جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی/بھارتی وزارت خارجہ نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے امریکہ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر بھارتی اشیاء پر ٹیرف میں "نمایاں اضافہ” کرنے کی دھمکی کا جواب دیا گیا ہے۔ بھارت نے واشنگٹن کو یاد دلایا کہ جب یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد بھارت نے روس سے تیل کی درآمد شروع کی تھی، تو امریکہ نے "ایسی درآمدات کی بھرپور حوصلہ افزائی” کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی بھارت نے یورپی یونین کی اس پالیسی پر بھی تنقید کی ہے جس کے تحت بھارتی ریفائنریوں کو خام تیل کی برآمد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کی روس سے درآمدات "عالمی منڈی کی صورتِ حال کے تحت ایک مجبوری” ہیں، جبکہ جو ممالک اس پر تنقید کر رہے ہیں وہ خود بھی روس کے ساتھ تجارت میں مصروف ہیں، "جبکہ ان کی تجارت کسی ناگزیر مجبوری پر مبنی نہیں۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ 2024 میں یورپی یونین نے روس کے ساتھ5.67ارب یورو کی دو طرفہ تجارت کی، جبکہ 2023 میں خدمات (سروسز) میں تجارت کا تخمینہ 17.2 ارب یورو رہا۔ یہ اعداد و شمار اس مدت کے دوران یا بعد میں بھارت کی روس سے مجموعی تجارت سے کہیں زیادہ ہیں۔ 2024 میں یورپ نے روس سے ایل این جی (LNG) کی ریکارڈ5.16 ملین ٹن درآمد کی، جو 2022 کے سابقہ ریکارڈ21.15 ملین ٹن سے بھی زیادہ ہے۔
بیان میں کہا گیا: "یورپ اور روس کی تجارت صرف توانائی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں کھاد، معدنیات، کیمیکل، فولاد، مشینری اور ٹرانسپورٹ ساز و سامان بھی شامل ہے۔”
اسی طرح، بھارت نے امریکہ کی روس سے درآمدات کی بھی نشاندہی کی: "جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، وہ آج بھی روس سے یورینیم ہیکسا فلورائیڈ (جو جوہری صنعت کے لیے استعمال ہوتا ہے)، پیلاڈیم (EV صنعت کے لیے)، کھاد اور کیمیکل درآمد کر رہا ہے۔”
بھارت نے روس سے خام تیل کی درآمد کو مکمل طور پر جائز قرار دیا اور امریکہ و یورپی یونین کی تنقید کو "غیرمنصفانہ اور غیرمنطقی” قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا: "بھارت نے روس سے درآمدات کا آغاز اس وقت کیا جب روایتی سپلائیز یورپ کی طرف منتقل ہو گئیں۔ اس وقت امریکہ نے خود بھارت کی روس سے درآمدات کو عالمی توانائی منڈی کے استحکام کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔”
بیان کے آخر میں کہا گیا: "ہر بڑی معیشت کی طرح، بھارت بھی اپنے قومی مفاد اور معاشی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔”
یہ سخت بیان ٹرمپ کی حالیہ دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے آج ٹروتھ سوشل پر کہا:
"میں بھارت کی امریکہ کو دی جانے والی ٹیرف کو نمایاں طور پر بڑھا دوں گا۔”
اگرچہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ٹیرف کی شرح کیا ہو گی۔
ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر روس نے 7 تا 9 اگست کے درمیان یوکرین کے ساتھ امن معاہدہ نہ کیا، تو وہ روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف لگا دیں گے۔ وہ پہلے ہی 7 اگست سے بھارت کی امریکہ کو برآمد ہونے والی اشیاء پر 25 فیصد درآمدی ڈیوٹی کا اعلان کر چکے ہیں۔
روایتی طور پر بھارت اپنی زیادہ تر تیل کی ضروریات مشرقِ وسطیٰ سے پوری کرتا تھا، لیکن جب فروری 2022 میں روس نے یوکرین پر مکمل حملہ کیا اور مغرب نے روس پر پابندیاں عائد کر دیں، تو روس نے اپنا تیل رعایتی نرخوں پر بیچنا شروع کیا، جس کے بعد بھارت نے روس سے بڑی سطح پر درآمدات کا آغاز کیا۔


