تاریخی ورثہ اور ہندوستان کی تہذیبی شناخت

"ہندوستان کی تاریخ غلامی کی نہیں، بلکہ فتح و ظفر کی ہے- نریندر مودی
حالیہ دنوں یونیسکو کی عالمی ثقافتی فہرست میں مرہٹہ فوجی ورثے کی شمولیت ایک اہم پیش رفت ہے، جو ہندوستانی تاریخ کے اُس پہلو کو تسلیم کرتی ہے جسے طویل عرصے تک نظرانداز کیا گیا: تہذیبی فخر، مزاحمت اور قومی عظمت۔
افسوس کہ آزادی کے بعد بھی ہمارے تعلیمی اداروں، نصابی کتب اور آثارِ قدیمہ کے اداروں میں نوآبادیاتی ذہنیت کا غلبہ برقرار رہا۔ تاریخی بیانیہ شکست، غلامی اور حملہ آوروں کی فتوحات کے گرد گھومتا رہا۔ اپنے ہیروز، اپنی تہذیب اور اپنی کامیابیوں کو یا تو نظر انداز کیا گیا یا مٹی تلے دفن کر دیا گیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں پہلی مرتبہ اس سوچ کو بدلنے کی سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں۔ رانی درگاوتی، مہاراجہ سُہیل دیو، آننگ پال، لچت برفکن، بابا بگل سنگھ جیسے نام دوبارہ قومی شعور میں زندہ کیے جا رہے ہیں۔ راکھی گڑھی کی کھدائی، آننگ تال کی بحالی، اور شیواجی کی بحری علامت کو بھارتی بحریہ کے نشان میں شامل کرنا، اسی فکری جہت کا حصہ ہیں۔
لیکن چیلنج اب بھی باقی ہے۔ مرہٹہ ملکہ ترابائی کی آخری آرام گاہ کھنڈر بن چکی ہے، جبکہ افضل خان کی بیویوں کی قبریں قومی یادگار قرار پا چکی ہیں۔ میرٹھ کی آگرناتھ مندر، جہاں 1857 کی تحریک کے انقلابی جمع ہوئے، آج بھی نظرانداز ہے، جبکہ برطانوی فوجیوں کی گمنام قبروں کو قومی اہمیت حاصل ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر کے بچپن کے اسکول اور "سنکلپ بھومی” آج بھی یادگار کا درجہ حاصل نہیں کر سکے۔
اسی طرح مارٹنڈ سوریا مندر، پاریہاس پور اور ہروان جیسے کشمیری آثار، جن کی تہذیبی حیثیت مسلم ہے، نہ کبھی یونیسکو کے لیے نامزد کیے گئے اور نہ ہی وہاں کوئی محافظ موجود ہے۔
آج ضرورت ہے کہ ہم آثارِ قدیمہ سے جُڑے تمام اداروں کی ساخت و سوچ کا جائزہ لیں، اور ایک "تہذیبی فاؤنڈیشن” قائم کریں جو صرف حملہ آوروں کی قبروں نہیں بلکہ ہندوستانی مزاحمت، روحانی ورثے اور انقلابی یادگاروں کی بھی حفاظت کرے۔
ہندوستان کی تاریخ صرف غلامی نہیں، تہذیبی عظمت اور مسلسل مزاحمت کی تاریخ ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ ہمارے آثار ہماری اصل کہانی سنائیں ہماری اپنی زبان میں، ہمارے اپنے شعور کے ساتھ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تاریخی ورثہ اور ہندوستان کی تہذیبی شناخت

"ہندوستان کی تاریخ غلامی کی نہیں، بلکہ فتح و ظفر کی ہے- نریندر مودی
حالیہ دنوں یونیسکو کی عالمی ثقافتی فہرست میں مرہٹہ فوجی ورثے کی شمولیت ایک اہم پیش رفت ہے، جو ہندوستانی تاریخ کے اُس پہلو کو تسلیم کرتی ہے جسے طویل عرصے تک نظرانداز کیا گیا: تہذیبی فخر، مزاحمت اور قومی عظمت۔
افسوس کہ آزادی کے بعد بھی ہمارے تعلیمی اداروں، نصابی کتب اور آثارِ قدیمہ کے اداروں میں نوآبادیاتی ذہنیت کا غلبہ برقرار رہا۔ تاریخی بیانیہ شکست، غلامی اور حملہ آوروں کی فتوحات کے گرد گھومتا رہا۔ اپنے ہیروز، اپنی تہذیب اور اپنی کامیابیوں کو یا تو نظر انداز کیا گیا یا مٹی تلے دفن کر دیا گیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں پہلی مرتبہ اس سوچ کو بدلنے کی سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں۔ رانی درگاوتی، مہاراجہ سُہیل دیو، آننگ پال، لچت برفکن، بابا بگل سنگھ جیسے نام دوبارہ قومی شعور میں زندہ کیے جا رہے ہیں۔ راکھی گڑھی کی کھدائی، آننگ تال کی بحالی، اور شیواجی کی بحری علامت کو بھارتی بحریہ کے نشان میں شامل کرنا، اسی فکری جہت کا حصہ ہیں۔
لیکن چیلنج اب بھی باقی ہے۔ مرہٹہ ملکہ ترابائی کی آخری آرام گاہ کھنڈر بن چکی ہے، جبکہ افضل خان کی بیویوں کی قبریں قومی یادگار قرار پا چکی ہیں۔ میرٹھ کی آگرناتھ مندر، جہاں 1857 کی تحریک کے انقلابی جمع ہوئے، آج بھی نظرانداز ہے، جبکہ برطانوی فوجیوں کی گمنام قبروں کو قومی اہمیت حاصل ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر کے بچپن کے اسکول اور "سنکلپ بھومی” آج بھی یادگار کا درجہ حاصل نہیں کر سکے۔
اسی طرح مارٹنڈ سوریا مندر، پاریہاس پور اور ہروان جیسے کشمیری آثار، جن کی تہذیبی حیثیت مسلم ہے، نہ کبھی یونیسکو کے لیے نامزد کیے گئے اور نہ ہی وہاں کوئی محافظ موجود ہے۔
آج ضرورت ہے کہ ہم آثارِ قدیمہ سے جُڑے تمام اداروں کی ساخت و سوچ کا جائزہ لیں، اور ایک "تہذیبی فاؤنڈیشن” قائم کریں جو صرف حملہ آوروں کی قبروں نہیں بلکہ ہندوستانی مزاحمت، روحانی ورثے اور انقلابی یادگاروں کی بھی حفاظت کرے۔
ہندوستان کی تاریخ صرف غلامی نہیں، تہذیبی عظمت اور مسلسل مزاحمت کی تاریخ ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ ہمارے آثار ہماری اصل کہانی سنائیں ہماری اپنی زبان میں، ہمارے اپنے شعور کے ساتھ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں