کون بنے گا اگلا نائب صدر ؟

نریندر مودی وہ واحد وزیر اعظم ہیں جن کی قیادت میں حکومت اس حد تک پر اسرار ہو چکی ہے کہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا کب کیا ہونے والا ہے۔ نہ کوئی خبر لیک ہوتی ہے، نہ کوئی عندیہ دیا جاتا ہے، اور نہ ہی کسی سیاسی تجزیہ نگار کو وزیر اعظم کے ذہن کی سمت کا اندازہ ہوتا ہے۔
جب جگدیپ دھنکھڑ کو نائب صدر نامزد کیا گیا تھا، تب بھی کسی نے ان کا نام نہیں لیا تھا۔ فیصلہ اچانک آیا، پارٹی نے حمایت کر دی، میڈیا نے تاویلیں تراش لیں، اور قافلہ چل پڑا۔خاص طور پر آرٹیکل 370 کی منسوخی بھی اسی طرز پر ہوئی۔ کوئی پیشگی اشارہ نہیں، کوئی عوامی بحث نہیں، صرف ایک خاموش لیکن فیصلہ کن عمل۔
یہی انداز ہم نے کابینہ میں رد و بدل، گورنروں کی تقرری، اور آئینی عہدوں پر نامزدگیوں میں بارہا دیکھا ہے۔ تجزیہ کار صرف قیاس کرتے ہیں، اور جب فیصلہ سامنے آتا ہے تو وضاحتیں پیچھے پیچھے آتی ہیں۔ یہ انداز صرف حکمت عملی نہیں، بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنایا گیا مودی سرکار کا نظام ہے۔
نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کے اچانک استعفیٰ نے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم کر دیا ہے۔ کئی نام گردش میں ہیں۔کچھ متوقع، کچھ حیران کن،لیکن اگر گزشتہ ایک دہائی کی مودی حکومت سے کوئی سبق حاصل ہوا ہے تو وہ یہی ہے: قیاس آرائی بےکار ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

کون بنے گا اگلا نائب صدر ؟

نریندر مودی وہ واحد وزیر اعظم ہیں جن کی قیادت میں حکومت اس حد تک پر اسرار ہو چکی ہے کہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا کب کیا ہونے والا ہے۔ نہ کوئی خبر لیک ہوتی ہے، نہ کوئی عندیہ دیا جاتا ہے، اور نہ ہی کسی سیاسی تجزیہ نگار کو وزیر اعظم کے ذہن کی سمت کا اندازہ ہوتا ہے۔
جب جگدیپ دھنکھڑ کو نائب صدر نامزد کیا گیا تھا، تب بھی کسی نے ان کا نام نہیں لیا تھا۔ فیصلہ اچانک آیا، پارٹی نے حمایت کر دی، میڈیا نے تاویلیں تراش لیں، اور قافلہ چل پڑا۔خاص طور پر آرٹیکل 370 کی منسوخی بھی اسی طرز پر ہوئی۔ کوئی پیشگی اشارہ نہیں، کوئی عوامی بحث نہیں، صرف ایک خاموش لیکن فیصلہ کن عمل۔
یہی انداز ہم نے کابینہ میں رد و بدل، گورنروں کی تقرری، اور آئینی عہدوں پر نامزدگیوں میں بارہا دیکھا ہے۔ تجزیہ کار صرف قیاس کرتے ہیں، اور جب فیصلہ سامنے آتا ہے تو وضاحتیں پیچھے پیچھے آتی ہیں۔ یہ انداز صرف حکمت عملی نہیں، بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنایا گیا مودی سرکار کا نظام ہے۔
نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کے اچانک استعفیٰ نے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم کر دیا ہے۔ کئی نام گردش میں ہیں۔کچھ متوقع، کچھ حیران کن،لیکن اگر گزشتہ ایک دہائی کی مودی حکومت سے کوئی سبق حاصل ہوا ہے تو وہ یہی ہے: قیاس آرائی بےکار ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں