نور الحسن پسوال زاجی کھوڑ ترال
عورت کی زندگی کو قدرت نے ایسے نازک توازن پر قائم کیا ہے کہ معمولی سی خرابی بھی اس کی جسمانی اور ذہنی کیفیت کو یکسر بدل دیتی ہے۔ انہی خرابیوں میں ایک بڑھتی ہوئی بیماری ہے جسے PCOD کہا جاتا ہے۔ Polycystic Ovarian Disease کا نام سنتے ہی ایک پیچیدہ مرض کا تصور ذہن میں آتا ہے، اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ بیماری عورت کی زندگی کے کئی پہلوؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ آج یہ مرض دنیا بھر کی لاکھوں خواتین کو متاثر کر رہا ہے، اور بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔
دراصل PCOD بیضہ دانی کے اس عمل میں رکاوٹ کا نام ہے جس کے ذریعے ہر مہینے انڈے تیار ہو کر خارج ہوتے ہیں۔ جب ہارمونز کا توازن بگڑتا ہے تو انڈے صحیح طرح نشوونما نہیں پاتے، اور بیضہ دانی میں چھوٹے چھوٹے Cysts جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ کیفیت عورت کے نظامِ تولید کو متاثر کر دیتی ہے، جس کا سب سے پہلا اثر ماہواری کے نظام میں بے قاعدگی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ کبھی مہینے بھر پیریڈز نہیں آتے، کبھی مسلسل آ جاتے ہیں، اور کبھی ان کی مقدار اور وقت بالکل بگڑ جاتا ہے۔ اس بے ترتیبی کے ساتھ چہرے پر دانے نکلنا، وزن بڑھنا، بالوں کا گرنا، جلد پر داغ دھبے پڑنا اور جسم کے ان حصوں پر بال اُگ آنا جہاں عام حالات میں نہیں ہوتے۔۔۔ یہ سب علامات PCOD کو ظاہر کرتی ہیں۔
یہ سوال ہر عورت کے ذہن میں اٹھتا ہے کہ آخر یہ بیماری پیدا کیوں ہوتی ہے؟ اس کا جواب ہماری روزمرہ زندگی کے معمولات میں چھپا ہوا ہے۔ سب سے پہلی وجہ ہے غیر متوازن خوراک۔ آج ہماری غذاؤں پر Junk Food نے قبضہ کر لیا ہے۔ پیزا، برگر، فرنچ فرائز، کولڈ ڈرنکس، پیسٹریز اور تلی ہوئی اشیاء ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ یہ وقتی ذائقہ تو دیتی ہیں لیکن اندر ہی اندر ہارمونل سسٹم کو بگاڑ دیتی ہیں۔ دوسری بڑی وجہ ہے موٹاپا۔ جب جسم میں چربی بڑھتی ہے تو انسولین کا نظام متاثر ہوتا ہے، اور یہی خرابی PCOD کو جنم دیتی ہے۔ Stress یعنی ذہنی دباؤ بھی اس بیماری کی جڑوں میں چھپا ہے۔ دن رات کی بے سکونی، نیند کی کمی اور پریشان کن حالات عورت کے جسم کے اندر ہارمونز کو غیر متوازن کر دیتے ہیں۔ Lack of Exercise بھی ایک بڑا سبب ہے کیونکہ جسمانی حرکت نہ ہونے سے میٹابولزم کمزور ہو جاتا ہے۔ اور اگر خاندان میں پہلے سے یہ مرض موجود رہا ہو تو اس کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
بظاہر لگتا ہے کہ یہ کوئی عام سا طبی مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ PCOD عورت کی زندگی کا ایک کڑا امتحان ہے۔ یہ مرض نہ صرف اس کے جسمانی حسن کو متاثر کرتا ہے بلکہ ازدواجی زندگی کو بھی مشکل بنا دیتا ہے۔ سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ PCOD بانجھ پن کا باعث بن سکتا ہے۔ جو عورتیں ماں بننے کے خواب دیکھتی ہیں، ان کے لیے یہ بیماری ایک ڈراؤنا خواب بن جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مرض آگے چل کر ڈائیبیٹیز، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور ہارٹ ڈیزیز جیسے امراض کے لیے راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ یوں ایک بیماری کئی اور بڑی بیماریوں کی ماں بن جاتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟ خوش آئند بات یہ ہے کہ PCOD ناقابلِ علاج بیماری نہیں۔ اگر عورت اپنی زندگی کے معمولات میں چند تبدیلیاں کر لے تو اس مرض سے نجات ممکن ہے۔ Balanced Diet سب سے پہلا قدم ہے۔ سبزیاں، موسمی پھل، دالیں اور پروٹین والی غذا جیسے انڈے، مچھلی اور دالیں خوراک کا حصہ بنانی چاہئیں۔ Junk Food کو اگر بالکل زندگی سے نکال دیا جائے تو سب سے بہتر ہے۔ روزانہ کم از کم آدھے گھنٹے کی ایکسرسائز یا تیز چہل قدمی کو معمول بنایا جائے تاکہ جسم کی توانائی برقرار رہے۔ Meditation، Yoga اور Sound Sleep کے ذریعے اسٹریس کو کم کیا جائے، کیونکہ ذہنی سکون جسمانی صحت کی بنیاد ہے۔ وزن کو قابو میں رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ PCOD کی سب سے بڑی دشمن وہی کھانے ہیں جنہیں ہم سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ یعنی پیزا، برگر، فرائیڈ چکن، کولڈ ڈرنکس، چپس، پیسٹریز اور زیادہ شوگر والی اشیاء۔ یہ سب کھانے وقتی خوشی ضرور دیتے ہیں، مگر اندر ہی اندر عورت کے جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ دوسری طرف قدرتی اور سادہ غذائیں جیسے پھل، سبزیاں، سلاد اور دالیں نہ صرف جسم کو صحت مند رکھتی ہیں بلکہ ہارمونز کے توازن کو بھی برقرار رکھتی ہیں۔
یاد رکھیے، PCOD کا علاج دوا سے زیادہ ڈسپلن میں ہے۔ جو عورت اپنے طرزِ زندگی کو درست کر لے، وہ نہ صرف اس بیماری سے بچ سکتی ہے بلکہ اگر متاثر ہو تو بھی اپنی حالت کو بہتر بنا سکتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں خواتین عموماً اپنی صحت کو نظرانداز کر دیتی ہیں۔ مگر یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ایک عورت کی صحت پورے خاندان کی صحت ہے۔ اگر عورت بیمار ہوگی تو آنے والی نسلیں بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گی۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ PCOD کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ عورت کی زندگی کے توازن کو بگاڑ دینے والی بیماری ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ خواتین اس کے بارے میں آگاہ ہوں، اپنی زندگی کے معمولات پر نظر رکھیں اور وقت پر علاج کروائیں۔ صحت ہی اصل دولت ہے، اور عورت کی صحت دراصل ایک پورے معاشرے کی خوشحالی ہے۔
٭٭٭


