جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کو راجیہ سبھا میں کہا کہ جموں و کشمیر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں پائیدار امن کی طرف گامزن ہے اور یہاں سرگرم تمام دہشت گرد تنظیموں کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔
انہوں نے ایوان بالا کو بتایا کہ فورسز نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پہلگام حملے کے ذمہ دار دہشت گرد پاکستان فرار نہ ہو سکیں اور انہیں بروقت کارروائی میں مار گرایا گیا۔ امت شاہ نے بتایا کہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کی شناخت اور ان کی ہلاکت دو الگ الگ آپریشنز — "آپریشن سندور” اور "آپریشن مہادیو” — کے ذریعے ممکن ہوئی۔
22 اپریل کو پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے کی ذمہ داری دی ریزسٹنس فرنٹ (TRF) نے قبول کی تھی، جس میں 26 شہری، جن میں زیادہ تر سیاح تھے، جاں بحق ہوئے تھے۔
شاہ نے کہا کہ فارنزک جانچ میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ جو ہتھیار حملے میں استعمال ہوئے، وہی ہتھیار ہلاک دہشت گردوں سے برآمد ہوئے۔ "اب کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ یہی رائفلیں تھیں،” انہوں نے ایوان میں کہا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں اور مقامی پولیس نے 155 افراد سے پوچھ گچھ کی، اور جن لوگوں نے دہشت گردوں کو پناہ دی تھی، ان کی بھی شناخت ہو گئی ہے اور تفتیش جاری ہے۔
انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی اور مسلح افواج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دہشت گردوں کو نہ صرف پہچانا بلکہ ان کے فرار ہونے سے قبل ہی انہیں ختم کیا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ "آپریشن مہادیو” 22 اپریل کو حملے کے دن ہی شروع کیا گیا تھا۔ 22 مئی تک دہشت گردوں کی موجودگی کا سراغ لگ گیا تھا، جس کے بعد جموں و کشمیر پولیس، 4 پیرا اور سی آر پی ایف نے مشترکہ حکمت عملی تیار کی اور اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد کارروائی کی گئی۔
شاہ نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں نے ذاتی طور پر انصاف کی اپیل کی تھی، اور حکومت نے وعدے کے مطابق فیصلہ کن کارروائی کی۔ "ہم نے حملہ آوروں کو انتہائی درستگی سے مارا۔ انہیں سر پر گولی ماری گئی،” انہوں نے ایوان میں کہا۔
پارلیمنٹ سیشن کے دوران آپریشن کی ٹائمنگ پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے شاہ نے کہا، "اگر ممکن ہوتا تو میں حملے کے ایک منٹ بعد ہی آپریشن کا حکم دیتا۔ لیکن یہ آسان نہیں ہوتا۔”
انہوں نے کہا کہ "آپریشن سندور” اور "آپریشن مہادیو” بھارت کی دہشت گردی کے خلاف اب تک کی سب سے سخت کارروائیاں تھیں، جو قومی عزم اور طاقت کی علامت ہیں۔
شاہ نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ہر ہر مہادیو” کی پکار شیواجی مہاراج اور ان کے سپاہیوں کی جنگی للکار تھی، اور یہ آج بھی بھارت کی طاقت و حوصلے کی علامت ہے۔
انہوں نے حزب اختلاف کی تقریر کے دوران مداخلت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، "آپ کس کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے؟ لشکر طیبہ جیسے گروہوں کو؟ چدمبرم کے بیانات نے کانگریس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لایا۔”
شاہ نے کہا، "میں کانگریس سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے دور میں پاکستان کے قبضے والا کشمیر (PoK) ہاتھ سے گیا، مگر اسے بی جے پی واپس لائے گی۔ ہم نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں، کیمپوں اور لانچنگ پیڈز پر ہدفی حملے کیے۔ ہمارا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ تھا، لیکن پاکستان نے اسے اپنے خلاف جنگ سمجھا۔”


