حضرت محمد ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں


طارق منور

ہر دور یا ہر زمانے کی تاریکی یعنی جہالت ، ظلم ، رسم ، بدعت اور رواج کو ختم کرنے کے لیے ربِ کریم نے ایک سے بڑ کر ایک صاحبِ علم ، مربی ، رہبر و رہنما مبعوث کیں ہیں۔ تاکہ ابنِ آدم ، آدم کے خدا کی زمین پر خدا کے احکام بجا لانے کے ساتھ ساتھ کسی کمزور پر ظلم و جبر نا کریں۔ کسی یتیم ، مسیکن، غریب اور نادار و مفلس کا حق زبردستی اور قوتِ بازو سے ہڑپ نا کرنا، راہ سے گزرنے والی صنفِ نازک کی عزت و آبرو کے خزانے پر ڈاکہ نا ڈالنا۔ میکدوں میں شراب کے قطروں سے ہوس کی تشنگی دور نا کرنا۔ اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے ہوئيں پتھروں کے آگے نا جک جانا۔ بس ایک خدا کی عبادت کرنا اور اسے کے آگے سجدے کرنا اور ہاتھ بھی ہر دم پھیلانا ۔ مطلب خدا کی زمین پر خدا کے تمام فرائیض وقتِ مربی و معلم کے بتائے ہوئے نقشہ پر انجام لانا۔ یہی امور زہن نشین کرانے اور سمجھانے کے لیے اللہ تعالی نے آدم علیہ سلام سے لیکر آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ تک کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار بے مثال پیغمبر بھیجے ہیں۔ تواریخ کے بدن کے ہر ہر عضو پر لکھا گیا ہے۔ کہ ہر قوم کی جہالت ، ظلمت اور بد اخلاقی ، بد کرداری اور بد گفتاری کو کس طرح علم و حکمت کے ساتھ وقت کے رہبرِ حقوں نے بدل کے رکھا دیا۔ اور قوم کی تقدیر ہی بدل ڈالی۔ لمبی لمبی راتوں کالی اندھیریوں میں علم و اخلاق، محبت و اخوت ، غمخواری و غم گساری اور دل جوئیی و دلبری ، احساس و ہمدردی کے دیپ روشن کیں ہیں۔ اور ایک خوبصورت معاشرے کا نقشہ کھنیچ کر آئیندہ اقوام کے لیے طرزِ زیست بھی رقم کی ہے۔ منزہ اور با برکت ام الکتاب قرآنِ کریم میں کتنے واقعات ہیں۔ جن سے پتہ چل جاتا ہے۔ کہ قوم کی بہتری کے لیے اللہ تعالی نے کیسے برگزیدہ انسان پیدا کیے ہے۔ جیسے کہ آدمِ ثانی حضرت نوح علیہ سلام نے کس طرح اپنی قوم کو شرک و بدعت اور برائیوں سے روکنے کی جد و جہد کی صبح و شام گھر گھر اور فرد فرد کے پاس گے۔ ان کو سمجھایا سکھایا کہ ہمارا پالنے والا بنانے والا اور کون ہے ہمارا معبود ۔ پھر جس نے انکی صحبت کو اختیار کیا وہی روشنی کی دنیا میں آباد ہوئيں اور جنہوں نے انکار کیا برائیوں کی دلدل سے نکلنے کا نام تک نہیں لیا۔ وہ عذاب کے اندھیریوں میں کھوگئے۔ ایسے درجنوں قصے ہیں قرآنِ مجید میں۔۔ کہ ہر دور میں ہر مربی نے کس محنت اور لگن سے اپنے قوم کو تربیت کی۔ ظلم و ستم جھیلے مگر شبِ ظلمت کے پردے جلا کے رکھ دیے۔ خدا کی طرف سے لوگوں کے لیے بیجھا ہوا رہبر ، بہت ہی نرم طبعت ، گدازِ دل، پیکرِ اخلاق ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے ان کے دل کو قلزم سے بھی وسیع کیا ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم جب تواریخ پڑھتے ہیں۔ تو یہی دیکھتے ہیں۔ کہ کبھی کسی قوم نے اپنے پیغمبر پر پتھر برساے، کبھی تہمتیں دے دی ، کبھی طعانہ زنی کی ، کھبی ان کے اہل و عیال کو پریشان کردیا اور کبھی کسی پیغمبر کو شہید کردیا۔ چنانچہ ایک قوم نے اپنے رہبر و رہنما کو آرے سے چیر دیا ۔ مگر تربیت کا سلسلہ پھر بھی جاری و ساری رہا ۔پے در ہے رہبر و رہنما برگزیدہ انسانوں کا نزول ہوتا رہا۔ اور آخر میں مکمل و اکمل ، اجمل و اطھر ، معلم و مربی اور روف و رحیم ، درِ یتیم پوری کائینات کا ھٰدی محمدِ عربی ﷺ آئے۔ ایسا خوش نما اور لا زوال علم و خلاق کا چراغ ، نہ پہلے کبھی ایسا آیا تھا اور نا ہی بعد میں کوئیی آسکھے گا۔ عرصے دراز کی تاریکی کا دم توڑ کر نا جانے کتنے پتھروں کی تقدیر بدل ڈالی۔ شاہد ہی کوئیی بنی آدم ہوگا جسے یہ نہیں معلوم ہو کہ سر زمین عرب پر سرکارِ دو عالم ﷺ سے پہلے کس مقام کی جہالت اور ظلمت تھی۔ خون ریزی ، بدکاری شراب نوشی ، جوا بازی ، کسی کا مال لوٹنا ، راہ گزر کو تنگ کرنا ، ان سب بد افعالوں میں ملوث تھیں۔ اچھا حیرت کن بات یہ ہے کہ باپ اپنی زندہ بیٹی کو دفناتے تھے۔ کس قدر گر گیں تھیں۔ جانور نما انسان ۔۔۔۔۔۔۔۔ قسم بخدا بدن لرزتا ہے، جسم کے عضو عضو پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ دل میں دردوں کی قیامت برپا ہوتی ہے۔ اور آنکھوں سے اشکوں کا قافلہ رواں ہوجاتا ہے۔ کہ کیا واقعی ایسے بھی انسان تھے۔ ایک باپ کو اپنے بیٹی سے کس حد کی محبت ہوتی ہے۔ سب صاحبِ اولاد جانتے ہوں گیں۔ مگر چودہ سو سال پہلے بیٹی کا باپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدایا عفو کر۔ یہ کس درجے کی جہالت تھی ۔ کتنی عمیق تاریکیوں کے سمندر میں ان لوگوں کا ضمیر ڈوب گیا تھا۔ کہا جاتا ہے۔ کہ معمولی سے بات پر دو قبیلے آپس میں سال ہا سال جنگ و جدل لڑتے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے بڑے اپنی نسل کو وصیت کرتے تھے کہ میرا انتقام آپ لے لینا ضرور۔ تواریخ میں لکھا ہے۔ کہ درجنوں لوگوں کی موت ہوجاتی تھی۔ مگر جنگ کا آلاو پھر بھی بجھنےکا نام نہیں لتا تھا۔ اس زمانے کے جوان بھی وحشی جانوروں سے کم نہیں تھے ۔ جو چو راہی پر رات دن بے ہودہ مستیوں میں مگن رہتے تھے۔ سامنے سے اگر کوئیی حاملہ عورت گزر رہی ہوتی۔ تو یہ آپس میں شرط لگاتے تھے ۔ایک کہتا تھا اسکا ہونے والا جو بچہ ہوگا وہ نر ہوگا اور دوسرا بڑے غرور میں کہہ اٹھتا نہیں۔ مد ہوگی۔ ہائے ! دل بہت رنجیدہ ہوجاتا ہے۔ کہ یہ درندے اس کا پیٹ چاک کرتے تھے اور پھر جھوٹ اور شچ کا حساب کرتے تھے۔ ہیبت طاری ہوجاتی ہے کہ یہ انسان ہی تھے یا کچھ اور۔
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد ﷺسے اجالا کر دے
مگر حجاز کے ریگزار کا دانہ دانہ، نخلستان کے درختوں کے پتے پتے، بحرِ قلزم کا قطرہ قطرہ ، جبلِ احد اور طائیف کے پہاڑ کا ایک ایک سنگ ، آسمان کے چھوٹے بڑے تارے ، سارے فرشتے اور سارے جنات بھی، تواریخ کے اوراقوں پر ایک ایک حرف چیکھ چیکھ کر پکارتے ہیں۔ کہ ہم نے محمد ﷺ جیسا مربی ، رہبر و رہنما کبھی نہیں دیکھا ہے۔۔ جو اتنی گڈن ، فکر اور غم اپنے مبارک دل میں لیے در در اور گھر گھر پھیر رہے ہیں۔ جسے اپنے قوم کی حالتِ زار چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی۔ اسی لیے شام و سحر اور لیل و نہار ایک ایک فرد کو نرم لہجہ اور شفکت کے ساتھ سمجھا رہے تھے۔ کہ ہم کو کس نے پیدا کیا۔ ہمہیں کیا مقصدِ حیات ہے۔ معاشرے میں کس طرح کی زندگی بسانی ہے۔ ماں باپ کا درجہ کیا ہے۔ میاں بیوی کے حقوق کیا ہے۔ اولاد کی تربیت کس طرح سے کرنی ہے۔ ہمسایہ سے کیا سلوک برتنا ہے۔ کسی یتیم ، مفلس ، نادار اور غریب کے ساتھ کس مقام کی ہمدردی کرنی چاہیے۔ یہی تربیت کے رموز عرب کے لوگوں کو سکھاتے سکھاتے آپ نے کتنے تکالیف اُٹھائییں ۔ چشمِ فلک آنسوں بہا بہا کے ، جبلِ نور ، جبلِ احد اور طائیف کا ایک ایک سنگ لڑکھڑاتی زبان سے کہہ رہے ہیں۔ کہ ہم سے نہ پوچھو پھر وہ مناظر کی داستان شاید یہ نحیف و نازک کلیجے پھٹ جائیں گیں۔ مگر ایک عظیم انسان کا دل بھی کریم و رحیم ہوتا ہے۔ کیوں کہ جسے تاریکی کے راستے منور کرنے ہوتے ہے۔ جسے چمن کے گلوں کو سینچنا ہوتا ہے۔ وہ شش جہات کے ظلم و ستم پر صبر و تحمل کر کے خدا سے اپنی قوم کی بہتری چاہتا ہے۔ اور رسولِ اکرم سے بڑ کر کوئیی دوسری ذات اب تک اٹھی ہی نہیں اور یقیقناً اٹھ بھی نہیں سکتی۔ جو ان تمام اوصافوں سے مالا مال ہو ۔ جس نے کم عمر میں اتنا بڑا انقلاب لایا ہو۔ یہ وہ روشن چراغِ حق ہے کہ جس کے فیض سے اور طفیل سے بجھے ہوئيں دیے بھی فیضاب ہوگئے۔ پھر وہ زمانے کے صدیق ٹھہرے ، عدل کی شہنشاہی کرنے والے بنے، حیا کے مراکز بن گئیے ۔ شہرِ علم کے باب بھی ٹہھرے ۔ اور نا جانے کیا کیا۔ مگر جب حقیقت پر نظر ڈالتے ہے۔ تو بس ایک عظیم کامل بشر کی محنت ، لگن ، کڈن اور فکر نظر آرہی ہے۔ جس نے تمام قسم کے کرب و درد پر اُف تک نہ کیا اور مخالف لوگوں کے دیے ہوئے ایذاوں پر نا گلہ کیا نا شکوہ۔ ایسے اخلاق والے ہے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ بلکہ اگر دیکھا جائے اسکا اعتراف غیر مسلم دانشورں نے بھی جابجا کیا ہے جیسے کہ ۔۔۔
١۔ برطانوی ادیب جارج برنارڈ شاء کہتے ہے۔
میں نے محمد ﷺکے مذہب کی، حیران کن استقامت کی بنا پر ہمیشہ تعظیم کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ وہ واحد مذہب ہے جس میں گہرائی ہے اور یہی چیز لوگوں کے لیے دلکش ثابت ہوئی ہے۔ میں محمد ﷺکے مذہب کے بارے میں پیشین گوئی کرنا چاہتا ہوں کہ آج جسے یورپ کہتے ہیں وہاں یہ مانا جانے لگے گا۔ قرون وسطٰی میں نفرت یا تصورات کی بنا پر اسلام کو روشنی سے اندھیرے میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی تھی۔ انہیں انسانیت کے لیے نجات دہندہ کہا جا سکتا ہے۔ مجھے یقین ہےکہ اگر آج کی دنیا کی قیادت کرنے کے لیے کوئی ایسا شخص ہوتا جیسے وہ تھے تو وہ تمام عالمی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو جاتا اور ہم بالآخر خوش بختی اور اتقاق کی فضا میں زندگی بسر کر رہے ہوتے جس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ انیسویں صدی کے کارلائل اور گوئٹے جیسے مفکرین نے محمد کے مذہب کی قابل ذکر اقدار کو تسلیم کیا تھا اور آج بہت سے لوگ اس مذہب کو گلے لگا چکے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ یورپ کے معاشرے پر اسلام کے غلبے کا آغاز ہو چکا ہے۔
٢۔ نپولین بونا پارٹ۔۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم امن اور سلامتی کے ایک عظیم شہزادہ تھے۔ آپ نے اپنی عظیم شخصیت سے اپنے فدائیوں کو اپنے گرد جمع کیا۔ صرف چند سالوں میں مسلمانوں نے آدھی دنیا فتح کر لی۔ جھوٹے خداؤں کے پجاریوں کو مسلمانوں نے اسلام کا حلقہ بگوش بنا لیا۔ بت پرستی کا خاتمہ کر دیا۔ کفار اور مشرکین کے بت کدوں کو پندرہ سال کے عرصے میں ختم کر کے رکھ دیا۔ موسی علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام کے پیروؤں کو بھی اتنی سعادت حاصل نہ ہو سکی۔ یہ حقیقت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہت بڑے اور عظیم انسان تھے۔ اس قدر عظیم انقلاب کے بعد اگر کوئی دوسرا ہوتا تو خدائی کا دعویٰ کر دیتا
٣۔ مہاتما گاندھی جی۔۔
اسلام اپنے انتہائی عروج کے زمانے میں تعصب اور ہٹ دھرمی سے پاک تھا، دنیا سے خراج تحسین وصول کیا۔ جب مغرب پر تاریکی اور جہالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں اس وقت مشرق سے ایک ستارہ نمودار ہوا۔ ایک روشن ستارہ جس کی روشنی سے ظلمت کدے منور ہو گئے اسلام دینِ باطل نہیں ہے۔ ہندوؤں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ وہ بھی میری طرح اس کی تعظیم کرنا سیکھ جائیں۔میں یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام بزورِ شمشیر نہیں پھیلا۔ بلکہ اس کی اشاعت کا ذمہ دار رسولِ عربی کا ایمان، ایقان، ایثار اور اوصافِ حمیدہ تھے۔
ان صفات نے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیا تھا۔ یورپی اقوام جنوبی افریقہ میں اسلام کو سرعت کے ساتھ پھیلتا دیکھ کر خوف زدہ ہیں۔ اسلام جس نے اندلس کو مہذب بنایا۔ اسلام جو مشعلِ ہدایت کو مراکو تک لے گیا۔ اسلام جس نے اخوت کا درس دیا۔جنوبی افریقہ میں یوروپی اقوام محض اس لیے ہراساں ہیں کہ وہ جاتی ہیں کہ اگر اصلی باشندوں نے اسلام قبول کر لیا تب وہ ہمسرانہ حقوق کا مطالبہ کریں گے اور لڑیں گے۔
اگر اخوت گناہ ہے تو ان کا خوف راستی پر مبنی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے۔ زولو عیسائیت قبول کرنے پر بھی عیسائی حقوق حاصل نہیں کر سکتا لیکن جونہی وہ حلقہ بگوش اسلام ہوا۔ مسلمانوں کے ساتھ اس کا رابطہ اتحاد پیدا ہو گیا۔ یورپ اس اتحادِ اسلام سے خائف ہے۔
٤۔ انیسویں صدی کا روسی مفکر اور مضمون نویس، پیوتر چاادائیو
محمدﷺ ایسے بے سود مدبرین کی نسبت لوگوں کی تعظیم کے کہیں زیادہ مستحق ہیں جو اپنی کسی بھی فکر سے انسانوں کے کسی دکھ کا علاج نہیں کر پائے اور نہ ہی کسی دل کو محکم طور پر قائل کر سکے بلکہ جنہوں نے لوگوں کو تقسیم کر دیا تاکہ وہ اپنی فطرت کے عناصر کے اتحاد سے تکلیف سہتے رہیں”۔
بلکہ ایک ہی دعا دہانِ مبارک سے نکلتی تھی۔ اے اللہ میری قوم پر رحم فرما انہیں معاف کر اسی لیے کہ یہ نہیں جانتے ہیں۔ کہ میں کون ہوں۔ اسی شفکت نے پھر انقلاب کے کیا کیا رنگ لائییں ہیں۔ وہ ہم آج اپنی آنکھوں سے بھی دیکھتے ہیں۔ حتٰی کہ غیر مسلم لوگ بھی مجبور ہوگئیے اور انہیں یہ کہنا پڑا کہ اگر دنیا میں کسی انسان نے انقلاب لایا وہ بس محمد ﷺ ہے۔ یہ ہے شبِ تاریک کا روشن چراغ ۔ جس کی روشنی دن بہ دن دور دور تک پھیلتی رہتی ہے۔ اور کتنے انسان فیضیاب ہوتے جارہیے ہیں۔ لہٰزا ہمیں بھی چاہیے کہ اسی چراغِ حق کے شچے پروانے بن کر اس کے عشق میں جل جائییں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

حضرت محمد ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں


طارق منور

ہر دور یا ہر زمانے کی تاریکی یعنی جہالت ، ظلم ، رسم ، بدعت اور رواج کو ختم کرنے کے لیے ربِ کریم نے ایک سے بڑ کر ایک صاحبِ علم ، مربی ، رہبر و رہنما مبعوث کیں ہیں۔ تاکہ ابنِ آدم ، آدم کے خدا کی زمین پر خدا کے احکام بجا لانے کے ساتھ ساتھ کسی کمزور پر ظلم و جبر نا کریں۔ کسی یتیم ، مسیکن، غریب اور نادار و مفلس کا حق زبردستی اور قوتِ بازو سے ہڑپ نا کرنا، راہ سے گزرنے والی صنفِ نازک کی عزت و آبرو کے خزانے پر ڈاکہ نا ڈالنا۔ میکدوں میں شراب کے قطروں سے ہوس کی تشنگی دور نا کرنا۔ اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے ہوئيں پتھروں کے آگے نا جک جانا۔ بس ایک خدا کی عبادت کرنا اور اسے کے آگے سجدے کرنا اور ہاتھ بھی ہر دم پھیلانا ۔ مطلب خدا کی زمین پر خدا کے تمام فرائیض وقتِ مربی و معلم کے بتائے ہوئے نقشہ پر انجام لانا۔ یہی امور زہن نشین کرانے اور سمجھانے کے لیے اللہ تعالی نے آدم علیہ سلام سے لیکر آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ تک کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار بے مثال پیغمبر بھیجے ہیں۔ تواریخ کے بدن کے ہر ہر عضو پر لکھا گیا ہے۔ کہ ہر قوم کی جہالت ، ظلمت اور بد اخلاقی ، بد کرداری اور بد گفتاری کو کس طرح علم و حکمت کے ساتھ وقت کے رہبرِ حقوں نے بدل کے رکھا دیا۔ اور قوم کی تقدیر ہی بدل ڈالی۔ لمبی لمبی راتوں کالی اندھیریوں میں علم و اخلاق، محبت و اخوت ، غمخواری و غم گساری اور دل جوئیی و دلبری ، احساس و ہمدردی کے دیپ روشن کیں ہیں۔ اور ایک خوبصورت معاشرے کا نقشہ کھنیچ کر آئیندہ اقوام کے لیے طرزِ زیست بھی رقم کی ہے۔ منزہ اور با برکت ام الکتاب قرآنِ کریم میں کتنے واقعات ہیں۔ جن سے پتہ چل جاتا ہے۔ کہ قوم کی بہتری کے لیے اللہ تعالی نے کیسے برگزیدہ انسان پیدا کیے ہے۔ جیسے کہ آدمِ ثانی حضرت نوح علیہ سلام نے کس طرح اپنی قوم کو شرک و بدعت اور برائیوں سے روکنے کی جد و جہد کی صبح و شام گھر گھر اور فرد فرد کے پاس گے۔ ان کو سمجھایا سکھایا کہ ہمارا پالنے والا بنانے والا اور کون ہے ہمارا معبود ۔ پھر جس نے انکی صحبت کو اختیار کیا وہی روشنی کی دنیا میں آباد ہوئيں اور جنہوں نے انکار کیا برائیوں کی دلدل سے نکلنے کا نام تک نہیں لیا۔ وہ عذاب کے اندھیریوں میں کھوگئے۔ ایسے درجنوں قصے ہیں قرآنِ مجید میں۔۔ کہ ہر دور میں ہر مربی نے کس محنت اور لگن سے اپنے قوم کو تربیت کی۔ ظلم و ستم جھیلے مگر شبِ ظلمت کے پردے جلا کے رکھ دیے۔ خدا کی طرف سے لوگوں کے لیے بیجھا ہوا رہبر ، بہت ہی نرم طبعت ، گدازِ دل، پیکرِ اخلاق ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے ان کے دل کو قلزم سے بھی وسیع کیا ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم جب تواریخ پڑھتے ہیں۔ تو یہی دیکھتے ہیں۔ کہ کبھی کسی قوم نے اپنے پیغمبر پر پتھر برساے، کبھی تہمتیں دے دی ، کبھی طعانہ زنی کی ، کھبی ان کے اہل و عیال کو پریشان کردیا اور کبھی کسی پیغمبر کو شہید کردیا۔ چنانچہ ایک قوم نے اپنے رہبر و رہنما کو آرے سے چیر دیا ۔ مگر تربیت کا سلسلہ پھر بھی جاری و ساری رہا ۔پے در ہے رہبر و رہنما برگزیدہ انسانوں کا نزول ہوتا رہا۔ اور آخر میں مکمل و اکمل ، اجمل و اطھر ، معلم و مربی اور روف و رحیم ، درِ یتیم پوری کائینات کا ھٰدی محمدِ عربی ﷺ آئے۔ ایسا خوش نما اور لا زوال علم و خلاق کا چراغ ، نہ پہلے کبھی ایسا آیا تھا اور نا ہی بعد میں کوئیی آسکھے گا۔ عرصے دراز کی تاریکی کا دم توڑ کر نا جانے کتنے پتھروں کی تقدیر بدل ڈالی۔ شاہد ہی کوئیی بنی آدم ہوگا جسے یہ نہیں معلوم ہو کہ سر زمین عرب پر سرکارِ دو عالم ﷺ سے پہلے کس مقام کی جہالت اور ظلمت تھی۔ خون ریزی ، بدکاری شراب نوشی ، جوا بازی ، کسی کا مال لوٹنا ، راہ گزر کو تنگ کرنا ، ان سب بد افعالوں میں ملوث تھیں۔ اچھا حیرت کن بات یہ ہے کہ باپ اپنی زندہ بیٹی کو دفناتے تھے۔ کس قدر گر گیں تھیں۔ جانور نما انسان ۔۔۔۔۔۔۔۔ قسم بخدا بدن لرزتا ہے، جسم کے عضو عضو پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ دل میں دردوں کی قیامت برپا ہوتی ہے۔ اور آنکھوں سے اشکوں کا قافلہ رواں ہوجاتا ہے۔ کہ کیا واقعی ایسے بھی انسان تھے۔ ایک باپ کو اپنے بیٹی سے کس حد کی محبت ہوتی ہے۔ سب صاحبِ اولاد جانتے ہوں گیں۔ مگر چودہ سو سال پہلے بیٹی کا باپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدایا عفو کر۔ یہ کس درجے کی جہالت تھی ۔ کتنی عمیق تاریکیوں کے سمندر میں ان لوگوں کا ضمیر ڈوب گیا تھا۔ کہا جاتا ہے۔ کہ معمولی سے بات پر دو قبیلے آپس میں سال ہا سال جنگ و جدل لڑتے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے بڑے اپنی نسل کو وصیت کرتے تھے کہ میرا انتقام آپ لے لینا ضرور۔ تواریخ میں لکھا ہے۔ کہ درجنوں لوگوں کی موت ہوجاتی تھی۔ مگر جنگ کا آلاو پھر بھی بجھنےکا نام نہیں لتا تھا۔ اس زمانے کے جوان بھی وحشی جانوروں سے کم نہیں تھے ۔ جو چو راہی پر رات دن بے ہودہ مستیوں میں مگن رہتے تھے۔ سامنے سے اگر کوئیی حاملہ عورت گزر رہی ہوتی۔ تو یہ آپس میں شرط لگاتے تھے ۔ایک کہتا تھا اسکا ہونے والا جو بچہ ہوگا وہ نر ہوگا اور دوسرا بڑے غرور میں کہہ اٹھتا نہیں۔ مد ہوگی۔ ہائے ! دل بہت رنجیدہ ہوجاتا ہے۔ کہ یہ درندے اس کا پیٹ چاک کرتے تھے اور پھر جھوٹ اور شچ کا حساب کرتے تھے۔ ہیبت طاری ہوجاتی ہے کہ یہ انسان ہی تھے یا کچھ اور۔
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد ﷺسے اجالا کر دے
مگر حجاز کے ریگزار کا دانہ دانہ، نخلستان کے درختوں کے پتے پتے، بحرِ قلزم کا قطرہ قطرہ ، جبلِ احد اور طائیف کے پہاڑ کا ایک ایک سنگ ، آسمان کے چھوٹے بڑے تارے ، سارے فرشتے اور سارے جنات بھی، تواریخ کے اوراقوں پر ایک ایک حرف چیکھ چیکھ کر پکارتے ہیں۔ کہ ہم نے محمد ﷺ جیسا مربی ، رہبر و رہنما کبھی نہیں دیکھا ہے۔۔ جو اتنی گڈن ، فکر اور غم اپنے مبارک دل میں لیے در در اور گھر گھر پھیر رہے ہیں۔ جسے اپنے قوم کی حالتِ زار چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی۔ اسی لیے شام و سحر اور لیل و نہار ایک ایک فرد کو نرم لہجہ اور شفکت کے ساتھ سمجھا رہے تھے۔ کہ ہم کو کس نے پیدا کیا۔ ہمہیں کیا مقصدِ حیات ہے۔ معاشرے میں کس طرح کی زندگی بسانی ہے۔ ماں باپ کا درجہ کیا ہے۔ میاں بیوی کے حقوق کیا ہے۔ اولاد کی تربیت کس طرح سے کرنی ہے۔ ہمسایہ سے کیا سلوک برتنا ہے۔ کسی یتیم ، مفلس ، نادار اور غریب کے ساتھ کس مقام کی ہمدردی کرنی چاہیے۔ یہی تربیت کے رموز عرب کے لوگوں کو سکھاتے سکھاتے آپ نے کتنے تکالیف اُٹھائییں ۔ چشمِ فلک آنسوں بہا بہا کے ، جبلِ نور ، جبلِ احد اور طائیف کا ایک ایک سنگ لڑکھڑاتی زبان سے کہہ رہے ہیں۔ کہ ہم سے نہ پوچھو پھر وہ مناظر کی داستان شاید یہ نحیف و نازک کلیجے پھٹ جائیں گیں۔ مگر ایک عظیم انسان کا دل بھی کریم و رحیم ہوتا ہے۔ کیوں کہ جسے تاریکی کے راستے منور کرنے ہوتے ہے۔ جسے چمن کے گلوں کو سینچنا ہوتا ہے۔ وہ شش جہات کے ظلم و ستم پر صبر و تحمل کر کے خدا سے اپنی قوم کی بہتری چاہتا ہے۔ اور رسولِ اکرم سے بڑ کر کوئیی دوسری ذات اب تک اٹھی ہی نہیں اور یقیقناً اٹھ بھی نہیں سکتی۔ جو ان تمام اوصافوں سے مالا مال ہو ۔ جس نے کم عمر میں اتنا بڑا انقلاب لایا ہو۔ یہ وہ روشن چراغِ حق ہے کہ جس کے فیض سے اور طفیل سے بجھے ہوئيں دیے بھی فیضاب ہوگئے۔ پھر وہ زمانے کے صدیق ٹھہرے ، عدل کی شہنشاہی کرنے والے بنے، حیا کے مراکز بن گئیے ۔ شہرِ علم کے باب بھی ٹہھرے ۔ اور نا جانے کیا کیا۔ مگر جب حقیقت پر نظر ڈالتے ہے۔ تو بس ایک عظیم کامل بشر کی محنت ، لگن ، کڈن اور فکر نظر آرہی ہے۔ جس نے تمام قسم کے کرب و درد پر اُف تک نہ کیا اور مخالف لوگوں کے دیے ہوئے ایذاوں پر نا گلہ کیا نا شکوہ۔ ایسے اخلاق والے ہے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ بلکہ اگر دیکھا جائے اسکا اعتراف غیر مسلم دانشورں نے بھی جابجا کیا ہے جیسے کہ ۔۔۔
١۔ برطانوی ادیب جارج برنارڈ شاء کہتے ہے۔
میں نے محمد ﷺکے مذہب کی، حیران کن استقامت کی بنا پر ہمیشہ تعظیم کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ وہ واحد مذہب ہے جس میں گہرائی ہے اور یہی چیز لوگوں کے لیے دلکش ثابت ہوئی ہے۔ میں محمد ﷺکے مذہب کے بارے میں پیشین گوئی کرنا چاہتا ہوں کہ آج جسے یورپ کہتے ہیں وہاں یہ مانا جانے لگے گا۔ قرون وسطٰی میں نفرت یا تصورات کی بنا پر اسلام کو روشنی سے اندھیرے میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی تھی۔ انہیں انسانیت کے لیے نجات دہندہ کہا جا سکتا ہے۔ مجھے یقین ہےکہ اگر آج کی دنیا کی قیادت کرنے کے لیے کوئی ایسا شخص ہوتا جیسے وہ تھے تو وہ تمام عالمی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو جاتا اور ہم بالآخر خوش بختی اور اتقاق کی فضا میں زندگی بسر کر رہے ہوتے جس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ انیسویں صدی کے کارلائل اور گوئٹے جیسے مفکرین نے محمد کے مذہب کی قابل ذکر اقدار کو تسلیم کیا تھا اور آج بہت سے لوگ اس مذہب کو گلے لگا چکے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ یورپ کے معاشرے پر اسلام کے غلبے کا آغاز ہو چکا ہے۔
٢۔ نپولین بونا پارٹ۔۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم امن اور سلامتی کے ایک عظیم شہزادہ تھے۔ آپ نے اپنی عظیم شخصیت سے اپنے فدائیوں کو اپنے گرد جمع کیا۔ صرف چند سالوں میں مسلمانوں نے آدھی دنیا فتح کر لی۔ جھوٹے خداؤں کے پجاریوں کو مسلمانوں نے اسلام کا حلقہ بگوش بنا لیا۔ بت پرستی کا خاتمہ کر دیا۔ کفار اور مشرکین کے بت کدوں کو پندرہ سال کے عرصے میں ختم کر کے رکھ دیا۔ موسی علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام کے پیروؤں کو بھی اتنی سعادت حاصل نہ ہو سکی۔ یہ حقیقت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہت بڑے اور عظیم انسان تھے۔ اس قدر عظیم انقلاب کے بعد اگر کوئی دوسرا ہوتا تو خدائی کا دعویٰ کر دیتا
٣۔ مہاتما گاندھی جی۔۔
اسلام اپنے انتہائی عروج کے زمانے میں تعصب اور ہٹ دھرمی سے پاک تھا، دنیا سے خراج تحسین وصول کیا۔ جب مغرب پر تاریکی اور جہالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں اس وقت مشرق سے ایک ستارہ نمودار ہوا۔ ایک روشن ستارہ جس کی روشنی سے ظلمت کدے منور ہو گئے اسلام دینِ باطل نہیں ہے۔ ہندوؤں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ وہ بھی میری طرح اس کی تعظیم کرنا سیکھ جائیں۔میں یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام بزورِ شمشیر نہیں پھیلا۔ بلکہ اس کی اشاعت کا ذمہ دار رسولِ عربی کا ایمان، ایقان، ایثار اور اوصافِ حمیدہ تھے۔
ان صفات نے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیا تھا۔ یورپی اقوام جنوبی افریقہ میں اسلام کو سرعت کے ساتھ پھیلتا دیکھ کر خوف زدہ ہیں۔ اسلام جس نے اندلس کو مہذب بنایا۔ اسلام جو مشعلِ ہدایت کو مراکو تک لے گیا۔ اسلام جس نے اخوت کا درس دیا۔جنوبی افریقہ میں یوروپی اقوام محض اس لیے ہراساں ہیں کہ وہ جاتی ہیں کہ اگر اصلی باشندوں نے اسلام قبول کر لیا تب وہ ہمسرانہ حقوق کا مطالبہ کریں گے اور لڑیں گے۔
اگر اخوت گناہ ہے تو ان کا خوف راستی پر مبنی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے۔ زولو عیسائیت قبول کرنے پر بھی عیسائی حقوق حاصل نہیں کر سکتا لیکن جونہی وہ حلقہ بگوش اسلام ہوا۔ مسلمانوں کے ساتھ اس کا رابطہ اتحاد پیدا ہو گیا۔ یورپ اس اتحادِ اسلام سے خائف ہے۔
٤۔ انیسویں صدی کا روسی مفکر اور مضمون نویس، پیوتر چاادائیو
محمدﷺ ایسے بے سود مدبرین کی نسبت لوگوں کی تعظیم کے کہیں زیادہ مستحق ہیں جو اپنی کسی بھی فکر سے انسانوں کے کسی دکھ کا علاج نہیں کر پائے اور نہ ہی کسی دل کو محکم طور پر قائل کر سکے بلکہ جنہوں نے لوگوں کو تقسیم کر دیا تاکہ وہ اپنی فطرت کے عناصر کے اتحاد سے تکلیف سہتے رہیں”۔
بلکہ ایک ہی دعا دہانِ مبارک سے نکلتی تھی۔ اے اللہ میری قوم پر رحم فرما انہیں معاف کر اسی لیے کہ یہ نہیں جانتے ہیں۔ کہ میں کون ہوں۔ اسی شفکت نے پھر انقلاب کے کیا کیا رنگ لائییں ہیں۔ وہ ہم آج اپنی آنکھوں سے بھی دیکھتے ہیں۔ حتٰی کہ غیر مسلم لوگ بھی مجبور ہوگئیے اور انہیں یہ کہنا پڑا کہ اگر دنیا میں کسی انسان نے انقلاب لایا وہ بس محمد ﷺ ہے۔ یہ ہے شبِ تاریک کا روشن چراغ ۔ جس کی روشنی دن بہ دن دور دور تک پھیلتی رہتی ہے۔ اور کتنے انسان فیضیاب ہوتے جارہیے ہیں۔ لہٰزا ہمیں بھی چاہیے کہ اسی چراغِ حق کے شچے پروانے بن کر اس کے عشق میں جل جائییں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں