جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے چھ لاکھ سے زائد گھریلو بجلی صارفین کے لیے ایمنسٹی اسکیم میں توسیع کا فیصلہ نہایت بروقت اور قابلِ تحسین قدم ہے۔ ایسے وقت میں جب مہنگائی اور مالی دباؤ نے عام گھریلو صارفین کو پریشان کر رکھا ہے، حکومت کا یہ فیصلہ کہ 31 مارچ 2025 تک کے واجب الادا بجلی بلوں پر صرف اصل رقم ادا کرنی ہوگی اور سود مکمل معاف ہوگا، عوام کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔
تاہم قلیل مدتی ریلیف کے ساتھ ساتھ طویل مدتی پائیدار حکمت عملی بھی ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دے۔ جموں و کشمیر کی جغرافیائی پوزیشن اور قدرتی وسائل شمسی توانائی کے لیے موزوں ہیں، خاص طور پر دیہی اور پہاڑی علاقوں میں جہاں روایتی بجلی پہنچانا مشکل اور مہنگا ہے۔
حکومت اگر چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب کے لیے سبسڈی، آسان قرضے، یا شمسی توانائی سے چلنے والے کمیونٹی گرڈز کو فروغ دے، تو بجلی کے روایتی نظام پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔ سرکاری دفاتر، اسکولوں اور دیگر اداروں میں بھی شمسی توانائی کے استعمال کو لازم قرار دینا وقت کی ضرورت ہے۔
ایمنسٹی جیسی رعایتی اسکیموں کے ساتھ اگر دور اندیش توانائی اصلاحات کی راہ ہموار کی جائے تو جموں و کشمیر نہ صرف اپنے شہریوں کو معاشی سکون فراہم کر سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور توانائی میں خود کفالت کی منزل بھی حاصل کر سکتا ہے۔
بجلی کے واجبات پر ایمنسٹی اسکیم خوش آئند
بجلی کے واجبات پر ایمنسٹی اسکیم خوش آئند
جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے چھ لاکھ سے زائد گھریلو بجلی صارفین کے لیے ایمنسٹی اسکیم میں توسیع کا فیصلہ نہایت بروقت اور قابلِ تحسین قدم ہے۔ ایسے وقت میں جب مہنگائی اور مالی دباؤ نے عام گھریلو صارفین کو پریشان کر رکھا ہے، حکومت کا یہ فیصلہ کہ 31 مارچ 2025 تک کے واجب الادا بجلی بلوں پر صرف اصل رقم ادا کرنی ہوگی اور سود مکمل معاف ہوگا، عوام کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔
تاہم قلیل مدتی ریلیف کے ساتھ ساتھ طویل مدتی پائیدار حکمت عملی بھی ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دے۔ جموں و کشمیر کی جغرافیائی پوزیشن اور قدرتی وسائل شمسی توانائی کے لیے موزوں ہیں، خاص طور پر دیہی اور پہاڑی علاقوں میں جہاں روایتی بجلی پہنچانا مشکل اور مہنگا ہے۔
حکومت اگر چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب کے لیے سبسڈی، آسان قرضے، یا شمسی توانائی سے چلنے والے کمیونٹی گرڈز کو فروغ دے، تو بجلی کے روایتی نظام پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔ سرکاری دفاتر، اسکولوں اور دیگر اداروں میں بھی شمسی توانائی کے استعمال کو لازم قرار دینا وقت کی ضرورت ہے۔
ایمنسٹی جیسی رعایتی اسکیموں کے ساتھ اگر دور اندیش توانائی اصلاحات کی راہ ہموار کی جائے تو جموں و کشمیر نہ صرف اپنے شہریوں کو معاشی سکون فراہم کر سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور توانائی میں خود کفالت کی منزل بھی حاصل کر سکتا ہے۔


