کشمیر میں قلتِ گوشت سے تقریباتِ عروسی ماند پڑ گئیں

بلال بشیر بٹ

سرینگر/ جنگ نیوز/کشمیر میں شادیوں کا روایتی سیزن اپنے عروج پر ہے، مگر اس دوران وادی کو گوشت کی قلت کا سامنا ہے، جس نے گھریلو صارفین، کیٹررز اور وازہ برادری کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری مہراج الدین گنائی نے بتایا کہ سپلائی بند ہو چکی ہے، جس کی بڑی وجہ خریداری نرخ، ٹیکسز، بین الریاستی ٹرانسپورٹ اور حکومتی پالیسی میں عدم وضاحت ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ہڑتال نہیں، مگر ایک جمود کی کیفیت ضرور ہے، اور اس کا اثر پورے کشمیر پر پڑ رہا ہے۔”
ادھر شادی کی تیاریوں میں مصروف خاندانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

وازوان کے بغیر کشمیری شادی کا تصور ممکن نہیں، اور وازہ حضرات گوشت کی عدم دستیابی کے باعث کام شروع کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

سرینگر کے ایک ایونٹ پلانر نے کہا: "بغیر گوشت کے یہاں شادی نہیں ہو سکتی۔ کئی خاندان شادی مؤخر کرنے یا محدو د مینو پر غور کر رہے ہیں۔”
ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے صرف زبانی یقین دہانی مل رہی ہے، کوئی تحریری ہدایت یا عملی اقدام نظر نہیں آیا۔ گنائی نے کہا: "اگر کوئی کمیٹی بنائی گئی ہے تو اسے واضح فیصلے لے کر عملدرآمد دکھانا چاہیے۔”

حکومت سرگرم: شکایات کے ازالےکیلئے ٹیم تشکیل

جموں و کشمیر حکومت نے مویشی بردار گاڑیوں کی آمد و رفت کو سہل بنانے اور پنجاب میں ٹرانسپورٹروں کو درپیش ہراسانی، بھتہ خوری اور زائد چارجنگ کی مستقل شکایات کے ازالے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ٹیم تشکیل دی ہے۔
سرکاری حکم نامے کے مطابق تین رکنی کمیٹی میں ڈپٹی کنٹرولر، لیگل میٹالوجی ڈیپارٹمنٹ جموں و کشمیر، منوج پربھاکر، ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئرز کشمیر محمد رفیق بٹ، اور ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئرز جموں، شام لال ابڑول شامل ہیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹیم پنجاب کا دورہ کرے گی تاکہ وہاں کے متعلقہ محکموں اور اعلیٰ حکام سے مشاورت کی جا سکے۔ "اس مشن کا مقصد ایک باقاعدہ اور دوستانہ حل تلاش کرنا ہے جو مویشیوں کی نقل و حمل کو بے رکاوٹ بنائے، جموں و کشمیر کے مویشی تاجروں کے روزگار کا تحفظ کرے، اور بین الریاستی تجارتی ضابطوں کا وقار برقرار رکھے،” حکم نامے میں کہا گیا۔
مزید کہا گیا ہے کہ دورے کے بعد ٹیم اپنی تفصیلی رپورٹ انتظامی محکمے کو پیش کرے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

کشمیر میں قلتِ گوشت سے تقریباتِ عروسی ماند پڑ گئیں

بلال بشیر بٹ

سرینگر/ جنگ نیوز/کشمیر میں شادیوں کا روایتی سیزن اپنے عروج پر ہے، مگر اس دوران وادی کو گوشت کی قلت کا سامنا ہے، جس نے گھریلو صارفین، کیٹررز اور وازہ برادری کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری مہراج الدین گنائی نے بتایا کہ سپلائی بند ہو چکی ہے، جس کی بڑی وجہ خریداری نرخ، ٹیکسز، بین الریاستی ٹرانسپورٹ اور حکومتی پالیسی میں عدم وضاحت ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ہڑتال نہیں، مگر ایک جمود کی کیفیت ضرور ہے، اور اس کا اثر پورے کشمیر پر پڑ رہا ہے۔”
ادھر شادی کی تیاریوں میں مصروف خاندانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

وازوان کے بغیر کشمیری شادی کا تصور ممکن نہیں، اور وازہ حضرات گوشت کی عدم دستیابی کے باعث کام شروع کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

سرینگر کے ایک ایونٹ پلانر نے کہا: "بغیر گوشت کے یہاں شادی نہیں ہو سکتی۔ کئی خاندان شادی مؤخر کرنے یا محدو د مینو پر غور کر رہے ہیں۔”
ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے صرف زبانی یقین دہانی مل رہی ہے، کوئی تحریری ہدایت یا عملی اقدام نظر نہیں آیا۔ گنائی نے کہا: "اگر کوئی کمیٹی بنائی گئی ہے تو اسے واضح فیصلے لے کر عملدرآمد دکھانا چاہیے۔”

حکومت سرگرم: شکایات کے ازالےکیلئے ٹیم تشکیل

جموں و کشمیر حکومت نے مویشی بردار گاڑیوں کی آمد و رفت کو سہل بنانے اور پنجاب میں ٹرانسپورٹروں کو درپیش ہراسانی، بھتہ خوری اور زائد چارجنگ کی مستقل شکایات کے ازالے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ٹیم تشکیل دی ہے۔
سرکاری حکم نامے کے مطابق تین رکنی کمیٹی میں ڈپٹی کنٹرولر، لیگل میٹالوجی ڈیپارٹمنٹ جموں و کشمیر، منوج پربھاکر، ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئرز کشمیر محمد رفیق بٹ، اور ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئرز جموں، شام لال ابڑول شامل ہیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹیم پنجاب کا دورہ کرے گی تاکہ وہاں کے متعلقہ محکموں اور اعلیٰ حکام سے مشاورت کی جا سکے۔ "اس مشن کا مقصد ایک باقاعدہ اور دوستانہ حل تلاش کرنا ہے جو مویشیوں کی نقل و حمل کو بے رکاوٹ بنائے، جموں و کشمیر کے مویشی تاجروں کے روزگار کا تحفظ کرے، اور بین الریاستی تجارتی ضابطوں کا وقار برقرار رکھے،” حکم نامے میں کہا گیا۔
مزید کہا گیا ہے کہ دورے کے بعد ٹیم اپنی تفصیلی رپورٹ انتظامی محکمے کو پیش کرے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں