صفاپورہ کا سانحہ :انصاف کی پکار

ضلع گاندربل کے صفاپورہ علاقے میں پیر کے روز اُس وقت شدید کشیدگی دیکھنے کو ملی جب ایک 28 سالہ خاتون کے مبینہ قتل کے بعد اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔
ایسے دلخراش واقعات محض جرائم نہیں، بلکہ وہ سنگین یاد دہانیاں ہیں کہ آج کے معاشرے میں خواتین اب بھی کس قدر غیر محفوظ ہیں۔ ہر ایسا سانحہ نہ صرف ایک خاندان کو تباہ کرتا ہے بلکہ معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے اور ریاستی نظام انصاف کی سست روی اور بے حسی پر سوالیہ نشان بھی چھوڑ جاتا ہے۔
کشمیر جیسے حساس خطے میںجہاں سیاسی اور سماجی مسائل کی بھرمار ہے، گھریلو تشدد اور صنفی جرائم اکثر پردۂ خفا میں چلے جاتے ہیں۔ صفاپورہ کے شہریوں کا سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا اس غم اور بے بسی کا اظہار ہے جو ایک طویل عرصے سے ان کے اندر جمع ہو رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب عوام کو انصاف مانگنے کے لیے سڑکوں پر آنا پڑے، تو یہ ریاستی اداروں کی ناکامی کا واضح اشارہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے میں فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے اور مجرم قانون کی گرفت میں آئیں۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر قوانین پر سختی سے عملدرآمد، سماجی آگاہی، اور مددگار اداروں کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ہمیں یہ واقعہ محض ایک خبر یا واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے ایک موقع بنانا چاہیے۔ایسا موقع جو ہمیں بحیثیت قوم یہ سوچنے پر مجبور کرے کہ ہم کب تک مظلوم کی آواز کو دبنے دیں گے؟ اگر آج انصاف نہیں ملا، تو کل کے صفاپورہ کہیں اور ہوں گے، اور ماتم کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جائے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

صفاپورہ کا سانحہ :انصاف کی پکار

ضلع گاندربل کے صفاپورہ علاقے میں پیر کے روز اُس وقت شدید کشیدگی دیکھنے کو ملی جب ایک 28 سالہ خاتون کے مبینہ قتل کے بعد اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔
ایسے دلخراش واقعات محض جرائم نہیں، بلکہ وہ سنگین یاد دہانیاں ہیں کہ آج کے معاشرے میں خواتین اب بھی کس قدر غیر محفوظ ہیں۔ ہر ایسا سانحہ نہ صرف ایک خاندان کو تباہ کرتا ہے بلکہ معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے اور ریاستی نظام انصاف کی سست روی اور بے حسی پر سوالیہ نشان بھی چھوڑ جاتا ہے۔
کشمیر جیسے حساس خطے میںجہاں سیاسی اور سماجی مسائل کی بھرمار ہے، گھریلو تشدد اور صنفی جرائم اکثر پردۂ خفا میں چلے جاتے ہیں۔ صفاپورہ کے شہریوں کا سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا اس غم اور بے بسی کا اظہار ہے جو ایک طویل عرصے سے ان کے اندر جمع ہو رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب عوام کو انصاف مانگنے کے لیے سڑکوں پر آنا پڑے، تو یہ ریاستی اداروں کی ناکامی کا واضح اشارہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے میں فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے اور مجرم قانون کی گرفت میں آئیں۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر قوانین پر سختی سے عملدرآمد، سماجی آگاہی، اور مددگار اداروں کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ہمیں یہ واقعہ محض ایک خبر یا واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے ایک موقع بنانا چاہیے۔ایسا موقع جو ہمیں بحیثیت قوم یہ سوچنے پر مجبور کرے کہ ہم کب تک مظلوم کی آواز کو دبنے دیں گے؟ اگر آج انصاف نہیں ملا، تو کل کے صفاپورہ کہیں اور ہوں گے، اور ماتم کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جائے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں