جنگ نیوز ڈیسک
وزیر اعظم نریندر مودی نے مانسون اجلاس 2025 کے آغاز سے قبل پارلیمنٹ میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے اسے ترقی، اختراعات اور قومی فخر کا لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مانسون نئی شروعات کی علامت ہے اور موجودہ بارشیں زراعت و معیشت کے لیے نفع بخش ثابت ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کے ذخائر میں پچھلی دہائی کی نسبت تین گنا اضافہ ہوا ہے، جو ملک کی معیشت کے لیے سودمند ہے۔
انہوں نے خلائی مشن میں ترنگے کی نمائندگی کو ہندوستان کی سائنس و ٹیکنالوجی کی فتح قرار دیا اور کہا کہ اس کامیابی نے پورے ملک میں جوش اور ولولہ پیدا کیا ہے۔ آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی افواج نے 22 منٹ میں اہداف کو کامیابی سے تباہ کیا، جو ملک کی دفاعی طاقت کا ثبوت ہے۔
مودی نے ‘‘میڈ اِن انڈیا’’ دفاعی سامان کی عالمی سطح پر پذیرائی، مہنگائی میں کمی، اور 25 کروڑ افراد کے خط افلاس سے نکلنے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یو پی آئی اور ڈیجیٹل انڈیا جیسے اقدامات نے ہندوستان کو دنیا کے صف اول کے ڈیجیٹل معیشتوں میں شامل کر دیا ہے۔
عالمی اداروں کی جانب سے ہندوستان کو ٹراکوما سے پاک ملک قرار دینے اور 90 کروڑ افراد کے سماجی تحفظ میں شامل ہونے کو بڑی کامیابیاں قرار دیا۔ پہلگام قتل عام کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس واقعے نے دنیا کی توجہ دہشت گردی کی طرف مبذول کرائی، اور پاکستان کو عالمی سطح پر دہشت گردی کے اسپانسر کے طور پر بے نقاب کیا گیا۔
انہوں نے نکسل ازم کے خاتمے، ریڈ کوریڈور کے ‘گرین گروتھ زون’ میں تبدیل ہونے، اور قومی سلامتی کو مستحکم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک امن و ترقی کی طرف گامزن ہے۔
وزیر اعظم نے تمام سیاسی جماعتوں اور اراکین پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ قومی مفاد میں متحد ہو کر کام کریں، اور سیشن کے دوران مثبت، نتیجہ خیز بحث کو یقینی بنائیں تاکہ ملک کی ترقی کو تقویت ملے۔


