بلال احمد پرے
ترال، کشمیر
مانسبل میں واقع وُلر جِھیل کے بعد جھیل ڈل ریاست جموں و کشمیر کی دوسری بڑی اور پہلی فرش واٹر جِھیل مانی جاتی ہے ۔ یہ دنیا کے مشہور و معروف جِھیلوں میں سے شمار ہوتی ہے ۔ اللہ تعالٰی نے اس سے مشرق کی جانب زبرون کی کوہساروں سے گھیر رکھا ہے جس سے اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگ گئی ہے ۔ اس جھیل کی لمبائی تقریباً44.7 کلو میٹر، چوڑائی5.3کلو میٹر اور گہرائی7.4فٹ ہے ۔ یہ جھیل کل ملا کر تقریباً 25 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے ۔ چند سالوں سے اس جھیل کو دلہن کی طرح مختلف رنگوں کے فواروں سے سجایا گیا ہے ۔
اس جھیل میں واقع ہاؤس بوٹس نہ صرف سیاحوں کے لیے بہترین آرام گاہ ثابت ہوتے ہیں بلکہ اس میں تیرنے والے شکارے بھی اپنی خوبصورتی میں بے مثال ہیں ۔ جو سیاحوں کے علاوہ فلموں کے ساتھ وابستہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہیں ۔ مشہور و معروف سیریل گل، گلشن گلفام اور مشن کشمیر جیسی فلم کی شوٹنگ بھی اسی جھیل میں فلمائی گئی ہے ۔ سری نگر کا مشہور شہر اسی ڈل کے کنارے آباد ہے ۔ یہ ڈل نہ صرف دنیا کی چند ممتاز سیرگاہوں میں شمار ہوتی ہے ۔ بلکہ وادی کشمیر کی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگا دیتی ہے ۔
کھیلو انڈیا واٹر اسپورٹس فیسٹیول – 2025 بھی وادی کشمیر کی اسی خوبصورت جھیل ڈل میں منعقد ہوئی ۔ یہ پہلا سہ روزہ واٹر اسپورٹس 21 اگست تا 23 اگست جھیل ڈل کے اندر قومی سطح پر کھیلا گیا ۔ جو بحسن خوبی 23 اگست کو اختتام پذیر ہوا ۔ اس طرح کے فیسٹیول انعقاد کرنے سے نہ صرف جوانوں میں آبی کھیل کود کی طرف دلچسپی پیدا کیں جائے گی بلکہ پہلگام حادثہ کے بعد سیاحت کو جو دھچکا لگا تھا وہ بھی دور ہو جائے گا ۔ مزید لوکل سطح پر معاشی حالت بھی مستحکم ہو سکتی ہے ۔
ان کھیلوں میں شرکت کرنے کے لیے ہندوستان کی تقریباً تمام ریاستوں اور یہ تیز سے کھلاڑیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ اس فیسٹیول میں تقریباً 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 500 سے زیادہ کھلاڑیوں نے Rowing Kayaking اور Canoeing جیسی آبی کھیلوں کے مقابلہ آرائی کرنے کے لیے اپنی ہنر آزمائی کیں ہے ۔
شہر سرینگر کے شیر کشمیر بین الاقوامی کنونشن مرکز (SKICC) میں افتتاحی تقریب میں نوجوانوں کے امور کی وزیر مملکت شریمتی رکشا نکھل اور لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا جی نے مہمانِ خصوصی کے طور پر جبکہ وزیر اعلیٰ شری عمر عبداللہ جی اور جموں و کشمیر کے کھیل کود کے وزیر شری ستیش شرما جی نے مہمانِ اعزازی کے طور پر شرکت کی ۔
اس طرح سے یہ جھیل دنیا بھر میں اس خطے کی پہچان بن کر ابھر گئی ہے ۔ اور یہ عالمی شہرت یافتہ جھیل، کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں اور مقامی لوگوں کی چہل پہل سے دوبارہ کِھل اٹھی ۔ ہمارے یہاں یہ جھیل آبی کھیل کود کا مرکز بن گئی ہے ۔ جس میں مختلف کھلاڑیوں نے اپنے جوہر دکھا کر شائقین کی داد حاصل کیں ہے ۔ اور اختتام پر بہترین کار کردگی دکھانے والوں کو سونے اور چاندی کے تمغوں کے ساتھ ساتھ اسناد سے بھی نوازا گیا ہے ۔
واٹر اسپورٹس فیسٹول کا یہ پروگرام بھارت کی کھیل کود کی اتھارٹی اور جموں و کشمیر اسپورٹ کونسل کے اشتراک سے منعقد ہوا ۔ یہ کھیل کود مقابلے جہاں جموں و کشمیر کی ثقافت اور ماحولیات کی تقریبات منانے کے طور پر منعقد کئے جا رہے ہیں ۔ وہی اس کے انعقاد سے امن و سلامتی اور بھائی چارگی کا پیغام دور دور تک گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ملک کی بیرونی ریاستوں اور دیگر بیرونی ملکوں سے آنے والے سیاحوں میں بھی مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا ۔ جو واقعی خوش آئند قدم ہے ۔
زمین پر کھیلی جانے والی کھیلوں کے بہ نسبت آبی زخائر کی کھیلیں (water sports) بڑی ہی سخت، مشکل ترین، آزما طلب، اور انتہائی حساس قسم کی ہوتی ہے ۔ جہاں کھلاڑیوں کو پانی کی لہروں پہ کھیلتے ہوئے خطروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ معمولی سی لاپرواہی ہونے پر کھلاڑی کی جان بھی جا سکتی ہے ۔ بہت ہی کم لوگ ایسے کھیلوں اور کھلاڑیوں کے بارے میں جانتے ہوں گے جنہوں نے مختلف آبی کھیلوں کا مظاہرہ کر کے ریاست جموں و کشمیر کا نام روشن کیا ہو ۔ اس فیسٹیول کے دوران کیاکنگ، سکییگ، کینوینگ، سرفنگ، تیراکی، بوٹ رولنگ، ڈیمبو بوٹ ریس وغیرہ جیسی مختلف کھیلوں کا مظاہرہ کیا گیا ہے ۔
ہمارے یہاں آبی زخائر کے کھیل کود کو سنہ ۱۹۹۹ء میں نہرو پارک کے مقام پر باضابطہ طور سرکاری سطح پر آغاز کیا گیا تھا ۔ اور تب سے جھیلِ ڈل کے اندر روایتی انداز میں آبی کھیلوں کے انعقاد کے لئے ایک خصوصی جشن ڈل منایا جاتا ہے ۔ جس میں مختلف قسم کی آبی زخائر پر کھیلی جانے والی کھیل کود کا مظاہرہ کر کے شائقین کے دلوں کو محظوظ کیا جاتا ہے –
ان کھیلوں میں مزید ہنر بڑھانے کے لئے نہرو پارک کے مقام پر سرکاری سطح پر واٹر اسپورٹس سنٹر بارث وجود میں لایا گیا ہے جس کی بدولت یہاں کے نوجوانوں کو مختلف قسم کی آبی کھیلوں میں تربیت دی جا رہی ہے اور ان کے اندر موجود غیر معمولی صلاحیت کو نکھارا جا رہا ہے ۔ کھیل کود کے زریعے ہی نوجوانوں کے اندر غیر معمولی صلاحیت کو مثبت انداز میں بروئے کار ( channelize ) لایا جا سکتا ہے ۔ تاکہ وہ منشیات جیسی لت سے بھی دور رہیں ۔
دیکھا جائے تو اس وقت سرکاری سطح پر کھلاڑیوں کو قومی و بین الاقوامی سطح تک لے جایا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے اندر موجود صلاحیتوں کا مظاہرہ ایک بڑے پلیٹ فارم پر دِکھا سکیں – اس ضمن میں ایک واضح اسپورٹس پالیسی کے ساتھ واٹر اسپورٹس اکیڈمی کی ضرورت ہے جہاں پر ہمارے یہاں کے کھلاڑیوں کے اندر موجود ہنر کو بہترین کوچوں کے زریعے تیز تر کیا جائے – تاکہ اولمپک کا خواب بہت جلد شرمندہ تعبیر ہو سکے – اس طرح کی کھیل کود کے انعقاد کے زریعے جھیلِ ڈل جیسی آبی زخائر کو مزید سکڑنے سے بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے –
واٹر اسپورٹس کے ساتھ اگر محترمہ بلقیس میر کی ذکر نہ کی جائے تو یہ غیر منصفانہ اور یک طرفہ مضمون ہوگا – محترمہ بلقیس میر ریاست جموں و کشمیر کی پہلی ہونہار نوجوان خاتون کھلاڑی ہے جس نے آبی کھیلوں میں ہندوستان کی نمائندگی کی ہے – آپ جموں و کشمیر یو ٹی کی پہلی خاتون ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر آبی کھیلوں میں بحثیت جج کے طور پر اپنی فرائض منصبی سر انجام دی ہے – آپ نے کینوئنگ (Canoeing) میں بین الاقوامی سطح پر بحثیت کوچ کے طور پر بھی اپنی ناقابل فراموش ذمہ داریاں انجام دی ہے۔
محترمہ بلقیس میر نے سنہ 1999ء میں اسی جھیل سے کینوءگ (Canoeing) جیسی کھیل میں اپنے کیریئر کا آغاز بڑے جوش و جذبے کے ساتھ کیا اور مسلسل اس کھیل کود میں کامیابی کی سیڑھیاں طے کرتی چلی جا رہی ہے ۔ غیر معمولی صلاحیتوں کی بنیاد پر ہی ان کو مختلف اوقات میں کئی تمغوں و اعزازات سے نوازا بھی گیا ہے ۔
ریاست جموں و کشمیر میں آبی زخائر کے کھیل کود کو بڑھاوا دینے کا سہرا بھی آپ کے ہی سر جاتا ہے جس نے اپنی غیر معمولی کاوش اور جستجو کے بدولت ان کھیلوں کو نہ صرف ریاستی سطح پر بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح تک پہچان دلا دی ہے – آپ کی اس محنت کی وجہ سے ہی آج وادی کشمیر سے ہمیں آبی زخائر کے ایسے ہونہار کھلاڑی سامنے آگئے ہیں جنہوں نے ریاستی سطح پر ہی نہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ریاست کا نام روشن کیا ہے ۔ بلقیس میر جیسی قومی کوچ کی انتھک کوششوں سے ہی جموں و کشمیر میں واٹر اسپورٹس کے میدان میں اب تک چھ بین الاقوامی کھلاڑی پیدا ہوئے ہیں –
حالانکہ کرکٹ، فٹ بال، ہاکی و دیگر کھیلوں کے ہمراہ آبی ذخائر کے کھیل کود میں بھی کھلاڑیوں کو بہترین مواقع میسر ہو رہے ہیں – جہاں اس کھیل کود میں دلچسپی اور شوق و ذوق رکھنے والوں کے لئے بہت ہی کم مقابلہ جات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہی یہ آبی کھیل کسی خطرے سے خالی نہیں – اکثر لوگوں کو کشتی پر بیٹھتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہونی شروع ہو جاتی ہے، ٹانگیں ڈگمگاتی ہے ، پورا جسم کانپنے لگتا ہے اور چکر آنے لگتا ہے ۔ اس طرح کے اقدامات سے کھلاڑیوں کو اپنے کھیل کا مظاہرہ کرنے کا ایک نادر موقع فراہم ہوا ہے اور مستقبل کی نمائندگی کے لیے ہونہار کھلاڑی بھی ابھر کر سامنے آئے ہیں ۔ جن میں نہ صرف لڑکے شامل ہیں بلکہ لڑکیاں بھی خوب دلچسپی دکھا رہی ہے ۔ جو دوسری لڑکیوں کے لئے inspiration بن چکی ہے ۔
اس وقت نوجوانوں میں منشیات کی بڑھتی ہوئی وباء کو صرف کھیل کود کو فروغ دینے سے ہی روکا جا سکتا ہے ۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ واٹر اسپورٹس کو شہری علاقوں سے باہر نکل کر دیہی علاقوں میں دور دراز رہنے والے ہونہار بچوں میں بھی آبی کھیل کود کی طرف دلچسپی پیدا کیں جائیں ۔ اور ایسے بچوں میں بھی ان کھیلوں کے متعلق اپنی غیر معمولی کارگردگی دِکھانے کا موقع فراہم کیا جائے ۔ اس طرح اس کھیل کو شہری و دیہی علاقوں کے بچوں کا سنگم بنایا جائے تاکہ ایک ساتھ مل کر ان کی ذہنی و جسمانی نشو و نما ممکن ہو سکیں ۔
الغرض آبی کھیل کود بھی دوسری کھیلوں سے کم نہیں جہاں کھلاڑی اپنی منفرد پہچان، مقام و مرتبہ حاصل کر سکتے ہیں ۔ آبی ذخائر کی کھیلیں، مستقبل میں سب سے زیادہ ابھرنے والی کھیلیں ہیں جہاں کھلاڑیوں کے سامنے ایک تابناک روشن عیاں ہے ۔


