سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جو کئی اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ مختلف پہلوؤں سے دنیا کی نگاہیں اس پر ٹکی رہتی ہیں۔ عالم اسلام میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ سعودی عرب نے دنیا کے نقشے پر اپنی جو خاص پہچان بنائی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہیکہ اس نے اپنے قیام کے اول دن سے تمام طرح کے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر انسانیت، اسلام اور اہل اسلام کی بے لوث خدمت کی ہے۔ کیونکہ اس ملک کا قیام ہی اسی مشن کے لیے ہوا ہے۔ عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ کوئی عام ملک ہو یا اسلامی ملک اپنے کسی بھی اقدام سے پہلے اپنی پالیسی اور اپنے مفادات کو سامنا رکھتا ہے اس کے بعد ہی کسی کام کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ لیکن سعودی عرب واحد ایسا ملک ہے جس نے انسانیت کی خدمت میں کبھی بھی اپنے ذاتی مفادات کو خاطر میں نہیں لایا، یہی وہ چیز ہے جو سعودی عرب کو دیگر ملکوں سے ممتاز بناتی ہے۔ سعودی عرب کی یہ انفرادیت ہے کہ اس کا اپنا کوئی دستور نہیں ہے بلکہ اسلام کے جو دو مصادر قرآن و حدیث ہیں وہی اس ملک کا اپنا قانون اور دستور ہے۔ بلاد حرمین شریفین ہونے کی وجہ سے سعودی عرب سے پوری دنیا کے مسلمانوں کا خاص لگاؤ اور اس سے دینی و مذہبی رشتہ بھی ہے۔ ہر سال پوری دنیا سے ایک کڑور سے زائد مسلمان حج و عمرہ کی نیت سے اس کی زیارت کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے قیام کو تیانویں(93) سال ہو گئے ہیں۔ 19؍ستمبر 1932ء کو بانی سعودی عرب شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمان آل سعود کے شاہی فرمان صادر ہونے کے بعد 23؍ستمبر 1932ء سے اس ملک کو ” المملکہ العربیہ السعودیہ” یعنی ” مملکتِ سعودی عرب” کے نام سے موسوم کیا جانے لگا۔ اس سے قبل اس ملک کو ” مملکتِ حجاز و نجد” کہا جاتا تھا۔ کیونکہ اس وقت یہ ملک چند علاقوں پر مشتمل تھا۔ لیکن شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمان آل سعود نے ملک کو متحد کرنے اور اس کے علاقے کو واپس اپنے کنٹرول میں کرنے کے لیے 1902ء سے مسلح جد و جہد کا آغاز کر دیا اور 30 سال سے زائد مدت تک مسلسل اور مسلح جد و جہد کرنے کے بعد ”دوسری سعودی ریاست”(الدولہ السعودیہ الثانیہ) کے بانی اپنے اسلاف کی راجدھانی” ریاض ” کو لوٹانے کے ساتھ ساتھ دیگر اہم خطے جیسے جنوب نجد،سدیر،وشم،قصیم،أحساء،عسیر،حائل واپس اپنے کنٹرول میں لے لیا یہاں تک کہ 1930ء میں” جازان ” کو بھی حجاز میں شامل کر لیا گیا۔ اس طرح سے شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمان آل سعود نے حجاز کے تمام علاقے اور خطے کو متحد کیا اور ” مملکتِ سعودی عرب ” کی شکل میں ایک مستحکم اور پائدار ملک کی بنیاد رکھی۔ تب سے آج تک سعودی عرب پورے آب و تاب اور آن بان اور شان کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔
مملکت سعودی عرب کا قیام : اہداف ومقاصد
مملکت سعودی عرب کا قیام : اہداف ومقاصد
سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جو کئی اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ مختلف پہلوؤں سے دنیا کی نگاہیں اس پر ٹکی رہتی ہیں۔ عالم اسلام میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ سعودی عرب نے دنیا کے نقشے پر اپنی جو خاص پہچان بنائی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہیکہ اس نے اپنے قیام کے اول دن سے تمام طرح کے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر انسانیت، اسلام اور اہل اسلام کی بے لوث خدمت کی ہے۔ کیونکہ اس ملک کا قیام ہی اسی مشن کے لیے ہوا ہے۔ عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ کوئی عام ملک ہو یا اسلامی ملک اپنے کسی بھی اقدام سے پہلے اپنی پالیسی اور اپنے مفادات کو سامنا رکھتا ہے اس کے بعد ہی کسی کام کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ لیکن سعودی عرب واحد ایسا ملک ہے جس نے انسانیت کی خدمت میں کبھی بھی اپنے ذاتی مفادات کو خاطر میں نہیں لایا، یہی وہ چیز ہے جو سعودی عرب کو دیگر ملکوں سے ممتاز بناتی ہے۔ سعودی عرب کی یہ انفرادیت ہے کہ اس کا اپنا کوئی دستور نہیں ہے بلکہ اسلام کے جو دو مصادر قرآن و حدیث ہیں وہی اس ملک کا اپنا قانون اور دستور ہے۔ بلاد حرمین شریفین ہونے کی وجہ سے سعودی عرب سے پوری دنیا کے مسلمانوں کا خاص لگاؤ اور اس سے دینی و مذہبی رشتہ بھی ہے۔ ہر سال پوری دنیا سے ایک کڑور سے زائد مسلمان حج و عمرہ کی نیت سے اس کی زیارت کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے قیام کو تیانویں(93) سال ہو گئے ہیں۔ 19؍ستمبر 1932ء کو بانی سعودی عرب شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمان آل سعود کے شاہی فرمان صادر ہونے کے بعد 23؍ستمبر 1932ء سے اس ملک کو ” المملکہ العربیہ السعودیہ” یعنی ” مملکتِ سعودی عرب” کے نام سے موسوم کیا جانے لگا۔ اس سے قبل اس ملک کو ” مملکتِ حجاز و نجد” کہا جاتا تھا۔ کیونکہ اس وقت یہ ملک چند علاقوں پر مشتمل تھا۔ لیکن شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمان آل سعود نے ملک کو متحد کرنے اور اس کے علاقے کو واپس اپنے کنٹرول میں کرنے کے لیے 1902ء سے مسلح جد و جہد کا آغاز کر دیا اور 30 سال سے زائد مدت تک مسلسل اور مسلح جد و جہد کرنے کے بعد ”دوسری سعودی ریاست”(الدولہ السعودیہ الثانیہ) کے بانی اپنے اسلاف کی راجدھانی” ریاض ” کو لوٹانے کے ساتھ ساتھ دیگر اہم خطے جیسے جنوب نجد،سدیر،وشم،قصیم،أحساء،عسیر،حائل واپس اپنے کنٹرول میں لے لیا یہاں تک کہ 1930ء میں” جازان ” کو بھی حجاز میں شامل کر لیا گیا۔ اس طرح سے شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمان آل سعود نے حجاز کے تمام علاقے اور خطے کو متحد کیا اور ” مملکتِ سعودی عرب ” کی شکل میں ایک مستحکم اور پائدار ملک کی بنیاد رکھی۔ تب سے آج تک سعودی عرب پورے آب و تاب اور آن بان اور شان کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔


