتظامات، سیاحوں کی حقیقی معنوں میں حفاظت، دیہی مقامات کی ترقی، ماحول دوست منصوبوں کا فروغ، بہتر سڑکیں، اور اس سب سے بڑھ کر ایک ایسا ماحول ضروری ہے جہاں مقامی اور باہر سے آنے والا شخص ایک دوسرے پر بھروسہ کر سکے۔ کشمیر کو اب موسمی سیاحت کے چکر سے نکل کر سال بھر کی مستقل سیاحت کی طرف جانا ہوگا جس میں ثقافتی میلوں، فلمی تقریبات، اسپورٹس ایونٹس اور نوجوانوں کے لیے مواقع کو مرکزی حیثیت دی جائے۔
دہشت گردی کے بیانیے کو شکست اسی وقت ملتی ہے جب زندگی کی رونقیں پھیلتی ہیں۔ جب ایک نوجوان پہاڑوں کی خاموشی میں گم ہونے کے بجائے کسی ہوٹل میں ملازمت کرتا ہے، جب ایک ڈرائیور روز گھر ہنسی کے ساتھ لوٹتا ہے، جب ایک کاریگر کی محنت بیرون ملک پہنچتی ہے، تو اصل جیت امن کی ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر کشمیر اپنی شناخت کو مزید روشن بنا سکتا ہے۔
آج جب برف گرتی ہے اور پہاڑ خاموش کھڑے ہیں تو اس خاموشی میں ایک گہرا پیغام چھپا ہے۔ پہلگام کے زخم باقی ہیں مگر زندگی واپس آ رہی ہے۔ بچے اسکول جا رہے ہیں، سیاح پھر سے ڈل جھیل کی جانب کھنچ رہے ہیں، اور مقامی لوگ اپنے کاروبار اور اپنے خوابوں کو ایک بار پھر آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہی وہ لچک ہے جو اس سرزمین کی اصل پہچان ہے۔
کشمیر کئی بار زخمی ہوا مگر کبھی ٹوٹا نہیں۔ اگر حکمت عملی، اعتماد اور انسانیت کو بنیاد بنایا جائے تو یہ وادی نہ صرف سانحوں سے ابھر سکتی ہے بلکہ دنیا میں امید اور خوبصورتی کی ایک نئی مثال بھی قائم کر سکتی ہے۔
آخر میں یہی سچ باقی رہ جاتا ہے کہ حسن ہمیشہ خوف پر غالب آتا ہے۔ کشمیر کا حسن اگرچہ بارہا آزمایا گیا مگر کبھی کم نہیں ہوا۔ وہ روشنی جو یہاں کے لوگوں کے دلوں میں جلتی ہے ایک دن پھر پوری دنیا کو اپنی طرف کھینچ لے گی۔ ان شاء اللہ۔
وادی میں گزرے ان مہینوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ کشمیر کی سیاحت صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی ورثہ بھی ہے۔ یہاں ہر مسافر صرف منظر نہیں دیکھتا بلکہ لوگوں کے لہجے، ان کی مہمان نوازی اور ان کی روزمرہ کی سادگی میں اپنی روح کو محسوس کرتا ہے۔ پہلگام سانحے نے اس روح کو زخمی ضرور کیا مگر ختم نہیں کیا۔ ہر شام جب لال چراغ ڈل جھیل کے پانی پر جھلملاتے ہیں تو یہ احساس تازہ ہو جاتا ہے کہ زندگی کا سفر کبھی مکمل طور پر رکتا نہیں، بس کچھ لمحوں کے لیے ٹھہرتا ہے۔
سیاحت کی بحالی کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم پہلو بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ وادی میں ثقافتی زندگی دوبارہ سانس لینے لگی ہے۔ شہروں میں چھوٹے پیمانے پر موسیقی کی محفلیں، دستکاری کی نمائشیں، کتاب میلوں اور فلم اسکریننگ جیسے پروگرام دھیرے دھیرے اپنے قدم جما رہے ہیں۔ یہ سرگرمیاں صرف تفریح نہیں بلکہ معاشرتی اعتماد کی علامت ہیں۔ ایک ایسی علامت جو دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ کشمیر محض تنازع کی زمین نہیں بلکہ فن، تخلیق، محبت اور انسانی رشتوں کی وادی بھی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل نے اس مشکل وقت میں جو کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہے۔ بہت سے نوجوانوں نے سوشل میڈیا اور مقامی گروپوں کے ذریعے سیاحت کے حق میں مثبت بیانیہ پیش کیا، مقامی ثقافت کو دنیا تک پہنچایا اور اپنی توانائی سے اس وادی کے چہرے پر امید کا ایک نیا رنگ بھر دیا۔ کئی نوجوان فوٹوگرافر، بلاگر، یوٹیوبر اور گائیڈز نے اپنی آبائی زمین کی کہانی اس انداز میں سنائی کہ بیرون دنیا کو دوبارہ یقین ہونے لگا کہ کشمیر ابھی بھی خوبصورتی اور انسانیت کا ملک ہے۔ یہ نئی نسل وادی کی معیشت اور امن دونوں کے ستونوں کو تھامے ہوئے ہے۔
ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ اس سانحے نے انتظامیہ کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔ صرف حفاظتی حصار یا گارڈ پوسٹیں مسئلے کا حل نہیں۔ سیاح اپنے سفر میں اعتماد چاہتے ہیں، ایک ایسا احساس کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیکنالوجی، نگرانی، بہتر تربیت، فوری رسپانس سسٹم اور بحران سے نمٹنے کے جدید طریقے ایسی حکمت عملی کا حصہ بنیں جو سیاح کو عملی طور پر بھی تحفظ فراہم کریں اور ذہنی طور پر بھی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ کشمیر اب اس دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے محض اپنے ماضی کے حسن پر نہیں بلکہ اپنے مستقبل کی حکمت عملی پر بھی بھروسا کرنا ہوگا۔ سیاحت آج صرف منظرناموں کی بنیاد پر نہیں چلتی بلکہ تجربے، معیار، رسائی، سہولت، پائیداری، ماحول اور انتظامی اعتماد جیسے عوامل اس کی روح ہیں۔ اگر کشمیر ان ستونوں کو مضبوط کر لے تو دنیا بھر سے آنے والا مسافر نہ صرف یہاں ٹھہرے گا بلکہ دوبارہ لوٹنے کا وعدہ بھی کرے گا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ پہلگام سانحے جیسے واقعات کو صرف خوف کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ انہیں اس اجتماعی طاقت کے زاویے سے سمجھا جائے جس نے وادی کو دوبارہ کھڑا کیا۔ سیاحوں کی واپسی، کاروباروں کی بحالی، نوجوانوں کا جوش، ثقافتی سرگرمیوں کی روانی، سب مل کر اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ کشمیر کا دل دھڑک رہا ہے، اور یہ دھڑکن اب پہلے سے زیادہ گہری ہے۔
جب رات گہری ہوتی ہے اور پہاڑ سناٹے میں ڈوب جاتے ہیں تو وادی کے لوگ خاموشی سے اپنے گھروں میں دعا کرتے ہیں کہ یہ زمین دوبارہ کبھی ایسا دکھ نہ دیکھے۔ مگر ساتھ ہی وہ اس امید کو بھی تھامے رکھتے ہیں کہ جو روشنی آج کہیں کہیں جھلملاتی دکھائی دے رہی ہے وہ کل ایک روشن صبح میں بدل جائے گی۔
کشمیر کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ پہلگام کا زخم گہرا ضرور تھا مگر اس وادی کی رگوں میں بہنے والی زندگی اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ اگر یہ سرزمین ماضی کے اندھیروں سے نکل کر آج پھر امید کی روشنی کی جانب بڑھ رہی ہے تو کل یہ روشنی اور بھی پھیل سکتی ہے۔ کیونکہ اس وادی کی اصل حقیقت یہی ہے کہ یہاں اندھیرا کبھی دیرپا نہیں رہتا اور روشنی ہمیشہ اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔
ان شاء اللہ کشمیر کی یہ روشنی آنے والے برسوں میں نہ صرف لوٹنے والے دلوں کو گرمائے گی بلکہ دنیا بھر میں یہ پیغام بھی بکھیرے گی کہ حسن، سکون اور انسانیت ہمیشہ اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

سیاحت کی نئی صبح نمودار،پہلگام کے زخم بھرنے لگے

سہیل خان
سرینگر

پہلگام کے سبزہ زار برسوں سے دلوں کی دھڑکن رہے ہیں۔ یہاں بہتے پانی کی سرگوشیاں، گھاس پر پڑتی دھوپ کی چمک، اور گھوڑوں کی ٹاپوں کے بیچ گونجتی ہنسی ہمیشہ اس وادی کی پہچان رہی ہے۔ مگر اپریل کی ایک شام نے اس خاموش جنت کی آواز بدل دی۔ظالموں نے ایک لمحے میں پہاڑوں کی شان کو لرزا دینے والی قیامت برپا کر دی۔ چھبیس زندگیاں، جو اپنے گھروں سے خوشی اور سفر کی آس لیے نکلی تھیں، اچانک تاریکی کا حصہ بن گئیں۔ یہ سانحہ نہ صرف کشمیر کے لیے بلکہ پورے برصغیر کی سیاحتی تاریخ میں ایک سنگین دھچکے کے طور پر درج ہوا۔
اس حملے کے بعد وادی کا ماحول بدل گیا۔ ڈل جھیل کے کنارے صبح سویرے اٹھنے والے شکارہ چلانے والوں کی آنکھوں میں پہلی مرتبہ خوف اور بے یقینی نظر آئی۔ ہوٹلوں کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہونے لگے۔ دکان دار، جو ہر موسم میں امید کے سہارے کاروبار چلاتے تھے، پہلی بار سوچنے لگے کہ آنے والے ہفتوں میں گھر کا خرچ کیسے چلے گا۔ ہنر مند کاریگر جن کے ہاتھوں کی کشیدہ کاری دنیا بھر کے گھروں کی زینت بنتی ہے، بے کاری کے ڈر سے لرز اٹھے۔ یہ وادی جس نے ہمیشہ خود کو زندگی کی علامت کے طور پر پیش کیا تھا، چند دنوں کے لیے گہری مایوسی کی تصویر دکھائی دینے لگی۔
مگر کشمیر کے لوگوں کا دل ہمیشہ سے پہاڑوں کی طرح مضبوط رہا ہے۔ سات ماہ بعد جب برف کے گالے پہاڑوں کو پھر سے مایل سفید کرنے لگے تو وادی میں زندگی کی ایک نئی سانس محسوس ہونے لگی۔ ہوٹلوں کی روشنیاں دھیرے دھیرے لوٹ آئیں، چھنکنے والے چائے کے کپوں میں دوبارہ باتیں گھلنے لگیں، اور سیاحتی مرکزوں میں وہی افراتفری پیدا ہونے لگی جو کسی علاقے کے جینے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ سال کے پہلے چھ ماہ میں پچانوے لاکھ سیاحوں کی آمد نے نہ صرف وادی کے زخموں پر مرہم رکھا بلکہ اس بات کی گواہی دی کہ دنیا اب بھی کشمیر کی خوبصورتی اور امن کے خواب پر یقین رکھتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بحالی کا سفر یکساں رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہا۔ کچھ مہینوں کی آمدنی پچھلے برسوں کے مقابلے میں خاصی کم رہی، غیر ملکی سیاحتی سرگرمیاں تقریباً رک گئی ہیں، اور امن و امان کی چھوٹی چھوٹی خبریں بھی عالمی میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی ہیں جس سے اعتماد کو دھچکا پہنچتا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود مقامی لوگ جس عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ڈرائیور جو صبح سویرے پہاڑی راستوں پر گاڑی نکالتے ہیں، نوجوان گائیڈز سیاحوں کی کمی کے باوجود مسکراہٹ نہیں چھوڑتے، خواتین کاریگر جنہوں نے گھروں میں بیٹھ کر اپنی محنت دوبارہ شروع کر دی، یہ سب اس وادی کے اصل معمار ہیں۔ انہی کی محنت نئی سانسوں کو جنم دیتی ہے۔
آگے کی سمت اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہونی چاہیے۔ سیاحت صرف پھولوں، برف اور نظاروں کا نام نہیں بلکہ ایک پوری سماجی و معاشی بنیاد ہے۔ اس بنیاد کو مضبوط بنانے کے لیے سکیورٹی کے جدید انتظامات، سیاحوں کی حقیقی معنوں میں حفاظت، دیہی مقامات کی ترقی، ماحول دوست منصوبوں کا فروغ، بہتر سڑکیں، اور اس سب سے بڑھ کر ایک ایسا ماحول ضروری ہے جہاں مقامی اور باہر سے آنے والا شخص ایک دوسرے پر بھروسہ کر سکے۔ کشمیر کو اب موسمی سیاحت کے چکر سے نکل کر سال بھر کی مستقل سیاحت کی طرف جانا ہوگا جس میں ثقافتی میلوں، فلمی تقریبات، اسپورٹس ایونٹس اور نوجوانوں کے لیے مواقع کو مرکزی حیثیت دی جائے۔
دہشت گردی کے بیانیے کو شکست اسی وقت ملتی ہے جب زندگی کی رونقیں پھیلتی ہیں۔ جب ایک نوجوان پہاڑوں کی خاموشی میں گم ہونے کے بجائے کسی ہوٹل میں ملازمت کرتا ہے، جب ایک ڈرائیور روز گھر ہنسی کے ساتھ لوٹتا ہے، جب ایک کاریگر کی محنت بیرون ملک پہنچتی ہے، تو اصل جیت امن کی ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر کشمیر اپنی شناخت کو مزید روشن بنا سکتا ہے۔
آج جب برف گرتی ہے اور پہاڑ خاموش کھڑے ہیں تو اس خاموشی میں ایک گہرا پیغام چھپا ہے۔ پہلگام کے زخم باقی ہیں مگر زندگی واپس آ رہی ہے۔ بچے اسکول جا رہے ہیں، سیاح پھر سے ڈل جھیل کی جانب کھنچ رہے ہیں، اور مقامی لوگ اپنے کاروبار اور اپنے خوابوں کو ایک بار پھر آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہی وہ لچک ہے جو اس سرزمین کی اصل پہچان ہے۔
کشمیر کئی بار زخمی ہوا مگر کبھی ٹوٹا نہیں۔ اگر حکمت عملی، اعتماد اور انسانیت کو بنیاد بنایا جائے تو یہ وادی نہ صرف سانحوں سے ابھر سکتی ہے بلکہ دنیا میں امید اور خوبصورتی کی ایک نئی مثال بھی قائم کر سکتی ہے۔
آخر میں یہی سچ باقی رہ جاتا ہے کہ حسن ہمیشہ خوف پر غالب آتا ہے۔ کشمیر کا حسن اگرچہ بارہا آزمایا گیا مگر کبھی کم نہیں ہوا۔ وہ روشنی جو یہاں کے لوگوں کے دلوں میں جلتی ہے ایک دن پھر پوری دنیا کو اپنی طرف کھینچ لے گی۔ ان شاء اللہ۔
وادی میں گزرے ان مہینوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ کشمیر کی سیاحت صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی ورثہ بھی ہے۔ یہاں ہر مسافر صرف منظر نہیں دیکھتا بلکہ لوگوں کے لہجے، ان کی مہمان نوازی اور ان کی روزمرہ کی سادگی میں اپنی روح کو محسوس کرتا ہے۔ پہلگام سانحے نے اس روح کو زخمی ضرور کیا مگر ختم نہیں کیا۔ ہر شام جب لال چراغ ڈل جھیل کے پانی پر جھلملاتے ہیں تو یہ احساس تازہ ہو جاتا ہے کہ زندگی کا سفر کبھی مکمل طور پر رکتا نہیں، بس کچھ لمحوں کے لیے ٹھہرتا ہے۔
سیاحت کی بحالی کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم پہلو بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ وادی میں ثقافتی زندگی دوبارہ سانس لینے لگی ہے۔ شہروں میں چھوٹے پیمانے پر موسیقی کی محفلیں، دستکاری کی نمائشیں، کتاب میلوں اور فلم اسکریننگ جیسے پروگرام دھیرے دھیرے اپنے قدم جما رہے ہیں۔ یہ سرگرمیاں صرف تفریح نہیں بلکہ معاشرتی اعتماد کی علامت ہیں۔ ایک ایسی علامت جو دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ کشمیر محض تنازع کی زمین نہیں بلکہ فن، تخلیق، محبت اور انسانی رشتوں کی وادی بھی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل نے اس مشکل وقت میں جو کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہے۔ بہت سے نوجوانوں نے سوشل میڈیا اور مقامی گروپوں کے ذریعے سیاحت کے حق میں مثبت بیانیہ پیش کیا، مقامی ثقافت کو دنیا تک پہنچایا اور اپنی توانائی سے اس وادی کے چہرے پر امید کا ایک نیا رنگ بھر دیا۔ کئی نوجوان فوٹوگرافر، بلاگر، یوٹیوبر اور گائیڈز نے اپنی آبائی زمین کی کہانی اس انداز میں سنائی کہ بیرون دنیا کو دوبارہ یقین ہونے لگا کہ کشمیر ابھی بھی خوبصورتی اور انسانیت کا ملک ہے۔ یہ نئی نسل وادی کی معیشت اور امن دونوں کے ستونوں کو تھامے ہوئے ہے۔
ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ اس سانحے نے انتظامیہ کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔ صرف حفاظتی حصار یا گارڈ پوسٹیں مسئلے کا حل نہیں۔ سیاح اپنے سفر میں اعتماد چاہتے ہیں، ایک ایسا احساس کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیکنالوجی، نگرانی، بہتر تربیت، فوری رسپانس سسٹم اور بحران سے نمٹنے کے جدید طریقے ایسی حکمت عملی کا حصہ بنیں جو سیاح کو عملی طور پر بھی تحفظ فراہم کریں اور ذہنی طور پر بھی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ کشمیر اب اس دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے محض اپنے ماضی کے حسن پر نہیں بلکہ اپنے مستقبل کی حکمت عملی پر بھی بھروسا کرنا ہوگا۔ سیاحت آج صرف منظرناموں کی بنیاد پر نہیں چلتی بلکہ تجربے، معیار، رسائی، سہولت، پائیداری، ماحول اور انتظامی اعتماد جیسے عوامل اس کی روح ہیں۔ اگر کشمیر ان ستونوں کو مضبوط کر لے تو دنیا بھر سے آنے والا مسافر نہ صرف یہاں ٹھہرے گا بلکہ دوبارہ لوٹنے کا وعدہ بھی کرے گا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ پہلگام سانحے جیسے واقعات کو صرف خوف کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ انہیں اس اجتماعی طاقت کے زاویے سے سمجھا جائے جس نے وادی کو دوبارہ کھڑا کیا۔ سیاحوں کی واپسی، کاروباروں کی بحالی، نوجوانوں کا جوش، ثقافتی سرگرمیوں کی روانی، سب مل کر اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ کشمیر کا دل دھڑک رہا ہے، اور یہ دھڑکن اب پہلے سے زیادہ گہری ہے۔
جب رات گہری ہوتی ہے اور پہاڑ سناٹے میں ڈوب جاتے ہیں تو وادی کے لوگ خاموشی سے اپنے گھروں میں دعا کرتے ہیں کہ یہ زمین دوبارہ کبھی ایسا دکھ نہ دیکھے۔ مگر ساتھ ہی وہ اس امید کو بھی تھامے رکھتے ہیں کہ جو روشنی آج کہیں کہیں جھلملاتی دکھائی دے رہی ہے وہ کل ایک روشن صبح میں بدل جائے گی۔
کشمیر کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ پہلگام کا زخم گہرا ضرور تھا مگر اس وادی کی رگوں میں بہنے والی زندگی اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ اگر یہ سرزمین ماضی کے اندھیروں سے نکل کر آج پھر امید کی روشنی کی جانب بڑھ رہی ہے تو کل یہ روشنی اور بھی پھیل سکتی ہے۔ کیونکہ اس وادی کی اصل حقیقت یہی ہے کہ یہاں اندھیرا کبھی دیرپا نہیں رہتا اور روشنی ہمیشہ اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔
ان شاء اللہ کشمیر کی یہ روشنی آنے والے برسوں میں نہ صرف لوٹنے والے دلوں کو گرمائے گی بلکہ دنیا بھر میں یہ پیغام بھی بکھیرے گی کہ حسن، سکون اور انسانیت ہمیشہ اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں