ریاستی درجہ، ’اب تیرے درد کا درماں نہیں‘

رشید پروین
سوپور، کشمیر

۱۵ اگست ۲۰۲۵ کو یومِ آزادی ہند کے موقعے پر بخشی اسٹیڈیم میں محترم عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’این سی‘‘ آئندہ آٹھ ہفتوں میں جموں و کشمیر میں ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق ایک دستخطی مہم شروع کرے گی۔ دستخطی مہم کا مطلب یہ ہے کہ عوام کے دستخط اس حق میں لئے جائیں کہ وہ ریاستی درجے کی بحالی چاہتے ہیں۔ یہ حیران کن اور تعجب خیز بات ہے اور اسی قدر المناک بھی۔
۳۵ اے اور ۳۷۰ (جو کبھی خواب تھا، جو کبھی افسانہ تھا) جموں و کشمیر کی اصل روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی ہے۔ اب یہ ’’سٹیٹ ہڈ‘‘ شب گزیدہ، کس کس بیماری کا علاج ہو سکتا ہے؟ کچھ پتہ نہیں۔ لیکن عمر عبداللہ اس سٹیٹ ہڈ کی تلاش میں کس کس صحرا میں بھٹک رہے ہیں اور کشمیری عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے سارے خواب، آرزوئیں اور جستجوئیں سٹیٹ ہڈ میں محفوظ ہیں۔
عمر کو کسی نئے ریفرنڈم اور دستخطی مہم کی ضرورت نہیں کیونکہ عوام نے انتخابات میں انہیں بھاری مینڈیٹ دیا ہے۔ نئے سرے سے ایسی لایعنی اور لاحاصل مہم چلانے سے بہتر ہے کہ وہ اپنا اور اپنی سرکار کا محاسبہ کریں۔ اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ مفلوج ہو چکے ہیں اور ان کی سرکار پر فالج گرا ہے تو بہتر یہی ہے کہ باعزت طور پر پویلین واپس آ کر آرام فرمائیں۔ لیکن عمر صاحب بھی اپنے پانچ سال پورے کریں گے، جس طرح ان سے پہلے کے چیف منسٹر صاحبان یہاں اپنی اپنی باری کھیل کر پویلین واپس جاتے رہے ہیں۔
یہ کشمیری قوم کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ پھر اس خاندان کی تاریخ اور پسِ منظر پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ آپ ہمیشہ درباری لوگ رہے ہیں اور درباروں کے ساتھ منسلک رہنا آپ کا شیوہ ہی ہے۔ الحاقِ ہند میں شیخ صاحب کے رول اور کردار سے کون واقف نہیں؟ لاکھ اختلافات کے باوجود کانگریس کی اولین قیادت کو اس کا احساس تھا اور اسی پس منظر میں وہ اس خاندان کو ہند کا زبردست دوست و ہمنوا سمجھتی تھی۔
بہرحال آٹھ ہفتوں کی دستخطی مہم کا پس منظر یہی ہو سکتا ہے کہ سپریم کورٹ نے گذشتہ ہفتے مرکزی سرکار کو آٹھ ہفتوں کا وقت دیا ہے کہ وہ ریاستی درجے کی بحالی کے لئے اپنا موقف پیش کرے، کیونکہ سپریم کورٹ میں اب محض ریاستی درجے کی بحالی کی رِٹ ہے۔
شاید آپ کو یاد ہو کہ ۲ اگست ۲۰۲۳ کو سپریم کورٹ نے اچانک درخواست گزاروں کے دلائل کی روشنی میں آئینِ ہند کی دفعہ ۳۷۰ پر سماعت شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس تاریخی سماعت کو ۱۱ دسمبر کو پایۂ تکمیل تک پہنچا کر ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ یاد رہے کہ ۵ اگست ۲۰۱۹ کے بعد جب دفعہ ۳۷۰ کو ختم کیا گیا تھا تو سپریم کورٹ میں اس کے خلاف رِٹ پٹیشنیں دائر کی گئی تھیں۔ لیکن ۲ اگست تک—جسے ایک طویل عرصہ کہا جا سکتا ہے—اس پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی تھی۔ پھر اچانک اس پر سماعت شروع ہوئی اور اس بیچ اسے سردخانے کی نذر کیوں رکھا گیا، اس کی کوئی توضیح کہیں سے نہیں دی گئی۔
۱۱ دسمبر ۲۰۲۳ کو پانچ رکنی بینچ نے جو متفقہ فیصلہ سنایا، وہ اپنی نوعیت میں ایک مثال تھا۔ اس فیصلے نے جموں و کشمیر کے مستقبل کا تعین کر کے اس خصوصی درجے کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے اس خصوصی درجے کو انہی لوگوں نے ۷۵ برس میں اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیا تھا اور اسے بے جان لاشہ بنا کر طبعی موت مرنے کے لئے چھوڑ دیا تھا۔ اب یہ ہمیشہ کے لئے زمین کی تہوں اور ماضی کے اندھیروں میں دفن ہو چکا ہے۔
اصل میں سپریم کورٹ کا فیصلہ کشمیری عوام کے لئے خلافِ توقع نہیں تھا کیونکہ ’’جو چاہئے سو آپ کی نگاہِ کرشمہ ساز کرے‘‘۔ اقتداری سیاست کار تو پہلے ہی اس بات کا اعتراف کر چکے تھے کہ یہ دفعہ اور خصوصی درجہ قصۂ پارینہ اور ایک افسانے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ شاید اسی لئے امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں ۵ اگست ۲۰۱۹ کو اس کی منسوخی کے موقع پر کہا تھا کہ ’’اس دفعہ میں اب رکھا ہی کیا تھا؟‘‘ شاید ان کا مطلب یہ تھا کہ ’’عمارت تو پہلے ہی مسمار ہو چکی تھی، ہم نے تو اس ملبے کو صاف کیا ہے۔‘‘
بہر حال سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے میں کہا تھا کہ یہ آرٹیکل ۳۷۰ ایک عارضی شق تھی؛ دوم یہ کہ عرضی میں صدارتی اعلان کو چیلنج نہیں کیا گیا تھا؛ اور سوم یہ کہ فیصلے میں کوئی بدنیتی نظر نہیں آتی۔ یعنی پارلیمنٹ کے لئے بھی کلین چٹ مہیا کر دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ دینے اور ۳۰ ستمبر ۲۰۲۴ تک انتخابات کرانے کی ہدایت دی تھی۔
انتخابات ہو چکے ہیں جن کے نتیجے میں عمر سرکار برسرِ اقتدار آئی۔ یہ وہی بات ہے جو پارلیمنٹ میں دفعہ ۳۷۰ کی تنسیخ کے وقت کہی گئی تھی کہ ’’مناسب وقت پر ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا اور انتخابات بھی کرائے جائیں گے۔‘‘ ظاہر ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ انہی بیانات سے ہم آہنگ رکھا بلکہ ان پر مہرِ تصدیق ثبت کی۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ آرٹیکل ۳۷۰ خصوصی حالات کے لئے ایک التزام تھا اور آئین کے آرٹیکل ۱ اور ۳۷۰ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے اور اس کی کوئی داخلی خودمختاری ہندوستان کی دوسری ریاستوں سے الگ نہیں۔ مزید یہ کہ صدر جمہوریہ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ آئین ساز اسمبلی کی سفارش کے بغیر بھی آرٹیکل ۳۷۰ (۳) کی دفعات پر پابندی لگا سکتا ہے۔ اس فیصلے میں کہا گیا کہ آرڈر نمبر ۲۷۳ کے ذریعہ ریاست جموں و کشمیر پر آئینِ ہند کے مکمل اطلاق کے بعد ریاست کا آئین غیر فعال اور کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
بہر حال یہ دفعہ الحاقِ ہند کے ساتھ منسلک تھی اور انہی شرائط پر الحاق ممکن ہوا تھا۔ اب جموں و کشمیر کے انتخابات ہو چکے ہیں اور اب سٹیٹ ہڈ کا ہی معاملہ باقی ہے، جس کا کریڈٹ بہت سارے مفاد پرست درباری لینا چاہتے ہیں، حالانکہ سپریم کورٹ پہلے ہی اس کے احکامات دے چکا ہے۔
یہ کشمیری سیاسی جماعتوں کے لئے محض ایک ’’اسکورنگ پوائنٹ‘‘ ہے، اگرچہ اس میں شاید ہی کوئی جان باقی رہی ہو یا شاید ہی یہ کسی مرض کا تریاق ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ کانگریس اور این سی سٹیٹ ہڈ کے لئے کیوں اتاولے ہیں اور اس سے وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا جموں و کشمیر کے چیف منسٹر واقعی سٹیٹ ہڈ میں آزادانہ طور پر کام کر سکتے ہیں؟
فی الحال ایک حقیقت یہ ہے کہ چیف منسٹر بننے کے بعد عمر عبداللہ کے پاس دکھانے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ کوئی ایسا کارنامہ نہیں جس پر وہ فخر کر سکیں اور نہ ہی اپنے وعدے پورے کر پائے ہیں۔ عوامی تاثر بڑھتا جا رہا ہے کہ اگر یہاں بی جے پی کی سرکار ہوتی تو شاید سٹیٹ ہڈ کے ساتھ ساتھ کچھ تعمیری منصوبے بھی روبہ عمل ہو چکے ہوتے یا کچھ اور عوامی سہولیات میسر آچکی ہوتیں۔
یہ محض ایک خیال ہے جس کی تصدیق یا تردید ممکن نہیں کیونکہ سرکار نے اپنے اہداف مقرر کئے ہوں گے جن پر تیزی سے عمل ہو رہا ہوگا۔ بہت ساری چیزیں دکھائی دیتی ہیں اور اس سے زیادہ وہ جو موجود ہوتی ہیں لیکن نظر نہیں آتیں۔
سٹیٹ ہڈ ہی ساری بیماریوں کا تریاق نہیں، اور وہ بھی اس صورت میں جب بہت سے نئے قوانین پاس ہو چکے ہیں جن سے اکثر عوام بے خبر یا لاتعلق رہتے ہیں لیکن جن کے دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ یہ دستخطی مہمات اور دھرنے وغیرہ کوئی معنی نہیں رکھتے کیونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے اور ’’مناسب وقت‘‘ کی تشریح صرف سیاسی بنیادوں پر ہی سمجھی جا سکتی ہے۔
امیت شاہ اور ان کے ساتھی یہ دہراتے رہے ہیں کہ ’’ہم جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ مناسب وقت پر بحال کریں گے لیکن ابھی وہ مناسب وقت نہیں۔‘‘ اب سوال یہ ہے کہ وہ مناسب وقت کیا اور کیسا ہوگا؟ ظاہر ہے کہ یہ سرکار ریاستی درجے کی بحالی کا کریڈٹ کسی اور کو کیوں دے گی۔ شاید وہ ’’مناسب وقت‘‘ تب آئے گا جب زمین بھی بی جے پی کی ہوگی، سرکار بھی انہی کی ہوگی اور سیاسی ماحول بھی انہی کا ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

ریاستی درجہ، ’اب تیرے درد کا درماں نہیں‘

رشید پروین
سوپور، کشمیر

۱۵ اگست ۲۰۲۵ کو یومِ آزادی ہند کے موقعے پر بخشی اسٹیڈیم میں محترم عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’این سی‘‘ آئندہ آٹھ ہفتوں میں جموں و کشمیر میں ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق ایک دستخطی مہم شروع کرے گی۔ دستخطی مہم کا مطلب یہ ہے کہ عوام کے دستخط اس حق میں لئے جائیں کہ وہ ریاستی درجے کی بحالی چاہتے ہیں۔ یہ حیران کن اور تعجب خیز بات ہے اور اسی قدر المناک بھی۔
۳۵ اے اور ۳۷۰ (جو کبھی خواب تھا، جو کبھی افسانہ تھا) جموں و کشمیر کی اصل روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی ہے۔ اب یہ ’’سٹیٹ ہڈ‘‘ شب گزیدہ، کس کس بیماری کا علاج ہو سکتا ہے؟ کچھ پتہ نہیں۔ لیکن عمر عبداللہ اس سٹیٹ ہڈ کی تلاش میں کس کس صحرا میں بھٹک رہے ہیں اور کشمیری عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے سارے خواب، آرزوئیں اور جستجوئیں سٹیٹ ہڈ میں محفوظ ہیں۔
عمر کو کسی نئے ریفرنڈم اور دستخطی مہم کی ضرورت نہیں کیونکہ عوام نے انتخابات میں انہیں بھاری مینڈیٹ دیا ہے۔ نئے سرے سے ایسی لایعنی اور لاحاصل مہم چلانے سے بہتر ہے کہ وہ اپنا اور اپنی سرکار کا محاسبہ کریں۔ اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ مفلوج ہو چکے ہیں اور ان کی سرکار پر فالج گرا ہے تو بہتر یہی ہے کہ باعزت طور پر پویلین واپس آ کر آرام فرمائیں۔ لیکن عمر صاحب بھی اپنے پانچ سال پورے کریں گے، جس طرح ان سے پہلے کے چیف منسٹر صاحبان یہاں اپنی اپنی باری کھیل کر پویلین واپس جاتے رہے ہیں۔
یہ کشمیری قوم کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ پھر اس خاندان کی تاریخ اور پسِ منظر پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ آپ ہمیشہ درباری لوگ رہے ہیں اور درباروں کے ساتھ منسلک رہنا آپ کا شیوہ ہی ہے۔ الحاقِ ہند میں شیخ صاحب کے رول اور کردار سے کون واقف نہیں؟ لاکھ اختلافات کے باوجود کانگریس کی اولین قیادت کو اس کا احساس تھا اور اسی پس منظر میں وہ اس خاندان کو ہند کا زبردست دوست و ہمنوا سمجھتی تھی۔
بہرحال آٹھ ہفتوں کی دستخطی مہم کا پس منظر یہی ہو سکتا ہے کہ سپریم کورٹ نے گذشتہ ہفتے مرکزی سرکار کو آٹھ ہفتوں کا وقت دیا ہے کہ وہ ریاستی درجے کی بحالی کے لئے اپنا موقف پیش کرے، کیونکہ سپریم کورٹ میں اب محض ریاستی درجے کی بحالی کی رِٹ ہے۔
شاید آپ کو یاد ہو کہ ۲ اگست ۲۰۲۳ کو سپریم کورٹ نے اچانک درخواست گزاروں کے دلائل کی روشنی میں آئینِ ہند کی دفعہ ۳۷۰ پر سماعت شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس تاریخی سماعت کو ۱۱ دسمبر کو پایۂ تکمیل تک پہنچا کر ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ یاد رہے کہ ۵ اگست ۲۰۱۹ کے بعد جب دفعہ ۳۷۰ کو ختم کیا گیا تھا تو سپریم کورٹ میں اس کے خلاف رِٹ پٹیشنیں دائر کی گئی تھیں۔ لیکن ۲ اگست تک—جسے ایک طویل عرصہ کہا جا سکتا ہے—اس پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی تھی۔ پھر اچانک اس پر سماعت شروع ہوئی اور اس بیچ اسے سردخانے کی نذر کیوں رکھا گیا، اس کی کوئی توضیح کہیں سے نہیں دی گئی۔
۱۱ دسمبر ۲۰۲۳ کو پانچ رکنی بینچ نے جو متفقہ فیصلہ سنایا، وہ اپنی نوعیت میں ایک مثال تھا۔ اس فیصلے نے جموں و کشمیر کے مستقبل کا تعین کر کے اس خصوصی درجے کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے اس خصوصی درجے کو انہی لوگوں نے ۷۵ برس میں اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیا تھا اور اسے بے جان لاشہ بنا کر طبعی موت مرنے کے لئے چھوڑ دیا تھا۔ اب یہ ہمیشہ کے لئے زمین کی تہوں اور ماضی کے اندھیروں میں دفن ہو چکا ہے۔
اصل میں سپریم کورٹ کا فیصلہ کشمیری عوام کے لئے خلافِ توقع نہیں تھا کیونکہ ’’جو چاہئے سو آپ کی نگاہِ کرشمہ ساز کرے‘‘۔ اقتداری سیاست کار تو پہلے ہی اس بات کا اعتراف کر چکے تھے کہ یہ دفعہ اور خصوصی درجہ قصۂ پارینہ اور ایک افسانے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ شاید اسی لئے امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں ۵ اگست ۲۰۱۹ کو اس کی منسوخی کے موقع پر کہا تھا کہ ’’اس دفعہ میں اب رکھا ہی کیا تھا؟‘‘ شاید ان کا مطلب یہ تھا کہ ’’عمارت تو پہلے ہی مسمار ہو چکی تھی، ہم نے تو اس ملبے کو صاف کیا ہے۔‘‘
بہر حال سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے میں کہا تھا کہ یہ آرٹیکل ۳۷۰ ایک عارضی شق تھی؛ دوم یہ کہ عرضی میں صدارتی اعلان کو چیلنج نہیں کیا گیا تھا؛ اور سوم یہ کہ فیصلے میں کوئی بدنیتی نظر نہیں آتی۔ یعنی پارلیمنٹ کے لئے بھی کلین چٹ مہیا کر دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ دینے اور ۳۰ ستمبر ۲۰۲۴ تک انتخابات کرانے کی ہدایت دی تھی۔
انتخابات ہو چکے ہیں جن کے نتیجے میں عمر سرکار برسرِ اقتدار آئی۔ یہ وہی بات ہے جو پارلیمنٹ میں دفعہ ۳۷۰ کی تنسیخ کے وقت کہی گئی تھی کہ ’’مناسب وقت پر ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا اور انتخابات بھی کرائے جائیں گے۔‘‘ ظاہر ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ انہی بیانات سے ہم آہنگ رکھا بلکہ ان پر مہرِ تصدیق ثبت کی۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ آرٹیکل ۳۷۰ خصوصی حالات کے لئے ایک التزام تھا اور آئین کے آرٹیکل ۱ اور ۳۷۰ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے اور اس کی کوئی داخلی خودمختاری ہندوستان کی دوسری ریاستوں سے الگ نہیں۔ مزید یہ کہ صدر جمہوریہ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ آئین ساز اسمبلی کی سفارش کے بغیر بھی آرٹیکل ۳۷۰ (۳) کی دفعات پر پابندی لگا سکتا ہے۔ اس فیصلے میں کہا گیا کہ آرڈر نمبر ۲۷۳ کے ذریعہ ریاست جموں و کشمیر پر آئینِ ہند کے مکمل اطلاق کے بعد ریاست کا آئین غیر فعال اور کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
بہر حال یہ دفعہ الحاقِ ہند کے ساتھ منسلک تھی اور انہی شرائط پر الحاق ممکن ہوا تھا۔ اب جموں و کشمیر کے انتخابات ہو چکے ہیں اور اب سٹیٹ ہڈ کا ہی معاملہ باقی ہے، جس کا کریڈٹ بہت سارے مفاد پرست درباری لینا چاہتے ہیں، حالانکہ سپریم کورٹ پہلے ہی اس کے احکامات دے چکا ہے۔
یہ کشمیری سیاسی جماعتوں کے لئے محض ایک ’’اسکورنگ پوائنٹ‘‘ ہے، اگرچہ اس میں شاید ہی کوئی جان باقی رہی ہو یا شاید ہی یہ کسی مرض کا تریاق ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ کانگریس اور این سی سٹیٹ ہڈ کے لئے کیوں اتاولے ہیں اور اس سے وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا جموں و کشمیر کے چیف منسٹر واقعی سٹیٹ ہڈ میں آزادانہ طور پر کام کر سکتے ہیں؟
فی الحال ایک حقیقت یہ ہے کہ چیف منسٹر بننے کے بعد عمر عبداللہ کے پاس دکھانے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ کوئی ایسا کارنامہ نہیں جس پر وہ فخر کر سکیں اور نہ ہی اپنے وعدے پورے کر پائے ہیں۔ عوامی تاثر بڑھتا جا رہا ہے کہ اگر یہاں بی جے پی کی سرکار ہوتی تو شاید سٹیٹ ہڈ کے ساتھ ساتھ کچھ تعمیری منصوبے بھی روبہ عمل ہو چکے ہوتے یا کچھ اور عوامی سہولیات میسر آچکی ہوتیں۔
یہ محض ایک خیال ہے جس کی تصدیق یا تردید ممکن نہیں کیونکہ سرکار نے اپنے اہداف مقرر کئے ہوں گے جن پر تیزی سے عمل ہو رہا ہوگا۔ بہت ساری چیزیں دکھائی دیتی ہیں اور اس سے زیادہ وہ جو موجود ہوتی ہیں لیکن نظر نہیں آتیں۔
سٹیٹ ہڈ ہی ساری بیماریوں کا تریاق نہیں، اور وہ بھی اس صورت میں جب بہت سے نئے قوانین پاس ہو چکے ہیں جن سے اکثر عوام بے خبر یا لاتعلق رہتے ہیں لیکن جن کے دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ یہ دستخطی مہمات اور دھرنے وغیرہ کوئی معنی نہیں رکھتے کیونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے اور ’’مناسب وقت‘‘ کی تشریح صرف سیاسی بنیادوں پر ہی سمجھی جا سکتی ہے۔
امیت شاہ اور ان کے ساتھی یہ دہراتے رہے ہیں کہ ’’ہم جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ مناسب وقت پر بحال کریں گے لیکن ابھی وہ مناسب وقت نہیں۔‘‘ اب سوال یہ ہے کہ وہ مناسب وقت کیا اور کیسا ہوگا؟ ظاہر ہے کہ یہ سرکار ریاستی درجے کی بحالی کا کریڈٹ کسی اور کو کیوں دے گی۔ شاید وہ ’’مناسب وقت‘‘ تب آئے گا جب زمین بھی بی جے پی کی ہوگی، سرکار بھی انہی کی ہوگی اور سیاسی ماحول بھی انہی کا ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں