قومی سلامتی، سیاست اور بیانیے کی یکجہتی

نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) نے 5 اگست کو اپنے پارلیمانی اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور آپریشن سندور و آپریشن مہادیو میں مسلح افواج کی کامیابی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے متفقہ قرارداد منظور کی۔ یہ دن آرٹیکل 370 کی منسوخی کی چھٹی برسی بھی تھی، ایک سیاسی سنگ میل جسے بی جے پی اپنی نظریاتی کامیابی سمجھتی ہے۔
وزیر اعظم نے، میڈیا رپورٹس کے مطابق، اجلاس میں اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ آپریشن سندور پر بحث کی ضد کر کے خود ہی الجھ گئی۔ ساتھ ہی مودی نے سپریم کورٹ کی جانب سے راہل گاندھی پر حالیہ تبصرے کو "بڑی سرزنش” قرار دے کر اسے سیاسی فائدے میں بدلا۔
اجلاس میں وزیر داخلہ امت شاہ کو ان کی طویل ترین مدتِ وزارت پر سراہا گیا، خاص طور پر 370 کی منسوخی کے تناظر میں۔ راجیہ سبھا میں آپریشن سندور پر بحث کے دوران بھی اپوزیشن کی موجودگی کی مانگ کے باوجود، جواب امت شاہ نے دیا، جس پر مودی نے سوشل میڈیا پر ان کی تقریر کو "شاندار” قرار دیا۔
یہ اجلاس صرف حکومتی پالیسی کا اظہار نہیں تھا، بلکہ ایک سیاسی بیانیے کی مضبوطی بھی تھی جس میں قوم پرستی، عسکری فتوحات، اور پارٹی قیادت کو ایک ساتھ جوڑ کر پیش کیا گیا۔
تاہم، قومی سلامتی کو سیاسی تمغے میں بدلنے کے بجائے اسے جمہوری مکالمے اور پارلیمانی نگرانی کا حصہ بنانا ہوگا۔ کیونکہ سوال اٹھانا غداری نہیں، جمہوریت کی اصل روح ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

قومی سلامتی، سیاست اور بیانیے کی یکجہتی

نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) نے 5 اگست کو اپنے پارلیمانی اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور آپریشن سندور و آپریشن مہادیو میں مسلح افواج کی کامیابی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے متفقہ قرارداد منظور کی۔ یہ دن آرٹیکل 370 کی منسوخی کی چھٹی برسی بھی تھی، ایک سیاسی سنگ میل جسے بی جے پی اپنی نظریاتی کامیابی سمجھتی ہے۔
وزیر اعظم نے، میڈیا رپورٹس کے مطابق، اجلاس میں اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ آپریشن سندور پر بحث کی ضد کر کے خود ہی الجھ گئی۔ ساتھ ہی مودی نے سپریم کورٹ کی جانب سے راہل گاندھی پر حالیہ تبصرے کو "بڑی سرزنش” قرار دے کر اسے سیاسی فائدے میں بدلا۔
اجلاس میں وزیر داخلہ امت شاہ کو ان کی طویل ترین مدتِ وزارت پر سراہا گیا، خاص طور پر 370 کی منسوخی کے تناظر میں۔ راجیہ سبھا میں آپریشن سندور پر بحث کے دوران بھی اپوزیشن کی موجودگی کی مانگ کے باوجود، جواب امت شاہ نے دیا، جس پر مودی نے سوشل میڈیا پر ان کی تقریر کو "شاندار” قرار دیا۔
یہ اجلاس صرف حکومتی پالیسی کا اظہار نہیں تھا، بلکہ ایک سیاسی بیانیے کی مضبوطی بھی تھی جس میں قوم پرستی، عسکری فتوحات، اور پارٹی قیادت کو ایک ساتھ جوڑ کر پیش کیا گیا۔
تاہم، قومی سلامتی کو سیاسی تمغے میں بدلنے کے بجائے اسے جمہوری مکالمے اور پارلیمانی نگرانی کا حصہ بنانا ہوگا۔ کیونکہ سوال اٹھانا غداری نہیں، جمہوریت کی اصل روح ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں