چھ سال قبل آج ہی کے دن 5 اگست 2019 کی تاریخ جموں و کشمیر کی سیاسی، آئینی اور انتظامی ساخت میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد جہاں ایک طرف مرکز نے "ایک قوم، ایک آئین” کے اصول کو عملی جامہ پہنایا، وہیں دوسری طرف ریاستی باشندوں کے ذہنوں میں سوالات، خدشات اور امیدوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ آج چھ برس گزرنے کے بعد، ضروری ہے کہ ہم ایک غیر جذباتی مگر دیانت دار جائزہ لیں: کشمیر کہاں کھڑا ہے اور اسے درحقیقت کس سمت میں لے جانا ہے؟
ان چھ برسوں میں سکیورٹی صورتحال میں واضح بہتری دیکھی گئی۔ سنگباری کا سلسلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے، سیاحتی سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں اور بیرونی سرمایہ کاری کی راہیں بھی کھلنے لگی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا ترقی صرف سڑکوں، پلوں اور سیاحتی آمد و رفت تک محدود ہونی چاہیے؟ کیا اصل ترقی وہ نہیں جس میں نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے، ان کے خوابوں کو منزلوں سے جوڑا جائے اور ان کے مستقبل کو سیاسی میراثوں کی نذر نہ کیا جائے؟
جموں و کشمیر کے عوام، بالخصوص نئی نسل، اب پُرانے خاندانی راج، اقربا پروری اور خوشامد پر مبنی سیاست سے نالاں ہے۔ انہیں ایسی قیادت درکار ہے جو ان کے مسائل سمجھے، ان کی زبان بولے، ان کے درمیان سے ابھرے اور انہیں جوابدہ ہو۔ سیاسی نمائندگی صرف بڑے ناموں یا نسل در نسل اقتدار سے نہیں، بلکہ میرٹ، دیانت اور وژن سے آنی چاہیے۔
تعلیم یافتہ، پرعزم اور سچائی سے جڑے نوجوانوں کو آگے لایا جائے، چاہے وہ سیاست ہو، مقامی خود مختاری کے ادارے ہوں یا بیوروکریسی۔ مرکز کو بھی چاہیے کہ وہ روایتی چہروں کی بجائے نئی نسل کی قیادت کو ترجیح دے، تاکہ کشمیری نوجوانوں کو اعتماد حاصل ہو کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے، ان کا مستقبل محفوظ ہے، اور ان کے ہاتھوں میں ہی کشمیر کا کل ہے۔
ترقی کے ثمرات تب ہی نیچے تک پہنچ سکتے ہیں جب فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت ہو، اور سیاسی عمل میں شمولیت کی راہیں سب کے لیے یکساں ہوں، نہ کہ کسی ایک خاندان، پارٹی یا طبقے کی جاگیر۔
کشمیری عوام کی طرف سے اب یہ اجتماعی صدا سنائی دے رہی ہے: ہمیں نہ واہ واہ کرنے والے درباری چاہییں، نہ اقتدار کی کرسیوں سے چپکے رہنے والے روایتی سیاست دان؛ ہمیں چاہیے ایماندار، فعال اور جوابدہ نوجوان قیادت، جو کشمیر کو ایک پُرامن، خوشحال اور باوقار خطہ بنانے کے خواب کو حقیقت میں بدل سکے۔
دفعہ 370 کی منسوخی کے 6 برس
دفعہ 370 کی منسوخی کے 6 برس
چھ سال قبل آج ہی کے دن 5 اگست 2019 کی تاریخ جموں و کشمیر کی سیاسی، آئینی اور انتظامی ساخت میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد جہاں ایک طرف مرکز نے "ایک قوم، ایک آئین” کے اصول کو عملی جامہ پہنایا، وہیں دوسری طرف ریاستی باشندوں کے ذہنوں میں سوالات، خدشات اور امیدوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ آج چھ برس گزرنے کے بعد، ضروری ہے کہ ہم ایک غیر جذباتی مگر دیانت دار جائزہ لیں: کشمیر کہاں کھڑا ہے اور اسے درحقیقت کس سمت میں لے جانا ہے؟
ان چھ برسوں میں سکیورٹی صورتحال میں واضح بہتری دیکھی گئی۔ سنگباری کا سلسلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے، سیاحتی سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں اور بیرونی سرمایہ کاری کی راہیں بھی کھلنے لگی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا ترقی صرف سڑکوں، پلوں اور سیاحتی آمد و رفت تک محدود ہونی چاہیے؟ کیا اصل ترقی وہ نہیں جس میں نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے، ان کے خوابوں کو منزلوں سے جوڑا جائے اور ان کے مستقبل کو سیاسی میراثوں کی نذر نہ کیا جائے؟
جموں و کشمیر کے عوام، بالخصوص نئی نسل، اب پُرانے خاندانی راج، اقربا پروری اور خوشامد پر مبنی سیاست سے نالاں ہے۔ انہیں ایسی قیادت درکار ہے جو ان کے مسائل سمجھے، ان کی زبان بولے، ان کے درمیان سے ابھرے اور انہیں جوابدہ ہو۔ سیاسی نمائندگی صرف بڑے ناموں یا نسل در نسل اقتدار سے نہیں، بلکہ میرٹ، دیانت اور وژن سے آنی چاہیے۔
تعلیم یافتہ، پرعزم اور سچائی سے جڑے نوجوانوں کو آگے لایا جائے، چاہے وہ سیاست ہو، مقامی خود مختاری کے ادارے ہوں یا بیوروکریسی۔ مرکز کو بھی چاہیے کہ وہ روایتی چہروں کی بجائے نئی نسل کی قیادت کو ترجیح دے، تاکہ کشمیری نوجوانوں کو اعتماد حاصل ہو کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے، ان کا مستقبل محفوظ ہے، اور ان کے ہاتھوں میں ہی کشمیر کا کل ہے۔
ترقی کے ثمرات تب ہی نیچے تک پہنچ سکتے ہیں جب فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت ہو، اور سیاسی عمل میں شمولیت کی راہیں سب کے لیے یکساں ہوں، نہ کہ کسی ایک خاندان، پارٹی یا طبقے کی جاگیر۔
کشمیری عوام کی طرف سے اب یہ اجتماعی صدا سنائی دے رہی ہے: ہمیں نہ واہ واہ کرنے والے درباری چاہییں، نہ اقتدار کی کرسیوں سے چپکے رہنے والے روایتی سیاست دان؛ ہمیں چاہیے ایماندار، فعال اور جوابدہ نوجوان قیادت، جو کشمیر کو ایک پُرامن، خوشحال اور باوقار خطہ بنانے کے خواب کو حقیقت میں بدل سکے۔


