ممبئی میں 11 جولائی 2006 کے سلسلہ وار ٹرین دھماکوں کے تمام ملزمان کی حالیہ بریت ہندوستانی عدالتی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔ 19 برس بعد جب بمبئی ہائی کورٹ نے سبھی ملزمان کو بے قصور قرار دیا تو عوام، خاص طور پر متاثرین کے لواحقین، حیرت اور صدمے میں ڈوب گئے۔ اگر یہ لوگ بے گناہ تھے، تو پھر 180 سے زائد شہریوں کا قاتل کون ہے؟ اور اگر یہ واقعی مجرم تھے، تو پھر ریاستی پولیس اور استغاثہ انصاف دلانے میں ناکام کیوں رہے؟
اس واقعے نے ہمارے عدالتی نظام کی سست رفتاری اور کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ 2015 میں خصوصی عدالت نے 12 افراد کو سزا سنائی تھی، جن میں پانچ کو سزائے موت دی گئی تھی۔ لیکن 2024 میں ہائی کورٹ نے تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔ یہ تضاد نہ صرف قانون کے وقار کو مجروح کرتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی کی تحقیقاتی ایجنسیاں اکثر دباؤ میں کام کرتی ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات کے بعد فوری گرفتاری کا سیاسی اور عوامی دباؤ غلطیوں کا باعث بنتا ہے۔ عینی شاہدین گواہی دینے سے ڈرتے ہیں، اور ہمارا گواہ تحفظ پروگرام نہایت کمزور ہے۔ سائنسی ثبوت اور ویڈیو ریکارڈ شدہ بیانات کا فقدان عدالتی تسلیم میں رکاوٹ بنتا ہے۔
ایسے میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی 95 فیصد سزا کی شرح امید کی کرن ہے۔ لیکن اسے آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے اور دیگر ریاستی اداروں کو بھی تربیت دی جائے۔
2006کیس ہماری اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم انصاف کے نظام کو درست کریں تاکہ نہ بے گناہ جیل جائیں، نہ دہشت گرد آزاد گھومیں۔


