مٌرتضٰی گاش
سانحہ جو وقت کی رفتار روک گیا، اور قربانی جو تاریخ میں امر ہو گئی۔۔۔۔۔
درد کی وہ ساعت… جب محافظ رخصت ہوئے
نوگام کا سانحہ محض ایک واقعہ نہیں تھا
یہ وہ لمحہ تھا جب پوری وادی نے ایک ساتھ سسکی بھری۔
ہوا کی ہر لہر نے سوگ اوڑھ لیا،
آسمان نے اپنی چادر پر اداسی کے بادل سجا لیے،
اور گھروں میں ایسی خاموشی اتری
جیسے دل کی دھڑکن بھی احترام میں ٹھہر گئی ہو۔
وہ جوان، وہ سپاہی، وہ افسران،
اور وہ بے لوث شہری۔۔۔۔۔
جو دہشت گردی کی مکروہ سازشوں کی گہرائیوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے،
صبح فرض کی راہ پر نکلے،۔۔۔۔۔
مگر شام شہادت کی روشنی میں ڈھل کر لوٹے۔
دہشت گردی ایک ایسا سایہ جو ہمارے اپنے چھین لیتا ہے
تاریخ گواہ ہے کہ دہشت گردی
چاہے کسی بھی شکل میں ہو،
خواہ براہ راست ہو یا پردوں کے پیچھے،
ہماری صفوں سے ہمارے بہترین لوگوں کو چنتی ہے
وہ لوگ جو ڈھال بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔
نوگام پولیس اسٹیشن میں ہونے والا حادثاتی دھماکہ
اسی تاریک سلسلے کی ایک اور کڑی ثابت ہوا،
جس نے پولیس اہلکاروں، ریونیو افسران
اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار شہریوں کو
ہم سے چھین لیا۔
غم زدہ خانوادے وادی کی اجتماعی دھڑکن
اے شہداء کے خانوادو…
آپ کا دکھ صرف آپ کا نہیں
یہ پوری وادی کے دل پر رکھا ہوا بوجھ ہے۔
وہ ماں جو بیٹے کی وردی سے لپٹ کر رو رہی ہے،
وہ باپ جس کی خاموشی چیخوں سے زیادہ گہری ہے،
وہ بچے جو دروازے پر نظریں جمائے امید کا آخری دیا سنبھالے بیٹھے ہیں
یہ سب منظر پوری وادی کی روح کو لرزا دیتے ہیں۔
یہ سانحہ صرف چند گھروں کا نہیں،
یہ کشمیر کے اجتماعی وجود کا زخم ہے۔
یہ محافظ رخصت نہیں ہوئے یہ ابدی پہرہ دار بن گئے ہیں
وہ چہرے جو آج نظر نہیں آتے
روشنی بن کر ہماری راتوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔
وہ آوازیں جو اب سنائی نہیں دیتیں
ہمارے دلوں کی دھڑکنوں میں گونج رہی ہیں۔
وہ قدم جو رک گئے۔۔۔۔۔
تاریخ کی زمین پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئے۔
شہداء جسم چھوڑ گئے،
مگر اپنی بہادری، فرض شناسی اور قربانی کی خوشبو
وادی کے ہر ذرے میں چھوڑ گئے۔
وہ جو دلوں پر پہرہ دیتے ہیں
وہ ہم سے دور نہیں
وہ ہماری دعاؤں میں بستے ہیں،
ہمارے زمین و آسمان کی حفاظت کرتے ہیں،
اور ہماری نسلوں کو یہ سبق دیتے ہیں
کہ امن کی قیمت کتنی بھاری اور مقدس ہے۔
دعا جو دل سے اٹھے، آسمان تک پہنچے
اے اللہ۔۔۔۔۔
ان شہداء کے درجات بلند فرما،
ان کے مزاروں کو اپنے نور سے روشن کر،
ان کے والدین، بچوں اور خاندانوں کو
صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا فرما۔
زخمیوں کو وہ شفا دے
جس کے بعد کوئی خوف، کوئی درد باقی نہ رہے۔
اختتام ہم سب کا عہد۔۔۔۔۔
یہ قربانیاں ہمیں بیدار کرتی ہیں،
یاد دلاتی ہیں کہ محافظوں کا خون
ہمارا قرض بھی ہے اور ہماری ذمہ داری بھی۔
ہم پر فرض ہے کہ
ان کی قربانیوں کو صرف یاد نہ رکھیں،
بلکہ ان کی پاسداری کریں
ایک محفوظ، باوقار اور متحد وادی کے قیام کے ذریعے۔
وہ ہم سے جدا نہیں ہوئے؛۔۔۔۔۔
وہ کشمیر کی روح میں زندہ ہیں
ہماری دعاؤں میں،۔۔۔۔۔
ہماری دھڑکنوں میں،
اور ہماری مٹی کی خوشبو میں۔


