اسپتالوں کی حرمت اور انسانیت کی پامالی؟

اس ہفتے ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں دورانِ ڈیوٹی ایک ڈاکٹر پر حملہ بلاشبہ ایک سنگین جرم ہے اور اس کے مرتکب شخص کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے جیساکہ اسپتال انتظامیہ نے موصوف کیخلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں، خاص طور پر ان اداروں میں جہاں انسانوں کی جانیں بچائی جاتی ہیں۔ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
لیکن سوال صرف اتنا نہیں۔ اس افسوسناک واقعے کے ردعمل میں جو کچھ ہوا، وہ بھی کم قابلِ مذمت نہیں۔ احتجاج کے نام پر اسپتال کے دروازے بند کر دینا، مریضوں کو علاج سے محروم کرنا، اور سینکڑوں بے کس لوگوں کو تڑپتا چھوڑ دینابھی انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہے۔
جو لوگ کسی ایک شخص کے جرم کی سزا معصوم اور مجبور مریضوں کو دے رہے تھے، وہ کس اصولِ اخلاق، کس پیشہ ورانہ ذمہ داری، اور کس ضمیر کی نمائندگی کر رہے تھے؟
ڈاکٹری ایک مقدس پیشہ ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جہاں انسان نہ صرف اپنا علم، بلکہ رحم دلی، صبر، اور قربانی پیش کرتا ہے۔ لیکن ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر جس طرح مریض کراہتے رہے، ان کے تیماردار بے بسی سے مدد کے لیے پکارتے رہے، اور اسپتال کے اندر دروازے بند کر کے احتجاج ہوتا رہا،اس نے اس عظیم پیشے کو شرمندہ کر دیا۔
اس کے علاوہ احتجاج کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بدسلوکی بھی قابلِ افسوس ہے۔ آزاد میڈیا کو دبانے اور سچ چھپانے کی یہ کوشش خود اسپتال انتظامیہ کے دعووں کو مشکوک بنا دیتی ہے۔ اگر احتجاج نہیں ہوا تو مریض باہر کیوں تڑپتے رہے؟ اگر سب کچھ معمول پر تھا تو میڈیا کو اندر جانے سے کیوں روکا گیا؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور معاشرہ ایسے رویوں کا محاسبہ کریں۔ نہ تو تشدد قبول ہے، نہ مریضوں کو یرغمال بنانا، اور نہ ہی سچ کو دبانا۔ اسپتال احتجاج کی جگہ نہیں، زندگی بچانے کا مرکز ہیں۔ وہاں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے، ہر جان کا تحفظ لازم ہے، اور ہر درد کا علاج ایک ذمہ داری ہے۔
ان لمحوں کی کراہیں، ان آنکھوں کی بے بسی، اور ان دروازوں کے پیچھے کی سرد مہری طویل عرصے تک اس پیشے کو سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا رکھے گی۔ یاد رکھیے، انسانیت کسی بھی احتجاج سے بڑی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

اسپتالوں کی حرمت اور انسانیت کی پامالی؟

اس ہفتے ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں دورانِ ڈیوٹی ایک ڈاکٹر پر حملہ بلاشبہ ایک سنگین جرم ہے اور اس کے مرتکب شخص کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے جیساکہ اسپتال انتظامیہ نے موصوف کیخلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں، خاص طور پر ان اداروں میں جہاں انسانوں کی جانیں بچائی جاتی ہیں۔ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
لیکن سوال صرف اتنا نہیں۔ اس افسوسناک واقعے کے ردعمل میں جو کچھ ہوا، وہ بھی کم قابلِ مذمت نہیں۔ احتجاج کے نام پر اسپتال کے دروازے بند کر دینا، مریضوں کو علاج سے محروم کرنا، اور سینکڑوں بے کس لوگوں کو تڑپتا چھوڑ دینابھی انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہے۔
جو لوگ کسی ایک شخص کے جرم کی سزا معصوم اور مجبور مریضوں کو دے رہے تھے، وہ کس اصولِ اخلاق، کس پیشہ ورانہ ذمہ داری، اور کس ضمیر کی نمائندگی کر رہے تھے؟
ڈاکٹری ایک مقدس پیشہ ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جہاں انسان نہ صرف اپنا علم، بلکہ رحم دلی، صبر، اور قربانی پیش کرتا ہے۔ لیکن ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر جس طرح مریض کراہتے رہے، ان کے تیماردار بے بسی سے مدد کے لیے پکارتے رہے، اور اسپتال کے اندر دروازے بند کر کے احتجاج ہوتا رہا،اس نے اس عظیم پیشے کو شرمندہ کر دیا۔
اس کے علاوہ احتجاج کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بدسلوکی بھی قابلِ افسوس ہے۔ آزاد میڈیا کو دبانے اور سچ چھپانے کی یہ کوشش خود اسپتال انتظامیہ کے دعووں کو مشکوک بنا دیتی ہے۔ اگر احتجاج نہیں ہوا تو مریض باہر کیوں تڑپتے رہے؟ اگر سب کچھ معمول پر تھا تو میڈیا کو اندر جانے سے کیوں روکا گیا؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور معاشرہ ایسے رویوں کا محاسبہ کریں۔ نہ تو تشدد قبول ہے، نہ مریضوں کو یرغمال بنانا، اور نہ ہی سچ کو دبانا۔ اسپتال احتجاج کی جگہ نہیں، زندگی بچانے کا مرکز ہیں۔ وہاں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے، ہر جان کا تحفظ لازم ہے، اور ہر درد کا علاج ایک ذمہ داری ہے۔
ان لمحوں کی کراہیں، ان آنکھوں کی بے بسی، اور ان دروازوں کے پیچھے کی سرد مہری طویل عرصے تک اس پیشے کو سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا رکھے گی۔ یاد رکھیے، انسانیت کسی بھی احتجاج سے بڑی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں