کشمیر میں بقا کی قیمت

سونا ہمیشہ سے قدر و قیمت کی علامت رہا ہے، مگر کشمیر کے عوام کیلئے یہ ایک تلخ طنز بن چکا ہے۔ دنیا میں دولت اور خوشحالی کا پیمانہ سونا ہے لیکن یہاں تو روزمرہ کی بنیادی ضروریات ہی سونے سے کم نہیں۔چاول، چائے،  روٹی، سبزی اور ایندھن جیسے عام اجناس اس قدر مہنگے ہو چکے ہیں کہ عام انسان کی زندگی گزارنا کسی عیاشی سے کم نہیں رہا۔
اس پر مزید ستم یہ کہ جب بھی سری نگر-جموں قومی شاہراہ بند ہو جاتی ہے، تو وادی کی معیشت کی شہ رگ کٹ کر رہ جاتی ہے۔ کبھی برف باری اور مٹی کے تودے تو کبھی انتظامی غفلت اس واحد تجارتی راستے کو معطل کر دیتی ہے۔ نتیجتاً افراطِ زر، اشیائے خوردونوش کی قلت اور عوامی بے بسی میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر عوام کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ آخر کب تک کشمیر میں روزمرہ کی زندگی ایک تعیش بنی رہے گی؟ حکومت اور انتظامیہ اس صورتحال کو معمول کی پریشانی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرسکتے۔ متبادل تجارتی راستے فراہم کرنا، اشیائے ضروریہ کی باقاعدہ سپلائی یقینی بنانا اور قیمتوں کو قابو میں رکھنا اب محض اختیاری نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ ہے۔
جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک کشمیری عوام کے لیے بقا کی قیمت سونے کی طرح ناقابلِ حصول ہی رہے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

کشمیر میں بقا کی قیمت

سونا ہمیشہ سے قدر و قیمت کی علامت رہا ہے، مگر کشمیر کے عوام کیلئے یہ ایک تلخ طنز بن چکا ہے۔ دنیا میں دولت اور خوشحالی کا پیمانہ سونا ہے لیکن یہاں تو روزمرہ کی بنیادی ضروریات ہی سونے سے کم نہیں۔چاول، چائے،  روٹی، سبزی اور ایندھن جیسے عام اجناس اس قدر مہنگے ہو چکے ہیں کہ عام انسان کی زندگی گزارنا کسی عیاشی سے کم نہیں رہا۔
اس پر مزید ستم یہ کہ جب بھی سری نگر-جموں قومی شاہراہ بند ہو جاتی ہے، تو وادی کی معیشت کی شہ رگ کٹ کر رہ جاتی ہے۔ کبھی برف باری اور مٹی کے تودے تو کبھی انتظامی غفلت اس واحد تجارتی راستے کو معطل کر دیتی ہے۔ نتیجتاً افراطِ زر، اشیائے خوردونوش کی قلت اور عوامی بے بسی میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر عوام کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ آخر کب تک کشمیر میں روزمرہ کی زندگی ایک تعیش بنی رہے گی؟ حکومت اور انتظامیہ اس صورتحال کو معمول کی پریشانی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرسکتے۔ متبادل تجارتی راستے فراہم کرنا، اشیائے ضروریہ کی باقاعدہ سپلائی یقینی بنانا اور قیمتوں کو قابو میں رکھنا اب محض اختیاری نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ ہے۔
جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک کشمیری عوام کے لیے بقا کی قیمت سونے کی طرح ناقابلِ حصول ہی رہے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں