اردو فرقے کی نہیں، بلکہ قوم کی زبان ہے

جنگ نیوز ڈیسک

نئی دہلی/سینئر بی جے پی رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمان جناب غلام علی کھٹانہ نے آج نئی دہلی میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL) کا دورہ کیا۔ وہ کونسل کی گورننگ باڈی کے رکن کی حیثیت سے ادارے میں تشریف لائے، جہاں انہیں ڈائریکٹر جناب شمس اقبال نے پُرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ادارے کے افسران و عملے سے تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا۔
اپنے خطاب میں جناب کھٹانہ نے اردو کو محض کسی مخصوص کمیونٹی کی زبان کے بجائے قومی لسانی ورثہ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: "اردو کسی فرقے کی زبان نہیں، بلکہ پوری قوم کی زبان ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ زبان کو تنگ مذہبی شناختوں سے جوڑنے سے ہمیشہ اس کی ترقی اور پہچان کو نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے زبانوں کی تعلیم کو روزگار سے جوڑنے کی اہمیت بھی واضح کی۔ ان کا کہنا تھا: "کونسل کو چاہیے کہ اس کے کورسز، چاہے وہ اردو، عربی یا فارسی ہوں، ہنرمندی اور روزگار پر مبنی ہوں۔” انہوں نے خاص طور پر عربی زبان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عربی زبان کی مہارت ہندوستانی نوجوانوں کے لیے خلیجی ممالک میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا کر سکتی ہے، جس سے ہندوستان کے زرِ مبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کونسل کے عملے پر زور دیا کہ وہ زیادہ لگن کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے کہا: "آپ کا کام قومی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں اردو کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں دوگنی کرنی ہوں گی، اور نئی تخلیقات و علمی کاموں کو پروان چڑھانا ہوگا۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید بھارت میں اردو کی معنویت اور رسائی کو مستحکم کرنے میں کونسل کا کلیدی کردار ہے۔
کونسل کے افسران نے رکن پارلیمان کو اردو اور اس سے منسلک زبانوں کے فروغ کے لیے جاری اسکیموں، پروگراموں اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک گیر سطح پر ادبی تقریبات، نمائشوں اور ورکشاپس کے ذریعے کونسل کی رسائی اور اثر کو مزید بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اس ملاقات میں جن اہم افسران اور عملے نے شرکت کی ان میں شامل تھے: ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی (اسسٹنٹ ڈائریکٹر، اکیڈمک)، محمد احمد (اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ایڈمنسٹریشن)، ڈاکٹر کلیم اللہ (ریسرچ آفیسر)، انتخاب احمد (ریسرچ آفیسر)، اجمل سعید (اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر)، ڈاکٹر مسرّت (ریسرچ آفیسر)، ڈاکٹر عبدالباری (اسسٹنٹ ایڈیٹر) اور نیلم رانی (جے اے اے او)۔
واضح رہے کہ NCPUL وزارت تعلیم، حکومتِ ہند کے تحت کام کرنے والا ادارہ ہے، جسے اردو، عربی اور فارسی زبانوں کے فروغ اور اشاعت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ ادارہ پورے بھارت میں اپنی موجودگی کے ساتھ قومی لسانی و ثقافتی ورثے کے تحفظ و فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

اردو فرقے کی نہیں، بلکہ قوم کی زبان ہے

جنگ نیوز ڈیسک

نئی دہلی/سینئر بی جے پی رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمان جناب غلام علی کھٹانہ نے آج نئی دہلی میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL) کا دورہ کیا۔ وہ کونسل کی گورننگ باڈی کے رکن کی حیثیت سے ادارے میں تشریف لائے، جہاں انہیں ڈائریکٹر جناب شمس اقبال نے پُرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ادارے کے افسران و عملے سے تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا۔
اپنے خطاب میں جناب کھٹانہ نے اردو کو محض کسی مخصوص کمیونٹی کی زبان کے بجائے قومی لسانی ورثہ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: "اردو کسی فرقے کی زبان نہیں، بلکہ پوری قوم کی زبان ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ زبان کو تنگ مذہبی شناختوں سے جوڑنے سے ہمیشہ اس کی ترقی اور پہچان کو نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے زبانوں کی تعلیم کو روزگار سے جوڑنے کی اہمیت بھی واضح کی۔ ان کا کہنا تھا: "کونسل کو چاہیے کہ اس کے کورسز، چاہے وہ اردو، عربی یا فارسی ہوں، ہنرمندی اور روزگار پر مبنی ہوں۔” انہوں نے خاص طور پر عربی زبان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عربی زبان کی مہارت ہندوستانی نوجوانوں کے لیے خلیجی ممالک میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا کر سکتی ہے، جس سے ہندوستان کے زرِ مبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کونسل کے عملے پر زور دیا کہ وہ زیادہ لگن کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے کہا: "آپ کا کام قومی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں اردو کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں دوگنی کرنی ہوں گی، اور نئی تخلیقات و علمی کاموں کو پروان چڑھانا ہوگا۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید بھارت میں اردو کی معنویت اور رسائی کو مستحکم کرنے میں کونسل کا کلیدی کردار ہے۔
کونسل کے افسران نے رکن پارلیمان کو اردو اور اس سے منسلک زبانوں کے فروغ کے لیے جاری اسکیموں، پروگراموں اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک گیر سطح پر ادبی تقریبات، نمائشوں اور ورکشاپس کے ذریعے کونسل کی رسائی اور اثر کو مزید بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اس ملاقات میں جن اہم افسران اور عملے نے شرکت کی ان میں شامل تھے: ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی (اسسٹنٹ ڈائریکٹر، اکیڈمک)، محمد احمد (اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ایڈمنسٹریشن)، ڈاکٹر کلیم اللہ (ریسرچ آفیسر)، انتخاب احمد (ریسرچ آفیسر)، اجمل سعید (اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر)، ڈاکٹر مسرّت (ریسرچ آفیسر)، ڈاکٹر عبدالباری (اسسٹنٹ ایڈیٹر) اور نیلم رانی (جے اے اے او)۔
واضح رہے کہ NCPUL وزارت تعلیم، حکومتِ ہند کے تحت کام کرنے والا ادارہ ہے، جسے اردو، عربی اور فارسی زبانوں کے فروغ اور اشاعت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ ادارہ پورے بھارت میں اپنی موجودگی کے ساتھ قومی لسانی و ثقافتی ورثے کے تحفظ و فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں