BRICS: عالمی طاقت کے نئے توازن کا امتحان

نئی دہلی میں ہونے والی 18ویں برکس سربراہی کانفرنس محض ایک سفارتی اجتماع نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کی اجتماعی طاقت کا امتحان ہے۔ جنگوں، تجارتی تنازعات، توانائی کے بحران اور سپلائی چین کے عدم استحکام کے درمیان برکس اب اپنے روایتی پانچ ممالک کے دائرے سے نکل کر 11 رکنی پلیٹ فارم بن چکا ہے، جو عالمی معیشت اور آبادی میں نمایاں حصہ رکھتا ہے۔
ہندوستان کے لئے اس سربراہی اجلاس کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ نئی دہلی برکس کو محض سیاسی فورم کے بجائے تجارت، توانائی، ڈیجیٹل ادائیگیوں، ٹیکنالوجی اور اہم معدنیات میں عملی تعاون کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔ خاص طور پر لیتھیم، نکل، کوبالٹ، گریفائٹ، تانبہ اور نایاب زمینی عناصر اب محض قدرتی وسائل نہیں رہے؛ یہ مستقبل کی توانائی، دفاع، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد بن چکے ہیں۔ برکس ممالک اگر اپنے وسائل، سرمایہ، ٹیکنالوجی اور منڈیوں کو ایک مربوط ویلیو چین میں بدلنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو عالمی معاشی طاقت کا توازن واقعی تبدیل ہو سکتا ہے۔
اسی تناظر میں چین کے صدر شی جن پنگ کا نئی دہلی آنا بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ہندوستان کو چین کے ساتھ اقتصادی تعاون کے امکانات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی سرحدی سلامتی اور اسٹریٹجک خودمختاری کے مفادات کا بھی تحفظ کرنا ہوگا۔ یہی ہندوستان کی کثیرالجہتی خارجہ پالیسی کا اصل امتحان ہے۔
تاہم برکس کے اندر موجود اختلافات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایران، متحدہ عرب امارات، روس یوکرین جنگ اور مغربی ایشیا کی صورتحال جیسے مسائل اس گروپ کے لئے مشترکہ مؤقف اختیار کرنا مشکل بنا سکتے ہیں۔ اس لئے کامیابی کا پیمانہ کوئی مغرب مخالف اتحاد بنانا نہیں، بلکہ ایسے عملی متبادل پیدا کرنا ہونا چاہیے جو کسی ایک طاقت یا نظام پر غیر ضروری انحصار کم کر سکیں۔
اگر ہندوستان اپنی صدارت میں اہم معدنیات، سپلائی چین، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور گلوبل ساؤتھ کے معاشی مفادات کو ایک مؤثر ایجنڈے میں ڈھالنے میں کامیاب ہوتا ہے تو 2026 کا برکس اجلاس محض ایک سربراہی کانفرنس نہیں رہے گا، بلکہ اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے کردار کا ایک اہم اعلان ثابت ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نیتن یاہو کا سیاسی زوال!

اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات نے وزیر اعظم...

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو گروپ کو 53 اور اپوزیشن کو 48 سیٹیں، ٹرمپ نے لیا کریڈٹ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اسرائیل...

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

تازہ ترین خبریں

نیتن یاہو کا سیاسی زوال!

اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات نے وزیر اعظم...

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو گروپ کو 53 اور اپوزیشن کو 48 سیٹیں، ٹرمپ نے لیا کریڈٹ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اسرائیل...

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

BRICS: عالمی طاقت کے نئے توازن کا امتحان

نئی دہلی میں ہونے والی 18ویں برکس سربراہی کانفرنس محض ایک سفارتی اجتماع نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کی اجتماعی طاقت کا امتحان ہے۔ جنگوں، تجارتی تنازعات، توانائی کے بحران اور سپلائی چین کے عدم استحکام کے درمیان برکس اب اپنے روایتی پانچ ممالک کے دائرے سے نکل کر 11 رکنی پلیٹ فارم بن چکا ہے، جو عالمی معیشت اور آبادی میں نمایاں حصہ رکھتا ہے۔
ہندوستان کے لئے اس سربراہی اجلاس کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ نئی دہلی برکس کو محض سیاسی فورم کے بجائے تجارت، توانائی، ڈیجیٹل ادائیگیوں، ٹیکنالوجی اور اہم معدنیات میں عملی تعاون کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔ خاص طور پر لیتھیم، نکل، کوبالٹ، گریفائٹ، تانبہ اور نایاب زمینی عناصر اب محض قدرتی وسائل نہیں رہے؛ یہ مستقبل کی توانائی، دفاع، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد بن چکے ہیں۔ برکس ممالک اگر اپنے وسائل، سرمایہ، ٹیکنالوجی اور منڈیوں کو ایک مربوط ویلیو چین میں بدلنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو عالمی معاشی طاقت کا توازن واقعی تبدیل ہو سکتا ہے۔
اسی تناظر میں چین کے صدر شی جن پنگ کا نئی دہلی آنا بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ہندوستان کو چین کے ساتھ اقتصادی تعاون کے امکانات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی سرحدی سلامتی اور اسٹریٹجک خودمختاری کے مفادات کا بھی تحفظ کرنا ہوگا۔ یہی ہندوستان کی کثیرالجہتی خارجہ پالیسی کا اصل امتحان ہے۔
تاہم برکس کے اندر موجود اختلافات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایران، متحدہ عرب امارات، روس یوکرین جنگ اور مغربی ایشیا کی صورتحال جیسے مسائل اس گروپ کے لئے مشترکہ مؤقف اختیار کرنا مشکل بنا سکتے ہیں۔ اس لئے کامیابی کا پیمانہ کوئی مغرب مخالف اتحاد بنانا نہیں، بلکہ ایسے عملی متبادل پیدا کرنا ہونا چاہیے جو کسی ایک طاقت یا نظام پر غیر ضروری انحصار کم کر سکیں۔
اگر ہندوستان اپنی صدارت میں اہم معدنیات، سپلائی چین، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور گلوبل ساؤتھ کے معاشی مفادات کو ایک مؤثر ایجنڈے میں ڈھالنے میں کامیاب ہوتا ہے تو 2026 کا برکس اجلاس محض ایک سربراہی کانفرنس نہیں رہے گا، بلکہ اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے کردار کا ایک اہم اعلان ثابت ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں