"مترجم موجود نہیں” اسپیکر راتھر نے رکن اسلمبی کو کشمیری زبان میں بات کرنے سے روکا

جنگ نیوز ڈیسک

جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے بدھ کو نیشنل کانفرنس کے رکنِ اسمبلی مبارک گل کو کشمیری زبان میں تقریر کرنے سے روک دیا، یہ کہتے ہوئے کہ ایوان میں مترجم موجود نہیں ہے۔

زیرو آور کے دوران مبارک گل نے اپنی تقریر کشمیری زبان میں شروع کی اور پانی کے ذخائر کے ارد گرد غیر قانونی قبضوں اور تعمیرات پر مقامی نوجوانوں سے اپنی گفتگو کا حوالہ دیا۔ تاہم 80 سالہ اسپیکر  نے انہیں روک دیا اور کہا کہ ان کی تقریر ریکارڈ پر نہیں جائے گی۔

“آپ کشمیری زبان میں اجازت کے بغیر کیوں بول رہے ہیں؟ ایوان میں مترجم موجود نہیں، اس لیے آپ کی تقریر ریکارڈ نہیں ہو رہی ہے،” اسپیکر راتھر نے کہا۔

اس کے بعد مبارک گل نے اپنی بات اردو میں جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کشمیری، ڈوگری اور دیگر علاقائی زبانوں کو تعلیمی سطح پر نظرانداز کیا جا رہا ہے، حالانکہ حکومت ان زبانوں کو یونیورسٹی سطح تک پڑھانے کے دعوے کرتی ہے۔
انہوں نے کہا، “تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کشمیری، ڈوگری اور دیگر علاقائی زبانیں اسکولوں میں نہیں پڑھائی جا رہیں۔ حکومت کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔”

حلقۂ ادب سوناواری اور ادبی مرکز کمراز کا اظہارِ افسوس

جنگ نیوز ڈیسک

ادبی مرکز کمراز اور حلقۂ ادب سوناواری، حاجن نے جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبد الرحیم راتھر کی جانب سے کشمیری زبان میں بولنے کی اجازت نہ دینے پر گہری برہمی اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ادبی اداروں نے کہا کہ مترجم کی عدم دستیابی کو بہانہ بنا کر ارکان کو مادری زبان میں اظہارِ خیال سے روکنا کشمیری عوام کے لسانی حقوق اور زبان کے فروغ کی کوششوں پر کاری ضرب ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ کشمیری، جو ریاست کی سرکاری زبانوں میں شامل ہے، وادی کی ثقافتی پہچان ہے اور اسے اسمبلی میں نظرانداز کرنا افسوسناک ہے۔ دونوں اداروں نے اسپیکر سے اپیل کی کہ وہ مترجم کی تقرری کو یقینی بنائیں اور ارکان کو کشمیری زبان میں بولنے کی اجازت دیں تاکہ اس زبان کے فروغ اور احترام کو برقرار رکھا جا سکے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جنگ فیچر: اسرائیل کا مگرمچھ جیل منصوبہ

  کیٹ میکموہن اسرائیلی جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں...

کشمیر سمیت ملک بھر میں وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ منائی گئی

جنگ نیوز نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ...

UPI کی نئی فیس کیساتھ تحفظ بھی لازم

یو پی آئی نے بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو...

انٹر ڈسٹرکٹ لیول کے تحت بڈگام میں کراٹے مقابلوں کا انعقاد

  جنگ نیوز ڈیسک بڈگام / یونس پرے /تمام عمر کے...

تازہ ترین خبریں

جنگ فیچر: اسرائیل کا مگرمچھ جیل منصوبہ

  کیٹ میکموہن اسرائیلی جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں...

کشمیر سمیت ملک بھر میں وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ منائی گئی

جنگ نیوز نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ...

UPI کی نئی فیس کیساتھ تحفظ بھی لازم

یو پی آئی نے بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو...

انٹر ڈسٹرکٹ لیول کے تحت بڈگام میں کراٹے مقابلوں کا انعقاد

  جنگ نیوز ڈیسک بڈگام / یونس پرے /تمام عمر کے...

"مترجم موجود نہیں” اسپیکر راتھر نے رکن اسلمبی کو کشمیری زبان میں بات کرنے سے روکا

جنگ نیوز ڈیسک

جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے بدھ کو نیشنل کانفرنس کے رکنِ اسمبلی مبارک گل کو کشمیری زبان میں تقریر کرنے سے روک دیا، یہ کہتے ہوئے کہ ایوان میں مترجم موجود نہیں ہے۔

زیرو آور کے دوران مبارک گل نے اپنی تقریر کشمیری زبان میں شروع کی اور پانی کے ذخائر کے ارد گرد غیر قانونی قبضوں اور تعمیرات پر مقامی نوجوانوں سے اپنی گفتگو کا حوالہ دیا۔ تاہم 80 سالہ اسپیکر  نے انہیں روک دیا اور کہا کہ ان کی تقریر ریکارڈ پر نہیں جائے گی۔

“آپ کشمیری زبان میں اجازت کے بغیر کیوں بول رہے ہیں؟ ایوان میں مترجم موجود نہیں، اس لیے آپ کی تقریر ریکارڈ نہیں ہو رہی ہے،” اسپیکر راتھر نے کہا۔

اس کے بعد مبارک گل نے اپنی بات اردو میں جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کشمیری، ڈوگری اور دیگر علاقائی زبانوں کو تعلیمی سطح پر نظرانداز کیا جا رہا ہے، حالانکہ حکومت ان زبانوں کو یونیورسٹی سطح تک پڑھانے کے دعوے کرتی ہے۔
انہوں نے کہا، “تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کشمیری، ڈوگری اور دیگر علاقائی زبانیں اسکولوں میں نہیں پڑھائی جا رہیں۔ حکومت کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔”

حلقۂ ادب سوناواری اور ادبی مرکز کمراز کا اظہارِ افسوس

جنگ نیوز ڈیسک

ادبی مرکز کمراز اور حلقۂ ادب سوناواری، حاجن نے جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبد الرحیم راتھر کی جانب سے کشمیری زبان میں بولنے کی اجازت نہ دینے پر گہری برہمی اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ادبی اداروں نے کہا کہ مترجم کی عدم دستیابی کو بہانہ بنا کر ارکان کو مادری زبان میں اظہارِ خیال سے روکنا کشمیری عوام کے لسانی حقوق اور زبان کے فروغ کی کوششوں پر کاری ضرب ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ کشمیری، جو ریاست کی سرکاری زبانوں میں شامل ہے، وادی کی ثقافتی پہچان ہے اور اسے اسمبلی میں نظرانداز کرنا افسوسناک ہے۔ دونوں اداروں نے اسپیکر سے اپیل کی کہ وہ مترجم کی تقرری کو یقینی بنائیں اور ارکان کو کشمیری زبان میں بولنے کی اجازت دیں تاکہ اس زبان کے فروغ اور احترام کو برقرار رکھا جا سکے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں