جب نیٹ بند ہوا دلوں کے دروازے کھل گئے

منتظر مومن وانی
بہرام پورہ کنزر، بارہمولہ

جموں وکشمیر میں موسمی صورتحال کے باعث سیلابی رُخ اختیار کرنے سے دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ بھی متاثر ہوا۔ مختلف کمپنیاں چند گھنٹوں میں انٹرنیٹ بحال کرنے میں ناکام رہیں۔ وہ انٹرنیٹ جو آج سانس سے بھی زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے، اچانک سیلاب کا شکار ہوکر بوجھ بن گیا۔ قیمتی موبائل فون، جو ہر انسان کے ہاتھ میں ایک طاقتور آلہ لگتا تھا، اب بےجان اور فضول سا دکھائی دینے لگا۔
مگر جیسے ہی انٹرنیٹ کی روح قبض ہوئی، یوں محسوس ہوا کہ ہمارے رشتوں کی روح واپس آگئی۔ لوگ ڈیجیٹل دنیا سے نکل کر حقیقی زندگی میں پلٹ آئے۔ اپنے گھر والوں کا دیدار نصیب ہوا، ماں باپ، بہن بھائی کی باتیں سننے کا موقع ملا۔ کچن میں ہنستے مسکراتے چہرے نظر آنے لگے۔ ذہن کا تناو کم ہوا اور وہ کونے، جہاں ہم موبائل کی زنجیروں میں قید تھے، آزاد ہوگئے۔ گھر کا ماحول عجیب مگر خوشگوار سکون سے بھر گیا۔
رشتہ داروں کے بارے میں باتیں ہونے لگیں۔ ہر منٹ سوشل میڈیا پر بریکنگ نیوز اور پریشان کن خبروں کی بجائے ذہنی سکون نصیب ہوا۔ نہ حادثات کی خبر، نہ افسوسناک مناظر؛ صرف موبائل پر بار بار انگلیاں پھیرنے کے بعد ایک تسلی سی کہ انٹرنیٹ نہیں ہے، اور یہی سکون کافی ہے۔ کئی لوگوں نے دوبارہ کتابوں سے دوستی کرلی۔ کتابیں بھی جیسے مسکرا کر کہہ رہی ہوں: "کیوں خود کو ڈیجیٹل دنیا میں پریشان کرتے ہو؟”
والدین سے گھر کے معاملات پر گفتگو ہونے لگی۔ مشورے، سکون بھری باتیں، محبت بھری محفلیں ہر کونے میں آباد ہوئیں۔ اگرچہ انٹرنیٹ کے بند رہنے سے نظامِ زندگی متاثر ہوا، مگر انسانی رشتوں کا بکھرا شیرازہ جیسے از سرِ نو سنبھل گیا۔ شام کو وہی ماحول محسوس ہوا جو کبھی ریڈیو کی چند خبریں سننے کے بعد گھر میں سکون بخشا کرتا تھا۔
انٹرنیٹ کے فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا، مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا نے حقیقی رشتوں کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اس تجربے نے یہ احساس دلایا کہ شاید ہفتے میں ایک دن انٹرنیٹ بند ہونا چاہیے تاکہ اپنوں سے تعلقات تازہ رہیں۔ چند حروف پر مبنی ڈیجیٹل پیغام میں وہ مٹھاس کہاں جو اپنوں کی محفل میں دل کھول کر کی جانے والی گفتگو میں ہے۔
اللہ ہمارے رشتوں میں احترام، محبت اور ہمدردی ہمیشہ قائم رکھے۔
آمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

رفیع آباد میں فیشن ڈیزائننگ سنٹر کا افتتاح 

بارہمولہ 12    ستمبر 2026 ء؁  وزیر برائے زراعت ،...

BRICS اعلامیہ میں پہلگام حملے کی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی/برکس ممالک کے رہنماؤں نے 22 اپریل...

ڈاکٹر عزیز حاجنی کی پانچویں برسی کے موقعہ پر  ادبی اجتماع اور یوتھ کوئز کا انعقاد

  جنگ نیوز حاجن/کشمیری زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد،...

چیف جسٹس نے سری نگر میں تیسری قومی لوک عدالت کا افتتاح کردیا

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ضلع قانونی خدمات اتھارٹی (DLSA) سری...

تازہ ترین خبریں

رفیع آباد میں فیشن ڈیزائننگ سنٹر کا افتتاح 

بارہمولہ 12    ستمبر 2026 ء؁  وزیر برائے زراعت ،...

BRICS اعلامیہ میں پہلگام حملے کی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی/برکس ممالک کے رہنماؤں نے 22 اپریل...

ڈاکٹر عزیز حاجنی کی پانچویں برسی کے موقعہ پر  ادبی اجتماع اور یوتھ کوئز کا انعقاد

  جنگ نیوز حاجن/کشمیری زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد،...

چیف جسٹس نے سری نگر میں تیسری قومی لوک عدالت کا افتتاح کردیا

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ضلع قانونی خدمات اتھارٹی (DLSA) سری...

جب نیٹ بند ہوا دلوں کے دروازے کھل گئے

منتظر مومن وانی
بہرام پورہ کنزر، بارہمولہ

جموں وکشمیر میں موسمی صورتحال کے باعث سیلابی رُخ اختیار کرنے سے دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ بھی متاثر ہوا۔ مختلف کمپنیاں چند گھنٹوں میں انٹرنیٹ بحال کرنے میں ناکام رہیں۔ وہ انٹرنیٹ جو آج سانس سے بھی زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے، اچانک سیلاب کا شکار ہوکر بوجھ بن گیا۔ قیمتی موبائل فون، جو ہر انسان کے ہاتھ میں ایک طاقتور آلہ لگتا تھا، اب بےجان اور فضول سا دکھائی دینے لگا۔
مگر جیسے ہی انٹرنیٹ کی روح قبض ہوئی، یوں محسوس ہوا کہ ہمارے رشتوں کی روح واپس آگئی۔ لوگ ڈیجیٹل دنیا سے نکل کر حقیقی زندگی میں پلٹ آئے۔ اپنے گھر والوں کا دیدار نصیب ہوا، ماں باپ، بہن بھائی کی باتیں سننے کا موقع ملا۔ کچن میں ہنستے مسکراتے چہرے نظر آنے لگے۔ ذہن کا تناو کم ہوا اور وہ کونے، جہاں ہم موبائل کی زنجیروں میں قید تھے، آزاد ہوگئے۔ گھر کا ماحول عجیب مگر خوشگوار سکون سے بھر گیا۔
رشتہ داروں کے بارے میں باتیں ہونے لگیں۔ ہر منٹ سوشل میڈیا پر بریکنگ نیوز اور پریشان کن خبروں کی بجائے ذہنی سکون نصیب ہوا۔ نہ حادثات کی خبر، نہ افسوسناک مناظر؛ صرف موبائل پر بار بار انگلیاں پھیرنے کے بعد ایک تسلی سی کہ انٹرنیٹ نہیں ہے، اور یہی سکون کافی ہے۔ کئی لوگوں نے دوبارہ کتابوں سے دوستی کرلی۔ کتابیں بھی جیسے مسکرا کر کہہ رہی ہوں: "کیوں خود کو ڈیجیٹل دنیا میں پریشان کرتے ہو؟”
والدین سے گھر کے معاملات پر گفتگو ہونے لگی۔ مشورے، سکون بھری باتیں، محبت بھری محفلیں ہر کونے میں آباد ہوئیں۔ اگرچہ انٹرنیٹ کے بند رہنے سے نظامِ زندگی متاثر ہوا، مگر انسانی رشتوں کا بکھرا شیرازہ جیسے از سرِ نو سنبھل گیا۔ شام کو وہی ماحول محسوس ہوا جو کبھی ریڈیو کی چند خبریں سننے کے بعد گھر میں سکون بخشا کرتا تھا۔
انٹرنیٹ کے فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا، مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا نے حقیقی رشتوں کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اس تجربے نے یہ احساس دلایا کہ شاید ہفتے میں ایک دن انٹرنیٹ بند ہونا چاہیے تاکہ اپنوں سے تعلقات تازہ رہیں۔ چند حروف پر مبنی ڈیجیٹل پیغام میں وہ مٹھاس کہاں جو اپنوں کی محفل میں دل کھول کر کی جانے والی گفتگو میں ہے۔
اللہ ہمارے رشتوں میں احترام، محبت اور ہمدردی ہمیشہ قائم رکھے۔
آمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں