لداخ میںپُر تشدد احتجاج کے دوران 4 افرادہلاک اور 50 زخمی

جنگ نیوزڈیسک

لیہ/ لداخ کے لیہ میں ریاستی درجہ کے حق میں احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے مابین تصادم میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، گاڑیاں جلائیں اور بی جے پی کے دفتر پر حملہ کیا، جس کے بعد ضلع انتظامیہ نے بھارتی شہری سکیورٹی سنہیتہ کی دفعہ 163 کے تحت پابندیاں عائد کیں۔
احتجاج 10 ستمبر سے دو ہفتے سے جاری بھوک ہڑتال کے دوران ہوا، جس کی قیادت ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کر رہے تھے، جنہوں نے لداخ کو چھٹے شیڈول میں شامل کرنے اور ریاستی حیثیت دینے کے لیے مرکزی حکومت سے بات چیت کا مطالبہ کیا تھا۔ ہنگامے کے بعد وانگچک نے 15 روزہ بھوک ہڑتال ختم کی اور نوجوانوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔
ضلع مجسٹریٹ رومل سنگھ ڈونک کے مطابق، احتجاج کے دوران اشتعال انگیز بیانات اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی کالز نے ہنگامہ پیدا کیا۔ مظاہرین نے LAHDC دفتر میں داخل ہو کر آگ لگائی، جس کے دوران پولیس اور CRPF نے مداخلت کی۔
لیفٹیننٹ گورنر کاوندر گپتا نے تشدد کی مذمت کی اور تمام کمیونٹیز اور سیاسی جماعتوں سے امن قائم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے مطالبات پر بات چیت کا وعدہ کیا ہے، لیکن کچھ گروپ نے افراتفری پھیلائی۔ انتظامیہ نے مزید ہلاکتوں سے بچنے کے لیے پابندیاں اور کرفیو نافذ کیا۔
اس دوران، لداخ فیسٹیول کا اختتامی دن منسوخ کر دیا گیا، جس پر مقامی فنکاروں، ثقافتی گروپوں اور سیاحوں کو تکلیف ہوئی۔ سیاسی رہنماؤں سجاد کرگیلی اور تھوپستان تسوانگ نے صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے امن قائم رکھنے اور ریاستی مطالبات کے لیے پرامن کوششیں جاری رکھنے کی اپیل کی۔

وزارت داخلہ کا بیان:سونم وانگچک ذمہ دار

وزارت داخلہ نے کہا کہ لداخ میں ہنگامے جن میں چار ہلاک اور 50 زخمی ہوئے، ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کے اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے ہوئے۔ وزارت نے بتایا کہ حکومت اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کے ذریعے متعدد اصلاحات نافذ کر چکی ہے، جن میں شیڈولڈ ٹرائب ریزرویشن میں اضافہ، خواتین کی ریزرویشن، سرکاری زبانوں کا اعلان اور 1,800 پوسٹس کی بھرتی شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق، احتجاج کے دوران مظاہرین نے دفاتر اور پولیس گاڑیوں پر حملہ کیا، جس پر سکیورٹی فورسز نے خود دفاع میں فائرنگ کی، اور صورتحال شام تک قابو میں آ گئی۔ وزارت نے عوام سے اپیل کی کہ پرانے یا اشتعال انگیز ویڈیوز سوشل میڈیا پر نہ پھیلائیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

لداخ میںپُر تشدد احتجاج کے دوران 4 افرادہلاک اور 50 زخمی

جنگ نیوزڈیسک

لیہ/ لداخ کے لیہ میں ریاستی درجہ کے حق میں احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے مابین تصادم میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، گاڑیاں جلائیں اور بی جے پی کے دفتر پر حملہ کیا، جس کے بعد ضلع انتظامیہ نے بھارتی شہری سکیورٹی سنہیتہ کی دفعہ 163 کے تحت پابندیاں عائد کیں۔
احتجاج 10 ستمبر سے دو ہفتے سے جاری بھوک ہڑتال کے دوران ہوا، جس کی قیادت ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کر رہے تھے، جنہوں نے لداخ کو چھٹے شیڈول میں شامل کرنے اور ریاستی حیثیت دینے کے لیے مرکزی حکومت سے بات چیت کا مطالبہ کیا تھا۔ ہنگامے کے بعد وانگچک نے 15 روزہ بھوک ہڑتال ختم کی اور نوجوانوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔
ضلع مجسٹریٹ رومل سنگھ ڈونک کے مطابق، احتجاج کے دوران اشتعال انگیز بیانات اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی کالز نے ہنگامہ پیدا کیا۔ مظاہرین نے LAHDC دفتر میں داخل ہو کر آگ لگائی، جس کے دوران پولیس اور CRPF نے مداخلت کی۔
لیفٹیننٹ گورنر کاوندر گپتا نے تشدد کی مذمت کی اور تمام کمیونٹیز اور سیاسی جماعتوں سے امن قائم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے مطالبات پر بات چیت کا وعدہ کیا ہے، لیکن کچھ گروپ نے افراتفری پھیلائی۔ انتظامیہ نے مزید ہلاکتوں سے بچنے کے لیے پابندیاں اور کرفیو نافذ کیا۔
اس دوران، لداخ فیسٹیول کا اختتامی دن منسوخ کر دیا گیا، جس پر مقامی فنکاروں، ثقافتی گروپوں اور سیاحوں کو تکلیف ہوئی۔ سیاسی رہنماؤں سجاد کرگیلی اور تھوپستان تسوانگ نے صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے امن قائم رکھنے اور ریاستی مطالبات کے لیے پرامن کوششیں جاری رکھنے کی اپیل کی۔

وزارت داخلہ کا بیان:سونم وانگچک ذمہ دار

وزارت داخلہ نے کہا کہ لداخ میں ہنگامے جن میں چار ہلاک اور 50 زخمی ہوئے، ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کے اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے ہوئے۔ وزارت نے بتایا کہ حکومت اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کے ذریعے متعدد اصلاحات نافذ کر چکی ہے، جن میں شیڈولڈ ٹرائب ریزرویشن میں اضافہ، خواتین کی ریزرویشن، سرکاری زبانوں کا اعلان اور 1,800 پوسٹس کی بھرتی شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق، احتجاج کے دوران مظاہرین نے دفاتر اور پولیس گاڑیوں پر حملہ کیا، جس پر سکیورٹی فورسز نے خود دفاع میں فائرنگ کی، اور صورتحال شام تک قابو میں آ گئی۔ وزارت نے عوام سے اپیل کی کہ پرانے یا اشتعال انگیز ویڈیوز سوشل میڈیا پر نہ پھیلائیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں