عوامی مرکزیت کی عکاسی ہے GSTاصلاحات

جب وزیر اعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعے کی فصیلوں سے یہ اعلان کیا کہ ملک میں ’’اگلی نسل کی جی ایس ٹی اصلاحات‘‘ نافذ کی جائیں گی، تو یہ صرف ایک پالیسی بیان نہیں تھا بلکہ عوام کو یہ یقین دہانی بھی تھی کہ ملک کے سب سے بڑے ٹیکس ڈھانچے کا مرکز عام شہری ہوگا۔ حالیہ اجلاس میں جی ایس ٹی کونسل کے فیصلے اسی وژن کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ اصلاحات حکمت عملی پر مبنی، اصولی اور سب سے بڑھ کر عوام دوست ہیں۔
جی ایس ٹی شرحوں کی معقولیت (Rate Rationalisation) کئی طبقات کو براہِ راست ریلیف فراہم کرتی ہے۔ چھوٹے تاجروں، کسانوں اور محنت کش صنعتوں کے لیے یہ تبدیلیاں راحت کا پیغام ہیں۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے صابن، تیل، شیمپو، سائیکل اور ٹوتھ پیسٹ اب کم شرح یعنی 5 فیصد کے دائرے میں آ گئے ہیں۔ اسی طرح پنیر، ڈبل روٹی، گھی اور پیک شدہ خوردنی اشیاء جیسے نمکین اور چاکلیٹ پر بھی جی ایس ٹی میں کمی کی گئی ہے، جو عام گھریلو اخراجات میں واضح کمی کا سبب بنے گی۔
زرعی شعبے کو بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ٹریکٹروں، باغبانی و جنگلاتی مشینری اور کھاد سازی کے آلات پر جی ایس ٹی 12 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ قدم کسانوں کو مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ دستکاری اور چمڑے کی مصنوعات پر کمی سے محنت کش صنعتوں کو سہارا ملے گا اور کروڑوں کاریگروں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
تعمیراتی شعبہ بھی اس ریلیف کا مستفید ہوا ہے۔ سیمنٹ پر جی ایس ٹی کی شرح 28 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کر دی گئی ہے، جس سے بنیادی ڈھانچے اور سستی رہائش کے منصوبوں کو تقویت ملے گی۔ صحت کا شعبہ بھی پہلی مرتبہ اس حد تک براہِ راست فائدہ پا رہا ہے۔ جان بچانے والی ادویات پر جی ایس ٹی صفر کر دیا گیا ہے، جب کہ دیگر ادویات اور طبی آلات پر شرح میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ یہ اقدام صرف معیشتی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی پر مبنی فیصلہ ہے۔
سب سے بڑی تبدیلی جی ایس ٹی ڈھانچے کی سادگی میں ہے۔ چار درجوں کے پیچیدہ نظام سے نکل کر اب دو بنیادی شرحوں پر مشتمل ڈھانچہ تجویز کیا گیا ہے: ایک معیاری شرح 18 فیصد، دوسری رعایتی شرح 5 فیصد، جب کہ چند مخصوص اشیاء پر 40 فیصد ’’ڈی میرٹ ریٹ‘‘ نافذ ہوگا۔ یہ سادہ ڈھانچہ ٹیکس ادائیگی کو آسان اور شفاف بنانے میں مدد دے گا۔
تاہم اصلاحات کی روح اپنی جگہ مسلم ہے۔ ان فیصلوں میں گھریلو زندگی کو سہل بنانے، کسانوں کو مضبوط کرنے، چھوٹے تاجروں کو سہارا دینے اور صنعتوں کو رفتار دینے کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

چار منزلہ عمارت منہدم، 9 افراد ہلاک، متعدد کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ

  مہاراشٹر کے بھیونڈی میں جمعہ کو چار منزلہ عمارت...

سرینگر میں ’’کمیونیکیشن لاسٹ‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 30 جولائی: سرینگر میں مرزا محمد...

عمر عبداللہ حکومت نے 2016 کی مظلوم انشا ءمشتاق کے خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا

جنگ نیوز ڈیسک سنہ 2016 کے پُرآشوب حالات میں پیلٹ...

جنگلاتی حقوق کے مؤثر نفاذ کا فیصلہ قبائلی برادری کے لئے تاریخی قدم/عمران نبی ڈار

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 30 جولائی: NC کے ریاستی ترجمان...

پیپلز کانفرنس پر مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے نام استعمال کر کے PDP رہنماؤں کو دھمکانے کا الزام

جنگ نیوز سرینگر/ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی...

تازہ ترین خبریں

چار منزلہ عمارت منہدم، 9 افراد ہلاک، متعدد کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ

  مہاراشٹر کے بھیونڈی میں جمعہ کو چار منزلہ عمارت...

سرینگر میں ’’کمیونیکیشن لاسٹ‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 30 جولائی: سرینگر میں مرزا محمد...

عمر عبداللہ حکومت نے 2016 کی مظلوم انشا ءمشتاق کے خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا

جنگ نیوز ڈیسک سنہ 2016 کے پُرآشوب حالات میں پیلٹ...

جنگلاتی حقوق کے مؤثر نفاذ کا فیصلہ قبائلی برادری کے لئے تاریخی قدم/عمران نبی ڈار

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 30 جولائی: NC کے ریاستی ترجمان...

پیپلز کانفرنس پر مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے نام استعمال کر کے PDP رہنماؤں کو دھمکانے کا الزام

جنگ نیوز سرینگر/ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی...

عوامی مرکزیت کی عکاسی ہے GSTاصلاحات

جب وزیر اعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعے کی فصیلوں سے یہ اعلان کیا کہ ملک میں ’’اگلی نسل کی جی ایس ٹی اصلاحات‘‘ نافذ کی جائیں گی، تو یہ صرف ایک پالیسی بیان نہیں تھا بلکہ عوام کو یہ یقین دہانی بھی تھی کہ ملک کے سب سے بڑے ٹیکس ڈھانچے کا مرکز عام شہری ہوگا۔ حالیہ اجلاس میں جی ایس ٹی کونسل کے فیصلے اسی وژن کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ اصلاحات حکمت عملی پر مبنی، اصولی اور سب سے بڑھ کر عوام دوست ہیں۔
جی ایس ٹی شرحوں کی معقولیت (Rate Rationalisation) کئی طبقات کو براہِ راست ریلیف فراہم کرتی ہے۔ چھوٹے تاجروں، کسانوں اور محنت کش صنعتوں کے لیے یہ تبدیلیاں راحت کا پیغام ہیں۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے صابن، تیل، شیمپو، سائیکل اور ٹوتھ پیسٹ اب کم شرح یعنی 5 فیصد کے دائرے میں آ گئے ہیں۔ اسی طرح پنیر، ڈبل روٹی، گھی اور پیک شدہ خوردنی اشیاء جیسے نمکین اور چاکلیٹ پر بھی جی ایس ٹی میں کمی کی گئی ہے، جو عام گھریلو اخراجات میں واضح کمی کا سبب بنے گی۔
زرعی شعبے کو بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ٹریکٹروں، باغبانی و جنگلاتی مشینری اور کھاد سازی کے آلات پر جی ایس ٹی 12 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ قدم کسانوں کو مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ دستکاری اور چمڑے کی مصنوعات پر کمی سے محنت کش صنعتوں کو سہارا ملے گا اور کروڑوں کاریگروں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
تعمیراتی شعبہ بھی اس ریلیف کا مستفید ہوا ہے۔ سیمنٹ پر جی ایس ٹی کی شرح 28 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کر دی گئی ہے، جس سے بنیادی ڈھانچے اور سستی رہائش کے منصوبوں کو تقویت ملے گی۔ صحت کا شعبہ بھی پہلی مرتبہ اس حد تک براہِ راست فائدہ پا رہا ہے۔ جان بچانے والی ادویات پر جی ایس ٹی صفر کر دیا گیا ہے، جب کہ دیگر ادویات اور طبی آلات پر شرح میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ یہ اقدام صرف معیشتی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی پر مبنی فیصلہ ہے۔
سب سے بڑی تبدیلی جی ایس ٹی ڈھانچے کی سادگی میں ہے۔ چار درجوں کے پیچیدہ نظام سے نکل کر اب دو بنیادی شرحوں پر مشتمل ڈھانچہ تجویز کیا گیا ہے: ایک معیاری شرح 18 فیصد، دوسری رعایتی شرح 5 فیصد، جب کہ چند مخصوص اشیاء پر 40 فیصد ’’ڈی میرٹ ریٹ‘‘ نافذ ہوگا۔ یہ سادہ ڈھانچہ ٹیکس ادائیگی کو آسان اور شفاف بنانے میں مدد دے گا۔
تاہم اصلاحات کی روح اپنی جگہ مسلم ہے۔ ان فیصلوں میں گھریلو زندگی کو سہل بنانے، کسانوں کو مضبوط کرنے، چھوٹے تاجروں کو سہارا دینے اور صنعتوں کو رفتار دینے کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں