دو سرکاری ملازمین دہشت گردی سے تعلق کے الزام میں برطرف

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے دہشت گردی کے خلاف "صفر برداشت” کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے آئین ہند کے آرٹیکل 311 کے تحت دو مزید سرکاری ملازمین کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کردیا۔
تفصیلات کے مطابق، برطرف کیے گئے ملازمین میں غلام حسین، محکمہ تعلیم کا استاد، اور ماجد اقبال ڈار، استاد و سابق لیب اسسٹنٹ شامل ہیں۔ غلام حسین پر الزام ہے کہ وہ لشکرِ طیبہ (LeT) کا اوور گراؤنڈ ورکر تھا، دہشت گردوں سے رابطے میں تھا، اور ریاسی ضلع میں دہشت گردوں کی بھرتی و مالی معاونت میں ملوث تھا۔ ماجد اقبال ڈار پر منشیات کے ذریعے دہشت گردی کی مالی معاونت، نوجوانوں کی ذہنی گمراہی، اور آئی ای ڈی منصوبوں میں شمولیت کے الزامات ہیں۔

غلام حسین — استاد (محکمہ تعلیم)
ذرائع کے مطابق غلام حسین 2004 میں بحیثیت "ریہبرِ تعلیم” تعینات ہوا اور 2009 میں باقاعدہ ملازم بنا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ وہ خفیہ طور پر لشکرِ طیبہ کے لیے کام کرتا تھا، دہشت گردوں کے لیے رقم اکٹھی کرتا اور انہیں مقامی سطح پر مدد فراہم کرتا تھا۔ حسین کو 2023 میں گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہ صرف مالی مفاد کے لیے نہیں بلکہ نظریاتی طور پر بھی دہشت گردی سے ہمدردی رکھتا تھا اور نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرتا تھا۔
ماجد اقبال ڈار — استاد (محکمہ تعلیم)

ذرائع کے مطابق ماجد اقبال ڈار کو 2009 میں ہمدردانہ بنیاد پر لیب اسسٹنٹ مقرر کیا گیا اور 2019 میں استاد کے عہدے پر ترقی ملی۔ وہ بھی لشکرِ طیبہ کا اوور گراؤنڈ ورکر تھا اور راجوری علاقے میں نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرنے میں سرگرم تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ وہ منشیات کے پیسے سے دہشت گردی کی مالی معاونت کر رہا تھا۔ جنوری 2023 میں راجوری کے قریب جے اینڈ کے بینک کے پاس نصب ایک آئی ای ڈی کیس میں اس کا نام سامنے آیا، جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، قید کے دوران بھی ماجد ڈار نے اپنی انتہا پسند سوچ برقرار رکھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے سرکاری نظام کا حصہ رہتے ہوئے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا، جو عوامی مفاد کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔

لیفٹیننٹ گورنر، منوج سنہا

امن تبھی قائم ہوسکتا ہے جب دہشت گردی کے پورے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہمیں سخت اقدامات کے ساتھ اس مہم کو جاری رکھنا ہوگا۔

2021 سے اب تک 82 ملازمین برطرف
سرینگر/لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نےریاست کی سلامتی کے مفاد میں بغیر تحقیقات 82 سے زائد سرکاری ملازمین کو برطرف کیا۔ یہ تعلیم، پولیس، صحت سمیت مختلف محکموں میں ہوا، جو بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
برطرفیاں تعلیم، پولیس، صحت، بھیڑ پالن اور عوامی کاموں سمیت مختلف محکموں میں ہوئیں۔ یہ مہم ان ملازمین کو ہٹانے کی ہے جو مبینہ طور پر بھارت کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ حالیہ طور پر تعلیم محکمے کے دو اساتذہ، غلام حسین اور ماجد اقبال ڈار، کو ملی ٹنٹ گروپوں سے مبینہ روابط پر برطرف کیا گیا۔
ہوم محکمے کے ایک سینئر افسر نے کہا، "ملی ٹنسی کی حمایت یا اس کی توسیف کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی ہے۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

غزّہ کی داستانِ عزم

  مسعود محبوب خان عصرِ حاضر میں، جب طاقت، وسائل اور...

’’ صحافی اپنے قلم کا صحیح استعمال کر ے تو ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے ‘‘

قیصر محمود عراقی صحافیوں نے ہمیشہ عوام کی خدمت کے...

ارضِ مقدس بھارت سے شکاگو کا سفر — اور پھر ہگلی واپسی

پرتاپ راؤ جادھو تاریخ گواہ ہے کہ چند نظریات نے...

کیوں نہ یوم جمعہ کو ہی جلسوں کی صورت دی جائے

  (حافظ) افتخار احمد قادری اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات...

ہم کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں

بےنام گیلانی عہدِ حاضر میں سیاست ایک ایسا میدان بن...

تازہ ترین خبریں

غزّہ کی داستانِ عزم

  مسعود محبوب خان عصرِ حاضر میں، جب طاقت، وسائل اور...

’’ صحافی اپنے قلم کا صحیح استعمال کر ے تو ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے ‘‘

قیصر محمود عراقی صحافیوں نے ہمیشہ عوام کی خدمت کے...

ارضِ مقدس بھارت سے شکاگو کا سفر — اور پھر ہگلی واپسی

پرتاپ راؤ جادھو تاریخ گواہ ہے کہ چند نظریات نے...

کیوں نہ یوم جمعہ کو ہی جلسوں کی صورت دی جائے

  (حافظ) افتخار احمد قادری اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات...

ہم کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں

بےنام گیلانی عہدِ حاضر میں سیاست ایک ایسا میدان بن...

دو سرکاری ملازمین دہشت گردی سے تعلق کے الزام میں برطرف

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے دہشت گردی کے خلاف "صفر برداشت” کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے آئین ہند کے آرٹیکل 311 کے تحت دو مزید سرکاری ملازمین کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کردیا۔
تفصیلات کے مطابق، برطرف کیے گئے ملازمین میں غلام حسین، محکمہ تعلیم کا استاد، اور ماجد اقبال ڈار، استاد و سابق لیب اسسٹنٹ شامل ہیں۔ غلام حسین پر الزام ہے کہ وہ لشکرِ طیبہ (LeT) کا اوور گراؤنڈ ورکر تھا، دہشت گردوں سے رابطے میں تھا، اور ریاسی ضلع میں دہشت گردوں کی بھرتی و مالی معاونت میں ملوث تھا۔ ماجد اقبال ڈار پر منشیات کے ذریعے دہشت گردی کی مالی معاونت، نوجوانوں کی ذہنی گمراہی، اور آئی ای ڈی منصوبوں میں شمولیت کے الزامات ہیں۔

غلام حسین — استاد (محکمہ تعلیم)
ذرائع کے مطابق غلام حسین 2004 میں بحیثیت "ریہبرِ تعلیم” تعینات ہوا اور 2009 میں باقاعدہ ملازم بنا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ وہ خفیہ طور پر لشکرِ طیبہ کے لیے کام کرتا تھا، دہشت گردوں کے لیے رقم اکٹھی کرتا اور انہیں مقامی سطح پر مدد فراہم کرتا تھا۔ حسین کو 2023 میں گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہ صرف مالی مفاد کے لیے نہیں بلکہ نظریاتی طور پر بھی دہشت گردی سے ہمدردی رکھتا تھا اور نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرتا تھا۔
ماجد اقبال ڈار — استاد (محکمہ تعلیم)

ذرائع کے مطابق ماجد اقبال ڈار کو 2009 میں ہمدردانہ بنیاد پر لیب اسسٹنٹ مقرر کیا گیا اور 2019 میں استاد کے عہدے پر ترقی ملی۔ وہ بھی لشکرِ طیبہ کا اوور گراؤنڈ ورکر تھا اور راجوری علاقے میں نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرنے میں سرگرم تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ وہ منشیات کے پیسے سے دہشت گردی کی مالی معاونت کر رہا تھا۔ جنوری 2023 میں راجوری کے قریب جے اینڈ کے بینک کے پاس نصب ایک آئی ای ڈی کیس میں اس کا نام سامنے آیا، جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، قید کے دوران بھی ماجد ڈار نے اپنی انتہا پسند سوچ برقرار رکھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے سرکاری نظام کا حصہ رہتے ہوئے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا، جو عوامی مفاد کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔

لیفٹیننٹ گورنر، منوج سنہا

امن تبھی قائم ہوسکتا ہے جب دہشت گردی کے پورے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہمیں سخت اقدامات کے ساتھ اس مہم کو جاری رکھنا ہوگا۔

2021 سے اب تک 82 ملازمین برطرف
سرینگر/لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نےریاست کی سلامتی کے مفاد میں بغیر تحقیقات 82 سے زائد سرکاری ملازمین کو برطرف کیا۔ یہ تعلیم، پولیس، صحت سمیت مختلف محکموں میں ہوا، جو بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
برطرفیاں تعلیم، پولیس، صحت، بھیڑ پالن اور عوامی کاموں سمیت مختلف محکموں میں ہوئیں۔ یہ مہم ان ملازمین کو ہٹانے کی ہے جو مبینہ طور پر بھارت کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ حالیہ طور پر تعلیم محکمے کے دو اساتذہ، غلام حسین اور ماجد اقبال ڈار، کو ملی ٹنٹ گروپوں سے مبینہ روابط پر برطرف کیا گیا۔
ہوم محکمے کے ایک سینئر افسر نے کہا، "ملی ٹنسی کی حمایت یا اس کی توسیف کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی ہے۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں