غزل-میر شہریار

میر شہریار
درپن درپن ڈھونڈ رہا ہے بھولی بسری صورت اپنی
کچھ دیوانے کو یاد نہیں کیسی تھی کیا تھی حالت اپنی
جب سے میرےنین ملے نیلی نینو والی دیوی سے
بدلے بدلے حال ہیں اپنے بدلی بدلی رنگت اپنی
اس عشق میں ہے گلی گلی بدنامی کوچہ کوچہ رسوائی
وہ اپنے گھر میں ہی رہے جس کو پیاری ہو عزت اپنی
کیا فائدہ ہے ایسے نہ تو تو رہتا ہے نہ میں میں رہتا ہوں
ایسی روکھی روکھی یاری سے بہتر ہے خلوت اپنی
سانجھ سویرے کیوں ہاتھوں میں تو بادل بادل پھرتا ہے
گھر کی حالت دیکھ زرا گرتی ہے شبنم سے چھت اپنی
یہ بازارِ دل ہے یہاں یہ کھوٹے سکے نہیں چلتے ہیں
چل اپنی دنیا دنیا والے جیب میں رکھ دولت اپنی
خود کو سستا سمجھ کر میں نے لایا تھا بازار میں خود کو
کوئی اپنا خریدار جب نہ پایا تو میں سمجھا قیمت اپنی
صدیوں صدیوں گھر نہیں آیا جہاں سے ابھی تک بھر نہیں پایا
کیسے آج اک مدت کے بعد پڑ گئ مجھ کو ضرورت اپنی
یہ سودا گھاٹے کا سودا ہے دل جانے دے جانے دے
سارا جیون مانگ رہی ہے کتنی مہنگی ہے حسرت اپنی
دل کے ویرانے میں ہم نے دل سے کی تھی درد کی کھیتی
موسموں نے ہی کروٹ بدلی رنگ کیا لاتی محنت اپنی
وحشت وحشت صحرا صحرا رستہ رستہ گرد کا پہرہ
ایسی دھندلی دھندلی فضا میں ماند پڑی ہے مورت اپنی
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

غزل-میر شہریار

میر شہریار
درپن درپن ڈھونڈ رہا ہے بھولی بسری صورت اپنی
کچھ دیوانے کو یاد نہیں کیسی تھی کیا تھی حالت اپنی
جب سے میرےنین ملے نیلی نینو والی دیوی سے
بدلے بدلے حال ہیں اپنے بدلی بدلی رنگت اپنی
اس عشق میں ہے گلی گلی بدنامی کوچہ کوچہ رسوائی
وہ اپنے گھر میں ہی رہے جس کو پیاری ہو عزت اپنی
کیا فائدہ ہے ایسے نہ تو تو رہتا ہے نہ میں میں رہتا ہوں
ایسی روکھی روکھی یاری سے بہتر ہے خلوت اپنی
سانجھ سویرے کیوں ہاتھوں میں تو بادل بادل پھرتا ہے
گھر کی حالت دیکھ زرا گرتی ہے شبنم سے چھت اپنی
یہ بازارِ دل ہے یہاں یہ کھوٹے سکے نہیں چلتے ہیں
چل اپنی دنیا دنیا والے جیب میں رکھ دولت اپنی
خود کو سستا سمجھ کر میں نے لایا تھا بازار میں خود کو
کوئی اپنا خریدار جب نہ پایا تو میں سمجھا قیمت اپنی
صدیوں صدیوں گھر نہیں آیا جہاں سے ابھی تک بھر نہیں پایا
کیسے آج اک مدت کے بعد پڑ گئ مجھ کو ضرورت اپنی
یہ سودا گھاٹے کا سودا ہے دل جانے دے جانے دے
سارا جیون مانگ رہی ہے کتنی مہنگی ہے حسرت اپنی
دل کے ویرانے میں ہم نے دل سے کی تھی درد کی کھیتی
موسموں نے ہی کروٹ بدلی رنگ کیا لاتی محنت اپنی
وحشت وحشت صحرا صحرا رستہ رستہ گرد کا پہرہ
ایسی دھندلی دھندلی فضا میں ماند پڑی ہے مورت اپنی
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون