مجروح سلطان پوری: نغموں کا شاعر، انقلابی فکر کا پیامبر

سرینگر جنگ فیچر

پیدائش: یکم اکتوبر 1919
مقام: سلطان پور، اترپردیش، برطانوی ہندوستان
وفات: 24 مئی 2000، ممبئی، بھارت

مجروح سلطان پوری، جن کا اصل نام اسرار الحسن خان تھا، ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم عربی اور فارسی میں حاصل کی، اور بعد ازاں لکھنؤ کے تکمیل الطب کالج سے یونانی طب (حکمت) کی تعلیم مکمل کی۔ وہ ایک سند یافتہ حکیم بنے، لیکن دل کی دنیا میں شاعری کا چراغ روشن تھا۔
انھوں نے مشاعروں میں شرکت کرنا شروع کی اور بہت جلد مجروح کے قلمی نام سے پہچانے جانے لگے۔ ان کے اشعار میں فکری گہرائی، فنی چمک، اور سماجی شعور جھلکتا تھا۔
ادبی سفر اور ترقی پسند تحریک
مجروح نے جلد ہی اردو ادب کی معروف ترقی پسند تحریک میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس تحریک کا مقصد ادب کے ذریعے ظلم، استحصال، فرقہ پرستی اور سامراجی قوتوں کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ اُن کی شاعری میں محبت، بغاوت، انسان دوستی اور حوصلے کی جھلک نمایاں ہے۔
ایک مشہور انقلابی شعر:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
1945 کے ایک مشاعرے میں، جب وہ بمبئی (ممبئی) میں اپنا کلام سنا رہے تھے، فلم ساز اے آر کاردار اور موسیقار نوشاد نے اُن کے اشعار سے متاثر ہوکر فلموں میں نغمہ نگاری کی دعوت دی۔ پہلے تو مجروح نے انکار کیا، مگر بعد میں رضامند ہوئے اور 1946 میں فلم "شاہ جہاں” سے فلمی سفر کا آغاز کیا، جس میں کے ایل سہگل کے لیے نغمے لکھے۔
یہی آغاز ایک تاریخی سفر میں بدل گیا۔
مجروح سلطان پوری نے پچاس سال سے زیادہ فلمی دنیا میں خدمات انجام دیں اور ہزاروں گیت لکھے۔ وہ ان نغمہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے فلمی گیت کو ادبی وقار بخشا۔ یہ فیچر آپ روزنامہ سرینگر جنگ کی وئب سائٹ پر پڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے ان موسیقاروں کے ساتھ کام کیا:
نوشاد
ایس ڈی برمن
آر ڈی برمن
او پی نیر
لکشمی کانت-پیاری لال
انو ملک
جاوید اختر، جتن-للت
مشہور نغمے:
چھوڑ دو آنچل زمانہ کیا کہے گا – پے انگ گیسٹ (1957)
رات کالی ایک خواب میں آئی – بدھّا مل گیا (1971)
پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا – قیامت سے قیامت تک (1988)
اے میرے ہمسفر – بازیگر (1992)
1949 میں مجروح نے ایک نظم میں اس وقت کے وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو پر تنقید کی، جس کے نتیجے میں انھیں ایک سال کی قید ہوئی۔ یہ واقعہ اُن کے انقلابی مزاج اور اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے ان کے عزم کا ثبوت تھا۔
اعزازات اور انعامات
دادا صاحب پھالکے ایوارڈ (1993) — یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے نغمہ نگار
فلم فیئر ایوارڈ – فلم دوستی (1965) کے لیے بہترین نغمہ
1945 میں ایک مشاعرے میں ان کے کلام نے سامعین کو متاثر کیا، جس کے بعد ایک معروف فلم ساز نے انہیں فلمی دنیا میں نغمہ نگاری کی دعوت دی۔ ابتدا میں انہوں نے فلموں کے لیے لکھنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ اس میڈیم کو سنجیدہ نہیں سمجھتے تھے، لیکن بعد میں رضامند ہو گئے۔
انہیں موسیقار نوشاد کے پاس لے جایا گیا جنہوں نے انہیں ایک دھن دی اور اسی بحر میں کچھ لکھنے کو کہا۔ مجروح نے وہ دھن سن کر لکھا:
جب اس نے گیسو بکھرائے، بادل آئے جھوم کے…
یہ کلام اتنا پسند کیا گیا کہ انہیں فلم شاہ جہاں (1946) کے لیے بطور نغمہ نگار منتخب کر لیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد فلموں جیسے ناٹک (1947)، ڈولی (1947) اور انجمن (1948) کے لیے گیت لکھے، مگر ان کا اصل مقام فلم انداز (1949) سے قائم ہوا۔
سیاسی وابستگی اور قید و بند
مجروح سلطان پوری کی شاعری میں انقلابی اور بائیں بازو کے رجحانات نمایاں تھے۔ جب ان کے کچھ اشعار حکومت مخالف سمجھے گئے، تو انہیں دیگر ترقی پسندوں کے ساتھ 1949 میں جیل بھیج دیا گیا۔ یہ فیچر آپ روزنامہ سرینگر جنگ کی وئب سائٹ پر پڑھ رہے ہیں۔
اُن سے معافی مانگنے کو کہا گیا، مگر انہوں نے انکار کیا اور دو سال قید کی سزا بھگتی۔
ایک اور موقع پر، جب انہوں نے ایک نظم میں جواہر لعل نہرو کا تقابل ہٹلر سے کیا، تو 1951 میں دوبارہ گرفتار کر لیے گئے۔
قید کے بعد انہیں فلمی دنیا میں دوبارہ خود کو منوانا پڑا۔ ان کی کامیابی کا نیا دور باز (1953) سے شروع ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد موسیقاروں کے ساتھ کام کیا، جن میں نوشاد، انیل بسواس، غلام محمد، مدن موہن، او پی نیر، روشن، سلیل چودھری، کلیانجی-آنند جی، لکشمی کانت-پیاری لال اور آر ڈی برمن شامل ہیں۔
اعزازات
مجروح سلطان پوری کو ان کی گیت نگاری کے لیے 1965 میں فلم دوستی کے گانے "چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے” پر فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔
انہیں 1993 میں ہندوستان کے سب سے بڑے فلمی اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے نغمہ نگار تھے۔
ان کی زندگی کی آخری فلم ون ٹو کا فور تھی، جو ان کے انتقال کے بعد ریلیز ہوئی۔
مجروح سلطان پوری اردو شاعری اور بھارتی سنیما کا ایک لازوال نام ہیں۔ ان کی شاعری میں جہاں رومان کی نزاکت ہے، وہیں انقلابی فکر اور عوامی آواز بھی ہے۔ اُن کا ادبی و فلمی ورثہ آج بھی زندہ ہے، اور اُن کے اشعار آنے والی نسلوں کے لیے تحریک کا ذریعہ رہیں گے۔
فلمی مصروفیات کے باوجود مجروح نے کبھی اردو شاعری کو نہیں چھوڑا۔ ان کے دیوان اور مجموعے آج بھی ادبِ عالیہ میں شمار ہوتے ہیں۔
ان کے کلام میں روایت اور جدیدیت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ وہ غزل، نظم، ترانہ اور انقلابی شاعری ہر میدان میں ممتاز رہے۔
24 مئی 2000 کو مجروح سلطان پوری اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، لیکن ان کے نغمے، اشعار، اور فکری خدمات آج بھی زندہ ہیں۔ یہ فیچر آپ روزنامہ سرینگر جنگ کی وئب سائٹ پر پڑھ رہے ہیں۔
ممبئی میں ان کی تدفین کے موقع پر فلمی اور ادبی دنیا کے بڑے ناموں نے شرکت کی، اور اُن کے انتقال کو ایک ادبی و تہذیبی سانحہ قرار دیا۔
مجروح سلطان پوری نہ صرف ایک عظیم شاعر تھے بلکہ ادب اور عوامی شعور کے درمیان ایک پل تھے۔
انھوں نے اردو شاعری کو فلمی دنیا میں ایسا مقام دیا جو آج تک برقرار ہے۔ ان کے گیتوں میں روح کی لطافت، عشق کی شدت اور سماج کی سچائیاں ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔
ان کا یہ شعر اُن کی پوری زندگی کا نچوڑ ہے:
میں زمانے سے نہیں، اپنے جنوں سے مجبور
میرے شعلے نہ بجھاؤ، مجھے جلنے دو ذرا
مجروح سلطان پوری اردو ادب اور بھارتی سنیما کا ایک درخشاں ستارہ تھے، جنہوں نے شاعری کو عام آدمی کے دل تک پہنچایا۔ آج بھی اُن کے نغمے، مشاعروں کے اشعار اور انقلابی لہجہ نئی نسل کو جذبہ، محبت اور آگہی دیتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

مجروح سلطان پوری: نغموں کا شاعر، انقلابی فکر کا پیامبر

سرینگر جنگ فیچر

پیدائش: یکم اکتوبر 1919
مقام: سلطان پور، اترپردیش، برطانوی ہندوستان
وفات: 24 مئی 2000، ممبئی، بھارت

مجروح سلطان پوری، جن کا اصل نام اسرار الحسن خان تھا، ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم عربی اور فارسی میں حاصل کی، اور بعد ازاں لکھنؤ کے تکمیل الطب کالج سے یونانی طب (حکمت) کی تعلیم مکمل کی۔ وہ ایک سند یافتہ حکیم بنے، لیکن دل کی دنیا میں شاعری کا چراغ روشن تھا۔
انھوں نے مشاعروں میں شرکت کرنا شروع کی اور بہت جلد مجروح کے قلمی نام سے پہچانے جانے لگے۔ ان کے اشعار میں فکری گہرائی، فنی چمک، اور سماجی شعور جھلکتا تھا۔
ادبی سفر اور ترقی پسند تحریک
مجروح نے جلد ہی اردو ادب کی معروف ترقی پسند تحریک میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس تحریک کا مقصد ادب کے ذریعے ظلم، استحصال، فرقہ پرستی اور سامراجی قوتوں کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ اُن کی شاعری میں محبت، بغاوت، انسان دوستی اور حوصلے کی جھلک نمایاں ہے۔
ایک مشہور انقلابی شعر:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
1945 کے ایک مشاعرے میں، جب وہ بمبئی (ممبئی) میں اپنا کلام سنا رہے تھے، فلم ساز اے آر کاردار اور موسیقار نوشاد نے اُن کے اشعار سے متاثر ہوکر فلموں میں نغمہ نگاری کی دعوت دی۔ پہلے تو مجروح نے انکار کیا، مگر بعد میں رضامند ہوئے اور 1946 میں فلم "شاہ جہاں” سے فلمی سفر کا آغاز کیا، جس میں کے ایل سہگل کے لیے نغمے لکھے۔
یہی آغاز ایک تاریخی سفر میں بدل گیا۔
مجروح سلطان پوری نے پچاس سال سے زیادہ فلمی دنیا میں خدمات انجام دیں اور ہزاروں گیت لکھے۔ وہ ان نغمہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے فلمی گیت کو ادبی وقار بخشا۔ یہ فیچر آپ روزنامہ سرینگر جنگ کی وئب سائٹ پر پڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے ان موسیقاروں کے ساتھ کام کیا:
نوشاد
ایس ڈی برمن
آر ڈی برمن
او پی نیر
لکشمی کانت-پیاری لال
انو ملک
جاوید اختر، جتن-للت
مشہور نغمے:
چھوڑ دو آنچل زمانہ کیا کہے گا – پے انگ گیسٹ (1957)
رات کالی ایک خواب میں آئی – بدھّا مل گیا (1971)
پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا – قیامت سے قیامت تک (1988)
اے میرے ہمسفر – بازیگر (1992)
1949 میں مجروح نے ایک نظم میں اس وقت کے وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو پر تنقید کی، جس کے نتیجے میں انھیں ایک سال کی قید ہوئی۔ یہ واقعہ اُن کے انقلابی مزاج اور اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے ان کے عزم کا ثبوت تھا۔
اعزازات اور انعامات
دادا صاحب پھالکے ایوارڈ (1993) — یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے نغمہ نگار
فلم فیئر ایوارڈ – فلم دوستی (1965) کے لیے بہترین نغمہ
1945 میں ایک مشاعرے میں ان کے کلام نے سامعین کو متاثر کیا، جس کے بعد ایک معروف فلم ساز نے انہیں فلمی دنیا میں نغمہ نگاری کی دعوت دی۔ ابتدا میں انہوں نے فلموں کے لیے لکھنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ اس میڈیم کو سنجیدہ نہیں سمجھتے تھے، لیکن بعد میں رضامند ہو گئے۔
انہیں موسیقار نوشاد کے پاس لے جایا گیا جنہوں نے انہیں ایک دھن دی اور اسی بحر میں کچھ لکھنے کو کہا۔ مجروح نے وہ دھن سن کر لکھا:
جب اس نے گیسو بکھرائے، بادل آئے جھوم کے…
یہ کلام اتنا پسند کیا گیا کہ انہیں فلم شاہ جہاں (1946) کے لیے بطور نغمہ نگار منتخب کر لیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد فلموں جیسے ناٹک (1947)، ڈولی (1947) اور انجمن (1948) کے لیے گیت لکھے، مگر ان کا اصل مقام فلم انداز (1949) سے قائم ہوا۔
سیاسی وابستگی اور قید و بند
مجروح سلطان پوری کی شاعری میں انقلابی اور بائیں بازو کے رجحانات نمایاں تھے۔ جب ان کے کچھ اشعار حکومت مخالف سمجھے گئے، تو انہیں دیگر ترقی پسندوں کے ساتھ 1949 میں جیل بھیج دیا گیا۔ یہ فیچر آپ روزنامہ سرینگر جنگ کی وئب سائٹ پر پڑھ رہے ہیں۔
اُن سے معافی مانگنے کو کہا گیا، مگر انہوں نے انکار کیا اور دو سال قید کی سزا بھگتی۔
ایک اور موقع پر، جب انہوں نے ایک نظم میں جواہر لعل نہرو کا تقابل ہٹلر سے کیا، تو 1951 میں دوبارہ گرفتار کر لیے گئے۔
قید کے بعد انہیں فلمی دنیا میں دوبارہ خود کو منوانا پڑا۔ ان کی کامیابی کا نیا دور باز (1953) سے شروع ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد موسیقاروں کے ساتھ کام کیا، جن میں نوشاد، انیل بسواس، غلام محمد، مدن موہن، او پی نیر، روشن، سلیل چودھری، کلیانجی-آنند جی، لکشمی کانت-پیاری لال اور آر ڈی برمن شامل ہیں۔
اعزازات
مجروح سلطان پوری کو ان کی گیت نگاری کے لیے 1965 میں فلم دوستی کے گانے "چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے” پر فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔
انہیں 1993 میں ہندوستان کے سب سے بڑے فلمی اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے نغمہ نگار تھے۔
ان کی زندگی کی آخری فلم ون ٹو کا فور تھی، جو ان کے انتقال کے بعد ریلیز ہوئی۔
مجروح سلطان پوری اردو شاعری اور بھارتی سنیما کا ایک لازوال نام ہیں۔ ان کی شاعری میں جہاں رومان کی نزاکت ہے، وہیں انقلابی فکر اور عوامی آواز بھی ہے۔ اُن کا ادبی و فلمی ورثہ آج بھی زندہ ہے، اور اُن کے اشعار آنے والی نسلوں کے لیے تحریک کا ذریعہ رہیں گے۔
فلمی مصروفیات کے باوجود مجروح نے کبھی اردو شاعری کو نہیں چھوڑا۔ ان کے دیوان اور مجموعے آج بھی ادبِ عالیہ میں شمار ہوتے ہیں۔
ان کے کلام میں روایت اور جدیدیت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ وہ غزل، نظم، ترانہ اور انقلابی شاعری ہر میدان میں ممتاز رہے۔
24 مئی 2000 کو مجروح سلطان پوری اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، لیکن ان کے نغمے، اشعار، اور فکری خدمات آج بھی زندہ ہیں۔ یہ فیچر آپ روزنامہ سرینگر جنگ کی وئب سائٹ پر پڑھ رہے ہیں۔
ممبئی میں ان کی تدفین کے موقع پر فلمی اور ادبی دنیا کے بڑے ناموں نے شرکت کی، اور اُن کے انتقال کو ایک ادبی و تہذیبی سانحہ قرار دیا۔
مجروح سلطان پوری نہ صرف ایک عظیم شاعر تھے بلکہ ادب اور عوامی شعور کے درمیان ایک پل تھے۔
انھوں نے اردو شاعری کو فلمی دنیا میں ایسا مقام دیا جو آج تک برقرار ہے۔ ان کے گیتوں میں روح کی لطافت، عشق کی شدت اور سماج کی سچائیاں ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔
ان کا یہ شعر اُن کی پوری زندگی کا نچوڑ ہے:
میں زمانے سے نہیں، اپنے جنوں سے مجبور
میرے شعلے نہ بجھاؤ، مجھے جلنے دو ذرا
مجروح سلطان پوری اردو ادب اور بھارتی سنیما کا ایک درخشاں ستارہ تھے، جنہوں نے شاعری کو عام آدمی کے دل تک پہنچایا۔ آج بھی اُن کے نغمے، مشاعروں کے اشعار اور انقلابی لہجہ نئی نسل کو جذبہ، محبت اور آگہی دیتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں